کچھ لوگوں کے بال سرخ یا براؤن کیوں ہوتے ہیں؟
  13  اپریل‬‮  2017     |     سائنس/صحت

برلن(ویب ڈیسک) ویسے کوئی یہ سوال کبھی نہیں کرتا کہ دنیا کے تمام ممالک کے زیادہ تر افراد کے بال سیاہ ہی کیوں ہوتے ہیں، لیکن جب کوئی کسی نوجوان لڑکی یا لڑکے کے سرخ یا براؤن بال دیکھتا ہے تو یہ سوال ضرور کرتا ہے کہ آپ کے بالوں کا رنگ ایسا کیوں ہے؟لیکن اس سوال سے ہٹ کر دیکھا جائے تو براؤن یا سرخ بالوں کی حامل خواتین دیگر کے مقابلے میں زیادہ پرکشش اور خوبرو ہوتی ہیں۔جرمنی میں رہنے والے امریکی فوٹو گرافر برین ڈاؤلنگ نے براؤن بالوں والی خوبصورت خواتین سے متعلق تصویری کتاب سامنے لانے کی غرض سے یورپ، امریکا اور آسٹریلیا کے 20 مختلف ممالک کا دورہ کیا۔برین ڈاؤلنگ نے امریکا، یوکرین، آئس لینڈ، اسکاٹ لینڈ، نیدرلینڈ، جرمنی، انگلینڈ، روس، آئرلینڈ اور آسٹریلیا سمیت 20 ممالک کا دورہ کیا۔فوٹوگرافر نے تمام ممالک کی براؤن بالوں کی حامل 130 خواتین کی مختلف مقامات پر تصاویر کھینچیں۔برین ڈاؤلنگ نے ان تصاویر کو کتابی شکل دی ہے، جس کا نام بھی ’ریڈ ہیڈ بیوٹی‘ رکھا گیا ہے۔سرخ یا براؤن بالوں والی 20 ممالک کی 130 ماڈلز کی تصاویر پر مبنی کتاب آنے کے بعد دنیا بھر میں ان خواتین کی خوبصورتی اور بالوں کا چرچہ ہے۔بہت سوں کے ذہنوں میں یہ سوال بھی ابھرتا ہے کہ آخر کچھ لوگوں کے بال سرخ یا براؤن کیوں ہوتے ہیں؟اس حوالے سے دستیاب معلومات کے مطابق دنیا کی مجموعی آبادی کے ایک فیصد افراد کے بال اس وقت براؤن یا سرخ ہیں، جن میں سے زیادہ تر افراد یورپی ممالک کے ہیں۔جن افراد کے بال سرخ ہیں ان میں ایک مخصوص قسم کی پروٹین ایم سی آر ون کی کمی ہوتی ہے جس کی وجہ سے نہ صرف ان کے بال سرخ ہوتے ہیں بلکہ ان کی جسمانی رنگت بھی دوسرے افراد سے مختلف ہوتی ہیں۔ایم سی آر ون کی کمی کے شکار افراد کے جذبات بھی دیگر افراد سے مختلف ہوتے ہیں اور وہ کمی ان میں جینیاتی ہوتی ہے، جو ایک سے زائد نسل سے چلی آرہی ہوتی ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

سائنس/صحت

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved