امیرترین ہندوستانی امبانی نے ٹیلی کوم سیکٹر کو ہلا کر رکھ دیا
  18  مارچ‬‮  2017     |     سائنس/صحت
بمبئی (روزنامہ اوصاف)مکیش امبانی نے بھارت کی سب سے زیادہ مسابقتی مارکیٹ ٹیلی کمیونیکیشن میں ہلچل پیدا کر دی ہے، کمپنیاں یا تو مضبوط ہونے یا پھر اپنے نقصانات کو کم کرکے انہیں چلانے کی دوڑ دھوپ میں لگ گئی ہیں۔ناروے کی ملٹی نیشنل کمپنی ٹیلی ناربھارت چھوڑنے والی تازہ مثال ہے جبکہ تجزیہ کار قرار دے رہے ہیں کہ مکیش امبانی کی جانب سے شروع کی گئی قیمتوں کی لڑائی میں جلد دوسری کمپنیاں بھی غائب ہونے والی ہیں۔اپسوس بزنس کنسلٹنگ کے تحقیقی شعبے کے سربراہ بھاسکر کانا گراجو نے غیر ملک خبر رساں ادارے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے میں چھوٹے سرمایہ کار کا مارکیٹ میں رہنا ہونا مشکل ہوجائے گا اور اس طرح وہ لوگ مارکیٹ سے نکلنے پر غور کریں گے، بھارت میں اربوں ڈالر کے ٹیلی کام سیکٹر میں تقریبا ایک درجن کمپنیاں موجود تھیں جو کہ اب کم ہو کر آدھی رہ گئی ہیں جبکہ جلد ہی ان کی تعداد مزید کم ہو کر 4 تک محدود ہو جائے گی۔ٹیلی کام سیکٹر میں اپنی کمپنی کو مضبوط بنانے میں اس وقت تیزی دیکھنے میں آئی، جب مکیش امبانی نے گزشتہ سال ستمبر میں ریلائنس بھارتی جیو فور-جی کے نام سے ایک مفت سروس متعارف کروائی، جس میں اپریل تک توسیع کردی گئی۔فری سروس لینے والے صارفین نے جب اس پلان کی طرف رخ کیا تو حریف کمپنیاں مارکیٹ کو برقرار رکھنے کے لیے اپنے موبائل پلان کے نرخ پر غور کرنے اور مزید سرمایہ کاری کرنے پر مجبور ہوگئیں۔بھارتی ٹیلی کمیونیکیشن سیکٹر جو کہ ایک تحقیقی ادارے انٹرنیشنل ڈیٹا فرم کے مطابق رواں سال اندازاَ 37 ارب ڈالر کی آمدنی کرنے والا ہے اب ایک خطرناک اور مہنگا سیکٹر بن چکا ہے۔نیٹ ورک آپریٹرز کو اس آنے والی پریشانی پر قابو پانے کے لیے مہنگے وائرلیس اسپیکٹرم کی خریداری کرنا ہوگی جس کی مدد سے صارفین کو سہولت مہیا کی جائے گی۔ٹیلی نار کا بھارتی مارکیٹ سے انخلا تب سامنے آیا جب ویڈیوکون ٹیلی کام نے جنوری میں اپنے صارفین سے کہا کہ وہ ملک میں اپنے آپریشن بند کر رہے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ ائر سیل اور موبائل ٹیلی سسٹم گزشتہ سال کے آغاز میں ہی فروخت ہو چکے ہیں۔ریلائنس جیو کی آمد کے بعد پہلے 6 مہینے میں بھارت میں 10 کروڑ صارفین نے اس کی سروس استعمال کی اور ساتھ ہی سال 2021 تک یہ کمپنی بھارت کی سب سے بڑی ٹیلی کام کمپنی بننے کی خواہاں ہے اور مارکیٹ کے 50 فیصد صارفین کو خود سے وابستہ کرنا چاہتی ہے۔تاہم ائر ٹیل کی جانب سے ٹیلی نار کے ساتھ کیے گئے معاہدے سے کمپنی کے صارفین کی تعداد میں 4 کروڑ کا اضافہ کرنے میں معاون ثابت ہوگا اور ساتھ ساتھ ریلائنس جیو کے اہداف میں رکاوٹ بھی بنے گا۔فیچ ریٹنگ کا کہنا ہے کہ ٹیلی نار اور ائر ٹیل کے درمیان ہونے والا معاہدہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ نئے آپریٹر ریلائنس جیو جارحانہ انداز سے خؤد کو مضبوط کر کے اپنے مسابق کمپنیوں کو نقصان پہنچا رہا ہے اور کمزور کمپنیوں کو یکسر باہر نکال رہا ہے۔ائر ٹیل بھی اس وقت برطانوی موبائل کمپنی وڈا فون اور ممبئی کی کمپنی آئیڈیا کی وجہ سے خطرے میں ہے، جنوری میں ہی وڈا فون نے یہ اعلان کیا تھا کہ ریلائنس جیو کے رد عمل میں اپنے بھارتی یونٹ آئیڈیا میں ضم ہونے کے حوالے سے رابطے میں تھے۔عالمی بروکیج فرم سی ایل ایس اے نے ایک تخمیہ لگایا کہ اگر یہ دونوں کمپنیاں ضم ہو جاتی ہیں تو 20-2019 تک مارکیٹ کی 43 فیصد آمدنی کی حقدار ہو جائیں گی جبکہ اس ہی سال ائر ٹیل کی آمدنی کا حجم 33 فیصد اورریلائنس جیو کا 13 فیصد ہوگا۔ریلائنس کمیونیکیشن جو کہ مکیش امبانی کے چھوٹے بھائی انیل امبانی کی ملکیت ہے مارکیٹ میں نچلی سطح پر استحکام کے حوالے سے ذمہ دار رہی ہے۔ریلائنس کمیونیکیشن نے جیو کے آغاز کے فورا بعد راتوں رات ائر سیل کے ساتھ ضم ہونے اعلان کیا تھا، اس نے 2016 میں پہلے ہی ایم ٹی ایس سسٹم خرید لیا ہے اور یہ بھی خبریں موصول ہوئیں کہ ٹاٹا گروپ کے خسارے میں جانے والے ٹیلی سروسز یونٹ سے بھی بات چیت جاری ہے۔بھارتی ٹیلی کام تجزیہ نگار بابورنجن کزہکیداتھ نے غیر ملکی خبر رساں ایجنسی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مجھے توقع ہے کہ ٹاٹا گروپ کا برانڈ ڈوکومو اچانک سے غائب ہو جائے گا جبکہ بھارتی میڈیا میں شائع ہونے والے خبروں کے مطابق خسارے میں چلنے والی کمپنیاں بی ایس این ایل اور ایم ٹی این ایل کی بھی ضم ہونے کے حوالے سے بات چیت جاری ہے۔فنچ ریٹنگ کے مطابق جاری انضمامی استحکام سے صرف چار بڑی کمپنیاں ریلائنس جیو، ووڈا فون انڈیا اور آئیڈیا سیلولر کا انضمام، ریلائنس کمیونیکیشن اور ائر سیل ہی مارکیٹ میں رہ جائیں گی۔ریلائنس جیو کی مفت سروس نے حریفوں کے منافع میں واضح کمی کی ہے، پہلے سہ ماہ میں ائر ٹیل کا منافع 55 فیصد اور ریلائنس کمیونیکیشن کا منافع 15 فیصد کم ہوا، انہیں امید ہے کہ یکم اپریل کو ختم ہونے والی ریلائنس جیو کی مفت سبسکرپشن کے ختم ہونے کے بعد منافع حاصل کرنے کا موقع ملے گا، تاہم تجزیہ نگاروں کے مطابق موجودہ نرخ غیر مستحکم ہیں اور کمپنیوں کو قلیل مدت میں مزید نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی انڈیا نے ٹیلی کام کمپنیوں کے دیوالیہ ہونے کے ممکنہ خطرے سے حکومت کو پہلے ہی خبر دار کر دیا ہے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
50%
ٹھیک ہے
50%
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

سائنس/صحت

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved