سورج کی روشنی سے براہِ راست کھاد بنانے والا بایونک پتّا
  12  اپریل‬‮  2017     |     سائنس/صحت
میسا چیوسیٹس(روزنامہ اوصاف) دنیا کی معروف ترین ہارورڈ یونیورسٹی نے ایک ایسا ’’بایونک پتّا‘‘ بنانے کا اعلان کیا ہے جو سورج کی روشنی کو فرٹیلائزر میں تبدیل کرکے دنیا سے بھوک کا خاتمہ کرنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔اس ’بایونک لیف‘ میں ایک مصنوعی نظام موجود ہے جوعین ضیائی تالیف (فوٹو سنھتے سز) کی نقل کرتا ہے۔ اس عمل سے پودے سورج کی روشنی سے توانائی بناتے ہیں جب کہ یہ نظام اسی روشنی سے مصنوعی کھاد تیار کرتا ہے۔ مستقبل قریب میں اسے فصلوں کی پیداوار بڑھانے اور غریب ممالک میں بھوک اور غربت کے خاتمے میں استعمال کیا جاسکے گا۔ماہرین کا خیال ہے کہ ان کی ایجاد بیکٹیریا، سورج کی روشنی، پانی اور ہوا سے عین اسی مٹی میں فرٹیلائزر بنا کر اگلے سبز انقلاب کی راہ ہموار کرے گی۔ مصنوعی پتّا بایوکیمسٹری کے ماہرین نے تیار کیا ہے۔ اس سے قبل وہ ایسا مصنوعی پتّا بناچکے ہیں جو اصل پتے سے زیادہ اور بہتر انداز میں ضیائی تالیف کے عمل کو ممکن بناتا ہے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 




 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

سائنس/صحت

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved