بیر سستا پھل لیکن انوکھے فوائد
  15  مارچ‬‮  2017     |     سائنس/صحت
اسلام آباد(روزنامہ اوصاف)بیر کی گٹھلی عام طور پر کھانے کے بعد پھینک دی جاتی ہے لیکن قدرت نے اس بظاہر فالتو چیز میں بڑی خوبیاں رکھی ہیں۔ یہ گٹھلی پیس کر ٹوٹی ہوئی ہڈی کے مقام پر لگانے سے ہڈی جڑ جاتی ہے۔ اس کی گٹھلی عضلاتی چوٹ یعنی گوشت کو متاثر کرنے والی چوٹ اور موچ میں فائدے مند ہوتی ہے۔ بیر کو بعض لوگ غریب کا سیب کہتے ہیں جو کچھ زیادہ غلط نہیں کیونکہ یہ نسبتاً سستا اور ہر دل عزیز پھل ہے۔ بعض لوگوں کو یہ سیب سے زیادہ لذیذ معلوم ہوتا ہے۔ بیر کی عام طور پر تین اقسام بیان کی جاتی ہیں، پیوندی بیر ، تخمی بیر اور جنگلی بیر ۔ پیوندی بیر کو سیوبیری بھی کہا جاتا ہے یہ بیر بڑے اور خوش ذائقہ ہوتے ہیں۔ یہ اوپر سے سبز ہوتے ہیں اور ان کو گودا سفید ہوتا ہے۔ اس بیر کی شکل لمبوتری اور لمبائی ایک سے دو انچ تک ہوتی ہے۔ انہیں پیوندی بیر اس لیے کہا جاتا ہے کہ ان بیروں کی قلم لگائی جاتی ہے۔ اس کے درخت کو بیج کے ذریعہ سے نہیں بویا جاتا۔ تخمی بیر کو کاٹھے بیر بھی کہا جاتا ہے اور اس کی شکل گول ہوتی ہے۔ ان کا رنگ سرخ ہوتا ہے۔ پیوندی کے مقابلے میں یہ بیر چھوٹے ہوتے ہیں۔ ان کا ذائقہ کھٹ مٹھا ہوتا ہے۔ انہیں تخمی اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ انہیں بیج بُو کر حاصل کیا جاتا ہے۔ تیسری قسم جنگلی ہے اسے جھڑ بیری یا کوکنی بیر بھی کہا جاتا ہے۔ یہ بیر بہت چھوٹے ہوتے ہیں۔ ان کا سائز مٹر کے دانوں کے برابر ہوتا ہے۔ اس میں مٹھاس سے زیادہ ترشی ہوتی ہے۔ جھڑ مبیری عام طور سے پہاڑی علاقوں میں پائی جاتی ہے۔ یہ جھاڑیاں خود رو ہوتی ہیں اور تقریباً پوری دنیا میں پائی جاتی ہیں۔ ان جھاڑیوں پر پتے کم اور کانٹے زیادہ ہوتے ہیں۔ ان جھاڑیوں کو بکریاں بڑے شوق سے کھاتی ہیں۔ بیر میں کیلشیم، فاسفورس اور فولاد کے علاوہ حیاتین الف، ب اور ج کی کافی مقدار ہوتی ہے۔ ان چیزوں کے علاوہ اس میں گلوکوز بھی ہوتا ہے جو جسم کو فوری توانائی فراہم کرتا ہے۔ دست اور پیچش بیر نظام ہضم کیلئے بہت مفید ہے۔ اس کے استعمال سے معدے اور آنتوں کی کمزوری دور ہو جاتی ہے۔ بیر کو بھون کر دست اور پیچش کی شکایت میں استعمال کراتے ہیں۔ اس کے علاوہ جنگلی بیری کی جڑ بارہ گرام اور کالی مرچ سات عدد پانی میں پیس کر دن میں تین بار پلانے سے پیچش اور مروڑ دور ہو جاتی ہے۔ سوکھے ہوئے بیر کھانے سے بھی دست بند ہو جاتے ہیں۔ بعض اوقات بچوں اور بڑوں کی آنتوں میں کیڑے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی صحت خراب رہتی ہے۔ ان کیڑوں کو خارج کرنے کیلئے میٹھے بیروں کو کچل کر ان کا پانی 24 گرام سے 128 گرام تک کی مقدار میں پلانا مفید ہوتا ہے۔ اس کے استعمال سے کیڑے خارج ہو جاتے ہیں۔ بیر کے استعمال سے خون صاف ہو جاتا ہے اور اس کے زہریلے مادے خارج ہو جاتے ہیں۔ روزانہ آٹھ دس بیر کھانے سے چہرے کے داغ دھبے صاف ہو جاتے ہیں اور چہرہ سرخ اور تروتازہ رہتا ہے۔ ٹوٹی ہوئی ہڈی بیر کی گٹھلی عام طور پر کھانے کے بعد پھینک دی جاتی ہے لیکن قدرت نے اس بظاہر فالتو چیز میں بڑی خوبیاں رکھی ہیں۔ یہ گٹھلی پیس کر ٹوٹی ہوئی ہڈی کے مقام پر لگانے سے ہڈی جڑ جاتی ہے۔ اس کی گٹھلی عضلاتی چوٹ یعنی گوشت کو متاثر کرنے والی چوٹ اور موچ میں فائدے مند ہوتی ہے۔ اس فائدے کیلئے بیر کی گٹھلی کوٹ کر پانی میں اتنا جوش دیں کہ پانی گاڑھا ہو جائے۔ اسے اکھڑے عضو، ٹوٹی ہوئی ہڈی اور عضلاتی چوٹ پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر یہ پانی بچوں کے پاؤں پر ملا جائے تو بچے جلدی چلنے لگتے ہیں۔ پرانے زخم اور ایسے پھوڑے جو کسی طرح خشک نہ ہوتے ہوں ان پر بیر کے درخت یا جھاڑی کی چھال کا سفوف چھڑکنے سے یا پانی میں ملا کر لیپ کرنے سے بہت جلدی آرام آ جاتا ہے۔ عام پھوڑوں یا پیپ بھرے ہوئے پھوڑوں کو جلدی پکانے کیلئے بیری کے پتے پیس کر گرم کر کے لیپ کرنے سے یہ پھوڑی جلدی پک جاتے ہیں اور ان کا گندا مواد آسانی سے نکل جاتا ہے۔ اگر کسی شخص کی نکسیر پھوٹ گئی ہو تو بیری کے پتوں کو پیس کر کنپٹیوں پر لیپ کرنے سے آرام آ جاتا ہے۔ لمبے‘ مضبوط اور چمکیلے بالوں کیلئے بیر کے پتوں کو پانی میں اچھی طرح جوش دے کر اس پانی سے سر کے بال دھوئیں تو بال لمبے، مضبوط اور چمکیلے ہو جاتے ہیں اور سر کی خشکی جاتی رہتی ہے۔ اگر بال گرتے ہوں تو اس جوشاندے سے بال دھونے سے بال گرنا بند ہو جاتے ہیں۔ بواسیر کے مقام پر بیری کے درخت کی جڑ پانی میں پیس کر لیپ کرنا مفید ثابت ہوتا ہے اس کے علاوہ جڑ کو پیس کر جگر کے مقام پر مقامی طور پر لیپ کرنے سے بڑھا ہوا جگر کم ہو جاتا ہے۔ یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
80%
ٹھیک ہے
20%
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

سائنس/صحت

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved