کیا نماز فجر اور عصر کے بعد نوافل پڑھی جاسکتی ہیں ؟
  15  اپریل‬‮  2017     |     سائنس/صحت

پانچ وقت کی نمازیں ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہیں، ان کے علاوہ نفلی نمازیں بھی ہیں وہ جتنی چاہے پڑھیں ، بعض خاص نمازوں کا ثواب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بیان فرمایا ہے، مثلاً تہجد کی نماز، اِشراق، چاشت، اوّابین، نمازِ استخارہ، نمازِ حاجت وغیرہ۔صبحِ صادق کے بعد سنتِ فجر کے علاوہ نوافل مکروہ ہیں، سنتوں سے پہلے بھی اور بعد بھی، اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ “تہجد کے بعد اور فجر کی سنتوں سے قبل سجدہ ہی حرام ہے” یہ قطعاً غلط ہے۔ فجراورعصرکے بعد نوافل پڑھناغلط ہے سنتِ فجر سے پہلے سجدہٴ تلاوت کرسکتے ہیں اور قضا نمازیں بھی پڑھ سکتے ہیں لیکن صبحِ صادق کے بعد سنتِ فجر کے علاوہ اور نوافل جائز نہیں۔اس کے علاوہ مغرب کی نماز اذان کے بعد جلدی پڑھنے کا حکم ہے، اس لئے حنفیہ کے نزدیک مغرب سے پہلے نفل پڑھنا مناسب نہیں۔ عصر کی نماز کے بعد نوافل نہیں پڑھ سکتے یہ مکروہ عمل ہے لیکن اگر کوئی قضا نماز پڑھنا چاہتا ہے تو آئمہ کے نزدیک بہترعمل یہ ہے کہ وہ نمازیں مسجد کے بجائے گھر پر ہی پڑھی جائیں، لہٰذا فجر کی نماز اورعصر کی نماز کے بعد نوافل نہیں پڑھ سکتے۔ نفل نمازیں بیٹھ کر پڑھنا کیسا ہے؟ نفل نمازوں کو بیٹھ کر پڑھنا لوگوں کی اپنی ایجاد ہے کہ وہ تمام نمازیں کھڑے ہوکر پڑھتے ہیں مگر نفل بیٹھ کر پڑھتے ہیں۔ علماء کرام کے مطابق نفل بیٹھ کر پڑھنے کی اجازت ضرورہے لیکن بنا کسی عذرکے بیٹھ کر نفل پڑھنے سے نماز کا ثواب بھی آدھا ملتا ہے۔اس لئے نفل نمازیں کھڑے ہوکر پڑھنا افضل ہے، پنج وقتہ نماز کی پابندی ہر مسلمان کو کرنی چاہئے، اس میں کوتاہی کرنا دُنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ کے غضب و لعنت کا موجب ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
91%
ٹھیک ہے
9%
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

سائنس/صحت

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved