ڈی این اے ایڈٹنگ سے ذیابیطس کا علاج دریافت
  7  اگست‬‮  2017     |     سائنس/صحت

اسلام آباد(ویب نیوز)چند ہفتے قبل ہی جنین (ایمبریو) کے ڈی این اے کی مرمت کرکے پیدائش سے قبل ہی بچے کو دل کی موروثی بیماری سے چھٹکارا دلانے کے بعد امریکی اور کوریائی ماہرین نے وہی CRISPR-CAS9 ٹیکنالوجی استعمال کرکے ذیابیطس کا علاج دریافت کر لیا ہے۔اس ٹیکنالوجی کے ذریعے متاثرہ شخص کے ڈی این اے کو متاثرہ حصے سے کاٹ دیا جاتا ہے جس کے بعد وہ حصہ قدرتی طریقے سے از خود دوبارہ نشونما پاتا ہے اور کسی نقص کے بغیر اپنی اصلی حالت میں واپس آ جاتا ہے۔ ماہرین نے اسے جینیاتی کَٹ اینڈ پیسٹ کا نام دیا ہے۔نئی دریافت میں محققین نے ذیابیطس کا سببب بننے والی جین گُلوکاگون لائک پیپٹائڈ (GLP-1) میں ترمیم کی۔ یہ جین انسولین خارج کرتی ہے اور اس کے بعد خون سے

اضافی گلوکوز (شوگر) ختم کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ ٹائپ ٹو ذیابیطس کی بیماری انسولین کی قلت کی وجہ سے لاحق ہو جاتی ہے۔ CRISPR-CAS9 ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے محققین نے جی ایل پی ون جین میں ترمیم کی تجویز دی ہے تاکہ یہ عمومی دورانیہ سے زیادہ عرصہ تک اور دیرپا انداز سے کام کر سکے۔اس تجربے کیلئے جلد کا ایک چھوٹا حصہ کاٹا گیا اور اس کے بعد اسے چوہوں میں منتقل کر دیا۔ ماہرین کے مطابق نتائج نہ صرف حوصلہ افزا بلکہ شاندار تھے، جلد کے 80؍ فیصد حصوں نے کامیابی کے ساتھ چوہوں کے خون میں مطلوبہ ہارمون خارج کیا جس سے ان کے خون میں گلوکوز کی سطح معمول کے مطابق دیکھی گئی اور ساتھ ہی انسولین کی قلت دور ہوئی اور ان کے وزن میں بھی اضافہ نہیں ہوا۔اس ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے والے کوریائی ماہر ڈاکٹر وو کا کہنا ہے کہ تجربات اور ان کے نتائج نے ہمیں پرجوش بنا دیا ہے اور یہ پہلی مرتبہ ہے کہ طبی بنیادوں پر تبدیل / ترمیم شدہ جلد کے حصے جنگلی چوہوں پر استعمال کیے گئے اور وہ نہ صرف زندہ رہے بلکہ ان کی نشونما بھی بہتر رہی۔انہوں نے توقع کا اظہار کیا کہ مستقبل میں یہ طریقہ کار محفوظ انداز سے انسانوں پر بھی استعمال کیا جا سکے گا۔ یاد رہے کہ پہلی مرتبہ CRISPR-Cas9 سسٹم کا استعمال 2013ء میں ہوا تھا۔ جین میں ایڈٹنگ کرنے کا آلہ ہے جو رائبو نیوکلیک ایسڈ (آر این اے) کے ایک چھوٹے ٹکڑے پر مشتمل ہوتا ہے۔یہ ایک جینیاتی مالیکول ہے جو ڈی این اے سے قریبی طور پر تعلق رکھتا ہے، اور اس میں ایک انزائم پروٹین بھی ہوتا ہے جسے Cas9 کہا جاتا ہے۔ آر این اے کے حصے میں پروگرامنگ کرکے اسے ڈی این اے کے مخصوص حصے پر چھوڑا جاتا ہے جس کے بعد Cas9 ڈی این اے کے متعلقہ حصے کو ایک قینچی کی طرح چیر کر اس آر این اے کو اندر داخل کر دیتا ہے۔ اس طرح فعال جین کو غیر فعال کرکے اس کا ناقص حصہ نکال لیا جاتا ہے جس کے بعد جین قدرتی طور پر اس خلا کو پر کر دیتی ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

سائنس/صحت

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved