پاکستان میں تعلیمی نظام کی بہتری کےلئے ایک فقید المثال ماڈل پیش
  8  مارچ‬‮  2017     |     سائنس/صحت
پاکستان سے برطانیہ، وہاں سے آسٹریلیا، آسٹریلیا سے امریکہ، اور امریکہ سے واپس پاکستان تک ایک ظالمانہ تعلیمی نظام مسلّط ہو چکا ہے، جو طالب علم کوعلم اورکتاب سے بے زار بلکہ متنفّر کیے دیتا ہے۔ گریڈ ون، ٹُو میں پڑھنے والےایک معصوم سے بچے کی روٹین ملاحظہ ہو: 7:50 پر سکول گیٹ پر جلوہ گر ہونا ہے، ورنہ جرم پیشہ late comers کی لائن میں لگ جاؤ۔کبھی مائیں جاگے سوئے بچوں کو یونیفارم پہنا کر دروازے پر کھڑی وین میں ٹھونسے دیتی ہیں۔ جن کو اسکول پہنچ کر پے در پے 8 پیریڈز اٹینڈ کرنا ہیں جن سے متعلق کتابیں اور کاپیاں بستے میں ٹھونس رکھی ہیں۔ٹیچرز پر کام کرانے ، اور ہفتہ وار سلیبس ختم کرانے کا جنون سوار ہے۔ اُدھر بیشتر بچوں پر کام سے پناہ مانگنے، اور ذہنی اور عملی فرار ہو نے کا جنون۔جھوٹ، بہانے بازیاں۔ڈیپریشن اور فرسٹریشن۔ اس بھاری بستے کو دیکھو۔اٹھانے کے لیے ایک پورا گدھا چاہیئے! مختصر سی بریک میں کھانے پینے تک کا ہوش نہیں، کہ بچہ موقع ملتے ہی بھاگنا اور کھیلنا چاہتا ہے۔لنچ باکس اکثر جیسا تیسا واپس آ جاتا ہے۔گھر سے کھا کر جانے کا ہوش نہیں رہا کہ بھوک محسوس نہیں ہوتی۔اُدھر ٹیچرز کی بھی یہی روٹین ہے ۔ چھٹی کے برد گھر آ کر بچوں نے ہوم ورک کرنا ہے۔امتحان کے دنوں میں ان بچوں کی شکلیں دیکھیں تو چہرے کارنگ زردی مائل دیکھ کر ترس آجاتا ہے۔اکثر رٹا پر مبنی مواد ننّھے سے دماغ میں ٹھونسا جا رہا ہے، اور معصوم سی جان کو فیل ہونے کاخوف لاحق ہے۔ ماں باپ پڑھا نہیں سکتے تو ٹیوٹرز ہائر کر رکھے ہیں۔گویا اب شام کو پھر کلاسز ۔پڑھائی الگ، نہ پڑھ سکنے پر نالائقی کے طعنے الگ۔اور یہ روٹین ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ایک سیشن ختم، تو دوسرا شروع۔نئی کتابیں، نئی کاپیاں، نیا عذاب! کیا کوئی حل ہے؟ بس دیکھتے رہو، کڑھتے رہو،خون کے گھونٹ بھرتے رہو۔یہ دنیا اب اسی طرح چلے گی۔ ایک روز شدّت احساس میں ایک کاغذ لیا، اس پر کچھ لکیریں کھینچ کر، چند الفاظ انڈیل کر، پاس بیٹھے ایک کولیگ کی جانب میں جھک سا گیا۔ "سر، یوں ہونا چاہیئے۔ ایسا کیوں نہیں ہو سکتا، آخر؟ " "سکول صبح نو یا ساڑھے نو بجے کھلنا چاہیئے۔ آپا دھاپی والے طوفانی انداز میں دن کا آغاز کرنے کے بجائے relaxedانداز میں گھروں سے رخصت ہوں۔” Why rush? اسی طرح، ورکشاپ والے انداز میں ، 80 منٹس کی بس تین عدد کلاسز ہوں۔ جن میں وہ کوئی سے تین سبجیکٹس پڑھیں جن کے لیے ٹیچر بولے کم اور ورک شیٹس پر خود بچوں کے ہاتھوں کیا کام زیادہ تر مقدار میں سرزد ہو۔ حوصلہ افزائی کی جائے۔ان تین پیریڈز کے بیچ میں ہر مرتبہ آدھ گھنٹے کی بریک ہو۔ بچے بڑے ہوں یا چھوٹے، ان معصوم جانوں کو تازہ دم ہونے کا موقع ملے۔ وہ سکون سے کچھ کھا پی لیں۔ آخر دماغ ہے۔ اسکی استعداد ایک گھنٹے کی مشقت کے بعد کچھ وقفہ مانگتی ہے۔ "ہمایوں صاحب، آپ کی سوچ انقلابی ہے۔ مگر اس طرح کی غیر حقیقی باتیں سوچنے کا کوئی فائدہ! باہر آ جائیں اس یوٹوپین ورلڈ سے۔ بس ایسا ہی چلنا ہے یہ سب کچھ۔” کولیگ نے آہ بھری۔ شب و روز پھر وہی روٹین ۔وہی جگر خراش مناظر۔معصوم چہرے۔چھوٹے بچے، بڑے بچے، ان سے بڑے بچے۔ سب ایک سے معصوم۔ جلد باز۔ کھیلنے اور بھاگنے کے شوقین۔”پڑھائی” کے بوجھ تلے دبے، طعنے سہتے ، کسی انجانے خوف کا شکار۔ "کاش تم محنت کرو، اور پڑھائی کو سنجیدہ لو” کی تکرار۔ پھر وہی شام، وہی غم، وہی تنہائی ہے۔۔۔ وقت کی بے رحم گزران۔اور بے شعور،بے بس، برق رفتار،بے رحم نظام۔ دسمبر 2016 کی سرما کی تعطیلات میں البتہ ایک روز دماغ میں کچھ عجیب جھماکا ہوا۔ ذرا دیکھا تو جائے، اس طوفان میں آیا کوئی ملک، کوئی علاقہ، کوئی بستی ایسی بھی ہے جہاں طلبہ کے لیے حالات مختلف ہوں؟ انٹرنیٹ پر جا کر گوگل کی انگلی تھام لی ۔سرچ پر سرچ داغنے لگا۔ جذِبہ اور امید یہ رہی کہ بقول شاعر ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں تلاش کے اس سفر میں بہت دور نہیں جانا پڑا۔ایک مقام، ایک ملک جلد ہی ہاتھ لگ گیا۔ میں تو جیسے اچھل پڑا۔ گوگل سرچ بار میں آغاز یوں کیا تھا: "دنیا کا بہترین نظام تعلیم”، "دنیا کا ٹاپ نظام تعلیم” وغیرہ۔ گوگل جلد ہی مجھے PISA Test میں ٹاپ سکور کرنے والے ملکوں کی فہرست دکھا رہا تھا۔ PISA Testجس کا آغاز سن 2000 میں ہوا، ہر تین برس بعد منعقد ہوتا ہے۔ یہ ہائی سکول کی سطح کے بچوں کے مابین ریاضی، انگریزی اور سائنس کے مضامین میں مقابلے کا امتحان ہے۔اس کے ممبرز ملکوں کی تعداد 72 ہو چکی۔ ایک بار بھارت نے بھی اس میں شرکت کی، مگر چونکہ اس ٹیسٹ کا مواد مغربی ممالک کی اپنی مخصوص ثقافت سے لگا کھاتا ہے، بھارت اس اعتراض پر دوبارہ شامل نہیں ہوا۔ آگے سنیں۔ سن 2000، 2003اور 2006 میں PISA Test میں ٹاپ کرنے والاایک ایسا ملک سامنے آیا جس کا نام بہت سے لوگ پہلے جانتے تک نہ تھے۔ امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا وغیرہ اس فہرست میں خاصے دور کھڑے تھے۔بارہویں اور چھبیسویں نمبرز پر۔ دنیا بھر میں شور مچ گیا کہ آخر اس چھوٹے سے، بے نام ملک کے تعلیمی نظام نے اپنے طلبہ میں ایسا کون سا فسوں پھونک رکھا ہے جو امریکہ اور برطانیہ ایسے ممالک کے تعلیمی نظام کو مات کر گیا؟ بیدار دنیا کے ہوشمند، متجسس لوگ اس کا رخ کرنے لگے کہ دیکھا جائے آخر یہاں ایسا کیا ہو رہا ہے؟ اس ملک کے لوگوں سے جب پوچھا گیا کہ آپ اپنے بچوں کو کیسے تیار کرتے ہیں، تو وہ خود ہکا بکا نظر آئے۔ جواب ندارد۔”ہم نے تو کوئی تیاری نہیں کرائی۔ بس بچے بھیج دیئے تھے۔” اللہ اللہ، خیر صلّا! دنیا اور بھی متجسس ہو گئی۔ آخر ان کا تعلیمی نظام ہے کیا؟ کیونکر مختلف ہے، کن کن باتوں میں ؟کن بنیادوں پر؟ خود اس ملک نے ایسی پذیرائی ، تجسس اور سوالات کی بھرمار دیکھی تو ایک پورا ڈیپارٹمنٹ کھول ڈالا جو باہر سے آئے لوگوں کو آگاہی دے گا کہ ہمارا تعلیمی نظام کیا ہے، اور کیسے باقی دنیا سے مختلف ہے۔ (نیز خود بھی غورو فکر کرے گا کہ ہمارا سسٹم کیونکر ‘بہت اچھا’ سسٹم ہے؟!!) سٹڈی شروع ہو گئی۔ جلد ہی سارے راز طشت از بام ہو گئے۔ سب سے بڑا راز یہی تھا: "ہم تو کچھ نہیں کرتے۔ کوئی تیاری نہیں کراتے۔” اگلوں نے چپہ چپہ کھوج ڈالا، مگر "عراق والے کیمیائی ہتھیار” بر آمد ہو کر نہ دیئے۔پتہ چلا وہ لوگ واقعی کچھ نہیں کرتے۔ وہ ڈنڈا لیکر بچوں کا تعاقب نہیں کرتے۔ پیپر فارمیٹ پر کسی بھی امتحان کی تیاری کرانے، اکیڈمی کلاسز، ایکسٹرا کلاسز، ٹیوٹرز وغیرہ کا وہاں نام و نشان تک نہ ملا۔ پھر وہ ایساکرتے کیا ہیں؟ یا ان کا نظام کیونکر ایسا ہے کہ میٹرک تک پہنچنے والا بچہ خوش باش ہے۔ مطمئن ہے۔ لائق فائق ہے۔ خود اپنے احساس ذمہ داری سے پڑھتا، اور تعلیمی مراحل بصد شوق طے کرتا ہے؟ یہ فِن لینڈ ہے۔ یورپ کے شمال میں واقع سویڈن ، ناروے اور روس کے بارڈر پر کسی ستارے کی مانند ٹمٹماتا ایک ننّھا سا، جگنو سا ملک، جہاں کے تعلیمی نظام نے ایکدم شہرت پائی۔ جہاں کے ایجوکیشن سسٹم کو دنیا کا بیسٹ ایجوکیشن سسٹم قرار دیا گیا۔ اس نظام کو دنیا کا most stress-free education system ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ کیوں اورکیسے؟ یہ ایک فطری نظام ہے۔ جبر سے یکسر آزاد۔ کیسے؟ یہاں تعلیمی ادارے صبح نو بجے اور ساڑھے نو بجے کھلتے ہیں۔ 70منٹس کی، ورکشاپ کی طرز پر، تین اور زیادہ سے زیادہ چار کلاسز جن کے بیچ پینتیس منٹ کا وقفہ ہوتا ہے جس میں بچوں کو دودھ اور فروٹ وغیرہ یعنی healthy food پیش کیا جاتا ہے تا کہ دماغی توانائی پھر سے بحال ہو۔ تب وہ خوب کھیلتے ہیں۔ پورے ملک میں ایک تعلیمی نظام ہے۔ اساتذہ کا انتخاب انتہائی احتیاط سے کیا جاتا ہے۔ اور استاد ہونا اس معاشرے میں قابل فخر ترین بات ہے۔ ہر برس شعبہ تدریس سے وابستہ ہونے کے متمنّی حضرات و خواتین کی ہزارہا درخواستیں رد کر دی جاتی ہیں کہ انہیں شعبہ تدریس کے لیے ‘فِٹ’ تصور نہیں کیا جاتا۔ اساتذہ مثالی تنخواہیں اور دیگر مراعات رکھتے ہیں۔ یہاں کسی سالانہ یا ٹرمینل امتحان کا کوئی تصوّر نہیں۔ اسی لیے اسے most stress-free education systemکا نام دیا گیا ہے۔ سیکنڈری یعنی میٹرک کی سطح پر جا کر بس ایک امتحان ہے، جس کے بعد ہر طالبعلم کے لیے تین راستے کھلے ہیں: · چاہو تو ورک فورس میں شامل ہو جاؤ۔ کام کرو اور کمائی کرو۔اگرچہ اس آپشن پر جانے والے بس ایک یا دو فی صدہی ہوتے ہیں۔ · چاہو تو پیشہ ورانہ تعلیم دیتے اداروں میں داخلہ لے لو، اور دو چار سالہ تربیتی تعلیم کے حصول کے بعد ہنر مند بن کر کوئی پیشہ اختیار کرو۔ · اور آپ پڑھاکو ٹائپ ہو تو یونیورسٹی ایجوکیشن جوائن کر لو۔ماسٹر، ایم فل، اور پی ایچ ڈی تک جا پہنچو۔ یہاں کا پرائمری سطح کا استاد خاص طور پر بڑی چھان پھٹک، متعدد انٹرویوز اور سکریننگ ٹیسٹوں کے بعد رکھا جاتا ہے۔ اسے بہر صورت ماسٹرز ڈگری ہولڈر ہونا چاہیئے۔ اور پیشہ ورانہ تعلیم سے آراستہ۔ خوش اخلاق اور ضبط و برداشت کی بے پناہ قوت لئے ہوئے۔تدریس کے لیے خاص و مطلوبہ مزاج کا حامل۔اس نے اپنے ماسٹرز کے لیے بہر صورت تھیسز لکھا ہو، اور اس کی تحریری صلاحیت و قابلیت عمدہ ہو۔ مشہور آرگنائزیشن او،ای،سی، ڈی کیمطابق یہاں کے اساتذہ بھی حد درجہ سٹریس فری ہیں— کہ سالانہ انہیں صرف چھے سو گھنٹے پڑھانا ہوتا ہے، اور یومیہ زیادہ سے زیادہ چار کلاسز لینا ہوتی ہیں۔اور سکول و کالج ٹائم کے بعد انہیں ٹیوشنز پڑھا پڑھا مغز ماری کرنے، اور گھر چلانے کے لیے انکم میں اضافہ کا کوئی تردد نہیں کرنا پڑتا۔ سیکنڈری لیول کے اساتذہ کے لیےیہ بھی خیال رکھا جاتا ہے کہ اگر ایک ٹیچر نے 10 سے 11 بجے تک والی کلاس لی ہے تو اسے اگلی کلاس نہ دی جائے، بلکہ ایک پیریڈ کے وقفہ کے بعد دی جائے۔ (جبکہ یہاں پاکستان سے لیکر برطانیہ اور امریکہ تک گھنٹوں کی یہ تعداد ڈبل ہے، یعنی 1080 گھنٹے، اور یومیہ 5 سے 6 پیریڈز جو ہفتے میں کچھ روز تواتر سے بھی پڑھانا پڑتے ہیں۔) یہاں ، یعنی فِن لینڈ میں ،ضروری نہیں ہر مضمون ہر روز پڑھایا جائے۔ ایک کلاس میں طلبہ کی تعداد 15 سے 20 ہو سکتی ہے، 21 نہیں۔ استاد اور طالب علم پر سلیبس مکمل کرنے کا کوئی پریشر نہیں۔کہ یہاں سرے سے کوئی ٹرمینل اور سالانہ امتحان ہی نہیں۔ پرائمری سطح پر ایک استاد پورے چھے برس اپنی کلاس کےبچوں سے منسلک رہتا ہے. ۔ایڈمنسٹریشن اور والدین اس استا داور بچوں پر پورا اعتماد کرتے ہیں۔ جبکہ استاد والدین، ایڈمنسٹریشن اور بچوں پر۔ اور بچے اپنے استاد پر، اس کی رفتارِ کار پر۔ یوں یہ ایکدوسرے پر اعتماد کرنے والا معاشرہ ہے۔ کسی کو کوئی جلدی نہیں۔کسی طالب علم کے لیے کوئی طعنہ نہیں۔فیل ہو جانے، شرمندہ ہونے کا کوئی سکوپ نہیں۔ صرف حوصلہ افزائی ہے اور بس۔ جب حسن سلوک ایسا ہے تو بچے جب جب موڈ میں ہوں، یا صرف انسپائر ہو کر دل و جان سے پڑھتے اور تعلیم و ہنر کی منزلیں مزے سے طے کرتے ہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا کہ فِن لینڈ میں سلیبس کا مواد بہت مختصر رکھا جاتا ہے۔ پانچویں سے دسویں جماعت تک کا جتنا سلیبس باقی ممالک میں بچوں پر ٹھونسا جاتا ہے، وہ ایک صریحاً ظلم ہے۔ امریکہ سے آئی ایک میتھس ٹیچر نے نوٹ کیا کہ فن لینڈ میں 5 برسوں میں کَور کرایا جانے والا مواد وہ اپنے ملک میں صرف ایک برس میں مکمل کرانے پر مجبور تھی۔ پھر کہا یہی وجہ ہے کہ امریکہ میں ڈراپ آؤٹ ہو جانے والے بچوں کی تعداد پوری دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔جن کے لیے پھر الگ سے کمیونٹی کالجز قائم کیے گئے ہیں جہاں بچے اس ذہنیت کیساتھ وقت گزارتے ہیں کہ وہ پیچھے رہ جانے والے، سست رو، اور dull سٹوڈینٹس ہیں۔ Kelly Dayنام کی وہ امریکن ٹیچرلکھتی ہے کہ فِن لینڈ کے نظام تعلیم کیمطابق یہ بھی ضروری نہیں کہ میتھس ہر روز کیا جائے اور بے پناہ کیا جائے۔ فن لینڈ میں یہ کانسپٹ نہیں پا یا جاتا او ریہاں یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے ، کہ بوجوہ بچے میتھس میں بہت اچھے ہیں. او،ای،سی،ڈی تنظیم کے مطابق فن لینڈ کے طلبہ کو سب سے کم ہوم ورک ملتا ہے۔ یہاں اکیڈمیز اور ٹیوٹرز کا بھی رواج نہیں۔ ایک بچے کو زیادہ سے زیادہ آدھ گھنٹے کا ہوم ورک کرنا ہوتا ہے۔ امریکن میتھس ٹیچر کیلی ڈے نے یہ بھی نوٹ کیا کہ فن لینڈ کا ایک ٹیچر دن بھر میں زیادہ سے زیادہ 80 طلبہ سے رابطے میں آتا ہے۔ یعنی اگر اسے چار کلاسز میں جانا ہے تو ہر کلاس میں 20 بچوں سے ملاقات ہے۔ بس ان کے مسائل ہیں۔ انہی کا ہوم ورک وغیرہ۔ جب کہ وہ خود اپنے ملک میں ہر کلاس میں 30 سے 35 بچوں سے ہم رابطہ ہوتی، اور چھے لگاتار کلاسز لیا کرتی ہے۔ ایک عجیب، جنونی سی دوڑ لگی ہوتی ہے جس کے نتیجہ میں ٹیچرز اور طلبہ سال کے اختتام پر جل بُھن چکے ہوتے ہیں۔ کیلی لکھتی ہے سٹرکچر نہیں، اعتماد کلید ہے فنش سوسائٹی کی۔ بجائے اس کے کہ سٹرکچر، قوانین، نوع بہ نوع ٹیسٹوں کی بھرمار کر دی جائے (اور ہنوز بہت سے طلبہ دل برداشتہ ہو کر رہ جائیں، ناکام ہو جائیں)، سسٹم پر اعتماد کی فضا پیدا کی جائے۔ سارے عمل کو خوشگوار اور سہل بنایا جائے تا کہ کوئی ناکام نہ ہو۔ ہم جانتے ہیں ایسی بیداری ہمارے یہاں آنے میں نہ معلوم کتنا وقت لگے، تاہم اگر استطاعت رکھنے والے کچھ حضرات ساتھ دیں تو کم سے کم ایک ایسا ادارہ تو ضرور ہی بنایا جائے جسے ہم اپنی منسٹری آف ایجوکیشن کے روبرو بطور رول ماڈل رکھ سکیں۔ کیا کوئی درد مند خواتین و حضرات ایسے ہی ایک ماڈل کے قیام میں تعاون کر سکیں گے؟ اس پر بہ صد خلوص نہ صرف سوچ سکیں بلکہ عملاً اس کے اطلاق کے لیے کمر بستہ ہو جائیں ؟ فطرت کو خرد کے روبرو کر تسخیر مقام رنگ و بو کر

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
89%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
11%



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

سائنس/صحت

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved