صحت کو بہتر بنانے کے 5 آسان ترین طریقے
  21  اپریل‬‮  2017     |     سائنس/صحت

لاہور:( ویب ڈیسک)کون ہے جو بیمار ہونا چاہتا ہے؟‏ بیماری تو نہ صرف اِنسان کا جینا دوبھر کرتی ہے بلکہ یہ جیبیں بھی خالی کر دیتی ہے۔‏ اِس کی وجہ سے آپ کی طبیعت بیزار رہتی ہے،‏ آپ کام پر یا سکول نہیں جا سکتے،‏ کمائی نہیں کر سکتے اور اپنے گھر والوں کی دیکھ‌ بھال بھی نہیں کر سکتے،آپ کچھ ایسی احتیاطی تدابیر کر سکتے ہیں جن سے بعض بیماریوں میں مبتلا ہونے کا اِمکان یا تو کم ہو سکتا ہے یا پھر بالکل ختم ہو سکتا ہے۔‏ ہاتھ اچھی طرح دھوئیں بہت سے صحت کے اِداروں کے مطابق ہاتھ دھونا بیماریوں اور اِن کے پھیلاؤ سے بچنے کا ایک بہترین طریقہ ہے،عام طور پر لوگوں کو نزلہ،‏ زکام اور فلو اِس لیے ہوتا ہے کیونکہ وہ گندے ہاتھوں سے اپنی ناک یا آنکھوں کو ملتے ہیں،اِن بیماریوں سے بچنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ دن میں اکثر ہاتھ دھوئیں،حفظانِ‌صحت کے اصولوں پر عمل کرنے سے تو آپ زیادہ سنگین بیماریوں سے بھی بچ سکتے ہیں جیسے کہ نمونیا اور دست وغیرہ،ایسی بیماریوں کی وجہ سے ہر سال 20 لاکھ سے زیادہ بچے موت کا شکار ہوتے ہیں جن کی عمر پانچ سال سے کم ہوتی ہے،ہاتھ دھونے کی معمولی عادت اپنانے سے ایبولا جیسی جان ‌لیوا بیماری کے پھیلنے کا اِمکان بھی کم ہو سکتا ہے۔ صاف پانی اِستعمال کریں بعض ملکوں میں لوگوں کو صاف پانی حاصل کرنے کے لیے بڑی محنت کرنی پڑتی ہے لیکن جن ملکوں میں صاف پانی عام دستیاب ہے وہاں پر بھی سیلاب،‏ آندھی طوفان،‏ پانی کا پائپ پھٹنے یا پھر کسی اَور مسئلے کی وجہ سے صاف پانی حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے،اگر وہ جگہ صاف نہیں جہاں سے پانی آ رہا ہے یا پھر پانی کو صحیح طرح ذخیرہ نہیں کِیا جاتا تو ایسا پانی پینے سے آپ کے اندر خطرناک جراثیم داخل ہو سکتے ہیں،اِس کے علاوہ آپ کو ہیضے،‏ ٹائیفائیڈ،‏ ہیپاٹائٹس یا دست کی جان ‌لیوا بیماری ہو سکتی ہے،ہر سال تقریباً 1 ارب 70 کروڑ لوگ دست کی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں۔‏ اِس کی ایک وجہ پینے کا آلودہ پانی ہے۔‏ کھانے میں احتیاط برتیں اچھی صحت کے لیے ضروری ہے کہ آپ متوازن اور غذائیت ‌بخش خوراک کھائیں۔‏ اِس بات کا خیال رکھیں کہ آپ بہت زیادہ نمک،‏ چکنائی اور چینی اِستعمال نہ کریں اور ایک ہی وقت میں حد سے زیادہ کھانا نہ کھائیں،اپنی خوراک میں پھل اور سبزیاں ضرور شامل کریں اور کوشش کریں کہ آپ ہر روز ایک ہی طرح کی غذا نہ کھائیں،لال آٹے کی روٹی سفید آٹے کی روٹی سے زیادہ ریشےدار ہوتی ہے،اِسی طرح لال آٹے کی ڈبل‌روٹی،‏ دلیہ اور پاستا،‏ میدے سے بنی ہوئی چیزوں کی نسبت زیادہ ریشے دار اور غذائیت ‌بخش ہوتے ہیں،اِس لیے اِنہیں خریدتے وقت اِن پر لکھی معلومات کو غور سے پڑھیں تا کہ آپ دیکھ سکیں کہ یہ لال آٹے سے بنی ہیں یا میدے سے،پروٹین حاصل کرنے کے لیے ایسا گوشت کھائیں جس میں زیادہ چربی نہ ہو،اِس بات کا بھی خیال رکھیں کہ آپ حد سے زیادہ نہ کھائیں،اگر ممکن ہو تو ہفتے میں ایک دو بار مچھلی کھائیں،بعض ملکوں میں لوگ پروٹین حاصل کرنے کے لیے گوشت کے علاوہ ایسی اشیا بھی اِستعمال کرتے ہیں جو اناج سے بنی ہوتی ہیں۔‏ اگر آپ چکنائی سے بھرپور اور میٹھی غذائیں بہت زیادہ اِستعمال کرتے ہیں تو آپ موٹاپے کا شکار ہو سکتے ہیں،اِس لیے میٹھے مشروب پینے کی بجائے پانی اِستعمال کریں اور میٹھے پکوان کی جگہ پھل اِستعمال کریں،گوشت،‏ مکھن،‏ پنیر،‏ کیک اور بسکٹ وغیرہ بھی کم لیں کیونکہ اِن میں بھی چکنائی بہت زیادہ ہوتی ہے اور کھانا پکانے کے لیے گھی یا چربی اِستعمال کرنے سے بہتر ہے کہ آپ کوئی اچھا تیل اِستعمال کریں،کھانے میں بہت زیادہ نمک لینے کی وجہ سے بلڈ پریشر بڑھ سکتا ہے جو نقصان‌دہ ثابت ہوتا ہے۔‏ اگر آپ اِس مرض میں مبتلا ہیں تو اپنے کھانے میں نمک کی مقدار کم کریں اور اگر آپ کوئی پیکٹ والا کھانا خریدتے ہیں تو اُس کے لیبل پر نمک کی مقدار ضرور چیک کریں،صرف اِس بات کا خیال رکھنا ہی اہم نہیں ہے کہ آپ کس طرح کی غذا کھاتے ہیں بلکہ یہ دیکھنا بھی اہم ہے کہ آپ کتنی مقدار میں کھاتے ہیں،اپنے کھانے سے لطف ضرور اُٹھائیں لیکن جتنی بھوک ہے،‏ اُس سے زیادہ نہ کھائیں،اگر کھانا صحیح طرح پکایا نہیں گیا یا پھر اِسے اچھی طرح محفوظ نہیں کِیا گیا تو اِس سے فوڈ پوائزننگ یعنی شدید پیٹ خراب اور اُلٹیاں ہو سکتی ہیں۔‏ عالمی اِدارۂصحت کے مطابق ہر سال لاکھوں لوگ اِس طرح کا کھانا کھانے کی وجہ سے شدید بیمار ہو جاتے ہیں۔‏ زیادہ‌ تر لوگ تو جلدی ٹھیک ہو جاتے ہیں مگر کچھ اِس کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ باقاعدگی سے ورزش کریں آپ کی عمر چاہے جو بھی ہو،‏ صحت‌ مند رہنے کے لیے باقاعدگی سے ورزش کرنا ضروری ہے،آج‌کل بہت سے لوگ اُتنی ورزش نہیں کرتے جتنی اُن کے لیے ضروری ہوتی ہے،آپ کو اپنی عمر اور صحت کے مطابق ورزش کرنی چاہیے،اِس لیے کوئی نئی ورزش شروع کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا اچھا ہوگا،ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں اور نوجوانوں کو ہر روز کم ‌از کم ایک گھنٹہ کھیل کود کرنی چاہیے،بالغوں کو ہر ہفتے ڈھائی گھنٹے ہلکی پھلکی ورزش یا پھر سوا گھنٹہ سخت ورزش کرنی چاہیے،آپ ورزش کے طور پر کسی کھیل کا اِنتخاب کر سکتے ہیں،مثال کے طور پر باسکٹ‌بال،‏ چڑی چھکا اور فٹ‌بال وغیرہ،آپ دوڑنے جا سکتے ہیں،‏ تیراکی کر سکتے ہیں،‏ تیز تیز چل سکتے ہیں یا پھر سائیکل چلا سکتے ہیں لیکن ہلکی پھلکی ورزش اور سخت ورزش میں کیا فرق ہے؟‏ ہلکی پھلکی ورزش وہ ہوتی ہے جس میں آپ کو پسینہ آتا ہے لیکن اِس دوران آپ دوسروں سے بات‌چیت بھی کر سکتے ہیں جبکہ سخت ورزش میں ایسا کرنا بہت ہی مشکل ہوتا ہے۔‏ نیند پوری کریں عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ ہماری نیند کی مقدار بھی بدلتی جاتی ہے،نوزائیدہ بچے دن میں 16 سے 18 گھنٹے سوتے ہیں،ایک سے تین سال کا بچہ 14 گھنٹے سوتا ہے اور تین یا چار سال کا بچہ 11 یا 12 گھنٹے سوتا ہے،سکول جانے والے بچوں کو کم ‌از کم 10 گھنٹے،‏ نوجوانوں کو تقریباً 9 یا 10 گھنٹے اور بالغوں کو 7 سے 8 گھنٹے کی نیند کی ضرورت ہوتی ہے،نیند کا پورا نہ ہونا موٹاپے،‏ ڈیپریشن،‏ دل کی بیماری،‏ شوگر اور جان‌لیوا حادثوں کا باعث بنتا ہے،اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھرپور نیند سونا کتنا اہم ہے،آپ کی صحت پر کچھ ایسے مسائل بھی اثرانداز ہو سکتے ہیں جنہیں آپ چاہ کر بھی حل نہیں کر سکتے،‏ مثلاً ملک کی معاشی حالت،‏ مناسب سہولیات کی کمی وغیرہ۔‏ لیکن آپ اِس مضمون میں دی گئی کچھ تجاویز کو تو یقیناً اپنا سکتے ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
67%
ٹھیک ہے
33%
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

سائنس/صحت

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved