کیا آپ پراعتماد افراد میں شامل ہیں ؟اگرنہیں تو یہ ضرور پڑھ لیں
  6  اپریل‬‮  2017     |     سائنس/صحت
خود اعتمادی زندگی کے مجموعی تجربات کا نتیجہ ہوتی ہے۔ مثبت تجربات جہاں ہمارے اعتماد کو پختہ کرتے ہیں وہیں منفی تجربات ہمیں ناکامی سے دوچار کراتے ہیں اور ہمارے اندر خود اعتمادی ختم کردیتے ہیں۔ایک صحت مند شخصیت بننے کی کنجی یہ ہے کہ اپنی قابلیت اور صلاحیت کے شعبوں میں اعتماد پیدا کیا جائے اور جس شعبے میں بھی آپ کی قابلیت کم ہو اس کے بارے میں عدم اعتماد کا شکار ہونے کے بجائے آپ اس کی طرف توجہ نہ دیں۔پراعتماد لوگوں کی پہچان کیا ہے؟? وہ ایسا کیا کرتے ہیں کہ ان کی شناخت کی جاسکے؟یہاں ہم آپ کو چند ایسی باتیں بتار ہے ہیں جن سے پر اعتماد لوگوں کی پہچان آسان ہوجاتی ہے ، آپ بھی اپنے اندر یہ اوصاف پیدا کریں اور ایک کامیاب زندگی آپ کی منتظر ہوگی۔ 1۔اپنی بات پر ڈٹ جاتے ہیں پراعتماد لوگ اپنی بات پر ڈٹے رہتے ہیں ، ا س لیے نہیں کہ ان کے خیال میں بس وہ ہی صحیح ہیں بلکہ اس لیے کہ وہ غلط ہونے سے نہیں ڈرتے۔ خود سر اور مغرور لوگ بھی اپنی بات پر اڑ جاتے ہیں ، وہ اپنی رائے کا اظہارکرکے پیچھے نہیں ہٹتے، انہیں لگتا ہے کہ بس وہ ہی صحیح ہیں۔اور وہ چاہتے ہیں کہ باقی سب لوگ بھی ان کی بات تسلیم کرلیں۔ یہ رویہ درحقیقت خود اعتمادی کی علامت نہیں ہے۔ بلکہ یہ اپنی بات زبردستی کسی کے سر تھوپنے کی نشانی ہے۔ حقیقی معنوں میں پراعتماد لوگ غلط ثابت ہونے سے نہیں ڈرتے۔وہ یہ حقیقت سمجھتے ہیں کہ درست بات کی تلاش ،خود کو درست منوانے سے زیادہ ضروری ہے۔ اگر کبھی وہ غلط ثابت بھی ہوجائیں تو بلاوجہ بحث نہیں کرتے اور خندہ پیشانی سے اسے تسلیم کرتے ہوئے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔جبکہ شیخی خورے ایسا نہیں کرتے۔ 2۔پہلے تولو پھر بولو شیخی بگھارنا اور بڑی بڑی باتیں کرنا ،پراعتمادی نہیں ، بلکہ یہ عدم تحفظ کی علامت ہے۔ حقیقی معنوں میں پراعتماد لوگ زیادہ تر خاموش رہتے ہیں اور محتاط رویہ اپناتے ہیں۔ وہ سنتے زیادہ ہیں کیونکہ انہیں یہ تو علم ہوتا ہے کہ وہ کیا سوچتے ہیں ،سن کر وہ یہ جانتا چاہتے ہیں کہ دوسرے کیا سوچتے ہیں۔ وہ آپ سے سوال کرتے ہیں اور موقع دیتے ہیں کہ آپ کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کریں۔پھر وہ آپ کے خیالات کا اپنے خیالات سے تقابل کرتے ہیں ، دونوں کو جانچتے ہیں۔ ان کا تجزیہ کرتے ہیں۔ پراعتماد لوگوں کو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وہ زیادہ جانتے ہیں ، مگر وہ مزید جاننے کے آرزومند ہوتے ہیں۔ اور انہیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کو زیادہ سے زیادہ سن کر ہی ا پنی معلومات بڑھا سکتے ہیں۔ 3۔دوسروں کے لئے دل بڑا رکھتے ہیں پراعتماد لوگ زندگی میں بہت کام کرتے ہیں۔ و ہ زندگی کی مشکلات سے لڑنا اور راستے میں آنے والی رکاوٹیں عبور کرنا جانتے ہیں۔ ان کی پرفارمنس بھی عام لوگوں سے بہت زیادہ ہوتی ہے۔۔۔ مگر انہیں اس کی پروا نہیں ہوتی۔یا شاید وہ ان باتوں کو سب پر ظاہر نہیں کرنا چاہتے۔اگرچہ اندر سے وہ اس پر فخر کرتے ہیں ، اور انہیں کرنا بھی چاہئے۔مگر وہ سب کوجتاتے نہیں پھرتے۔ وہ شہرت کے بھوکے نہیں ہوتے۔ انہیں تو بس اپنے کام سے کام ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ اندر سے مطمئن ہوتے ہیں۔اس لیے وہ پیچھے کھڑے ہوتے ہیں اور دوسروں کی کامیابی پر تالیاں بجاکر انہیں داد دیتے ہیں ، اورانہیں اپنی طرح پراعتماد بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ 4۔وہ مددمانگنے میں ہچکچاتے نہیں بہت سے لوگ سوچتے ہیں کہ مدد مانگنا کمزوری کی علامت ہے۔ اس سے کم علمی اور مہارت میں کمی ثابت ہوتی ہے۔ پراعتماد لوگ اس کمزوری کو تسلیم کرنے میں عار محسوس نہیں کرتے۔اس لیے وہ ضرورت پڑنے پر دوسروں سے مدد مانگنے میں ہچکچاتے نہیں۔وہ جانتے ہیں کہ ایک بار مدد مانگ کر وہ آئندہ پیش آنے والی کسی بھی شرمندگی سے بچ سکتے ہیں۔کسی سے مدد طلب کرنے سے اس کی عزت افزائی بھی ہوتی ہے۔ کیا آ پ میری مدد کرسکتے ہیں ؟ اس ایک جملے میں آپ نہ صرف اپنے لیے مدد مانگ رہے ہوتے ہیں بلکہ اس کے تجربے ، علمیت یا قابلیت کا بھی اعتراف کررہے ہوتے ہیں۔ اور یقیناًیہ بات کسی کے لئے عزت افزائی سے کم نہیں۔ 5۔وہ اپنا راستہ خود بناتے ہیں بہت سے لوگوں کے خیال میں ترقی پانے کے لیے ،اچھی ملازمت کے حصول کے لیے ،یا کسی اہم مقصد کی خاطر منتخب ہونے کے لئے مناسب موقع اور وقت کا انتظار کرنا چاہئے۔ جبکہ پراعتماد افراد ا پنے لیے مناسب موقع اور وقت خود تلاش کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں ، کہ بعض اوقات انتظار وقت ضایع کرنے کا سبب بھی بن جاتا ہے۔ وہ میل جول رکھتے ہیں، سماجی تعلقات میں سرگرم ہوتے ہیں۔ یہی میل جول اور تعلقات انہیں آگے بڑھنے میں مدد دیتے ہیں۔ ان کے لیے راستہ فراہم کرتے ہیں۔ ان کے لیے ترقی اور کامیابی کے دروازے کھولتے ہیں۔ 6۔وہ اپنی غلطی کھلے دل سے تسلیم کرتے ہیں مصنوعی خود اعتمادی کا مظاہرہ کرنے والے ہمیشہ خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔ غلطی ہونے پر وہ اسے تسلیم کرنے کے بجائے طرح طرح کے جواز پیش کرنے لگتے ہیں۔ جبکہ حقیقی معنوں میں پراعتماد لوگوں کو ایسا کوئی ڈر یا خوف نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کسی غلطی کا ارتکا ب کر بیٹھیں تو کھلے دل سے اسے تسلیم کرتے ہیں۔ وہ اس بات کی بھی پروا نہیں کرتے کہ اس طرح لوگ ان پر ہنسیں گے ، ان کا مذاق اڑائیں گے۔ بلکہ بعض اوقات تو وہ دوسروں کے ساتھ مل کر خود پر ہنستے ہیں اور انجوائے کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ غلطی کامیابی کی جانب پہلا قدم ہوتی ہے۔ بطور ایک باشعور انسان ہم خود یہ سیکھ سکتے ہیں کہ کیسے اپنے آپ کو خود اعتمادبنائیں اور اس خود اعتمادی کو کیسے برقرار رکھیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اپنی قدر و قیمت کو دوسرے کی مرضی سے مشروط کرنا نقصان دہ ہوتا ہے، ہم اس سے بچ سکتے ہیں۔ اپنی قدر کو اور اپنی خود اعتمادی کو محفوظ رکھنے کے لیے ہمیں اپنی خوبیوں کو دہراتے رہنا چاہیئے اور یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ یہ واقعی ہماری خوبیاں ہیں۔ بعض اوقات کسی بہت گہرے دوست سے یا شریک حیات سے یہ باتیں کرنا یا اپنی مایوسی کا اظہار بھی فائدہ مند ہوتا ہے۔ اس سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ گفتگو کے دوران ہم یا تو خود اپنی اچھائیوں کو یاد کرتے ہیں یا پھر ہمارے شریک گفتگو ہمیں یاد دلا دیتے ہیں۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
75%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
25%



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

سائنس/صحت

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved