ہزاروں سال تک زندہ رہنے والا قاتل
  7  اگست‬‮  2017     |     سائنس/صحت

انسان کتنا نادان ہے۔ پہلے اپنے ہاتھوں سے بت تراش کر ان کی پوجا کرتا تھا۔ اب اپنے ہاتھوں سے اپنے لیے قاتل تراشتا ہے۔ خطرناک اور خودکار ہتھیاروں سے لے کر ایٹم بم تک سب کو نظر انداز بھی کردیں تو انسان نے اس کے علاوہ بھی خود اپنے لیے خاموش قاتل تخلیق کرلیے ہیں۔ یہ کرہ ارض کچھ دہائیوں سے ایک ایسے قاتل کی لپیٹ میں ہے جسے ہر انسان اپنے ہاتھ میں لے کر گھومتا ہے۔ ایک ایسا قاتل جو آپ کے گھر کے ہر کمرے میں چھپا بیٹھا ہے۔ یہاں تک کہ آپ کوئی دراز بھی کھولیں تو وہاں بھی یہی قاتل سانپ کی طرح کنڈلی مارے بیٹھا ہوگا۔ اس قاتل کی خاص بات یہ ہے کہ یہ خود کبھی نہیں مرتا۔ اس کی عمر ہزاروں سال سے بھی زیادہ ہے۔ ہم بات کر رہے ہیں پولی تھین سے بننے والے شاپنگ بیگ کی جو نہ صرف زمین پر بلکہ ندی نالوں سے ہوتا ہوا سمندر تک مار کرتا ہے۔

اس کا زہر پھیلتا چلا جارہا ہے لیکن کوئی اس پر بند باندھنے والا نہیں۔ انسانوں کے لیے تو یہ ندی نالوں میں پھنس کر طغیانی کی صورت میں مشکلات کا باعث بنتا ہے لیکن کوڑے کرکٹ کے ڈھیروں اور چراگاہوں میں یہ جانوروں کے پیٹ میں جا کر ان کی موت کا سبب بنتا ہے تو دوسری جانب ندی نالوں میں آبی جانور اور پرندے بھی اس کے شر سے محفوظ نہیں۔ یہ ماحول دشمن پلاسٹک بیگز سالانہ دس لاکھ آبی پرندوں جانوروں اور دیگر آبی مخلوق کے قاتل ہیں۔ ان کا زہریلا کیمیکل زمین کے لیے بھی خطرناک ہے۔ ادارہ برائے ماحولیاتی تحفظ کی تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں سالانہ پچاس کروڑ سے ایک کھرب تک شاپنگ بیگ تیار کیے جاتے ہیں جو جو ایک بار استعمال کے بعد ہمیشہ ہمیشہ کے لیے زمین یا سمندر کا حصہ بن جاتے ہیں۔اس کی وجہ ان کی ری سائیکلنگ نہ ہونا ہے۔کیونکہ ری سائیکلنگ پر جس قدر اخراجات آتے ہیں اس سے کہیں کم قیمت میں نیا شاپنگ بیگ تیار ہو جاتا ہے۔ایک ٹن شاپنگ بیگ کی ری سائیکلنگ پر تقریباً چار ہزار ڈالر خرچ ہوتے ہیں جبکہ مارکیٹ میں ان کی قیمت 32 ڈالر سے زیادہ نہیں۔ ایسے میں کون زمین سے فضا اور خشکی سے سمندر تک مار کرنے والے اس قاتل کو لگام ڈالنے کے لیے اسے ری سائیکل کرے گا۔ یقیناً ایسا کوئی نہیں کرے گا جبکہ یہ ناقابل تلف قاتل خود کبھی نہیں مرے گا کیونکہ ماہرین کے مطابق اس کی عمر ایک ہزار سال سے بھی زائد ہے۔ یہ زمین کی تہوں میں ہو یا سمندر کے پانیوں میں اپنا وجود برقرار رکھتا ہے۔ماہرین کے مطابق اگر شاپنگ بیگ تیار کرنے کے لیے پولی تھین کی جگہ اولیفین کیمیکل استعمال کیا جائے تو وہ چند ماہ بعد خود بخود تحلیل ہو سکتا ہے۔عالمی برادری کو اس سلسلے میں اقدامات کرنے ہوں گے ورنہ پانی تو سرتقریباً ناک تک پہنچ چکا ہے اور جلد ہی سر سے گزر جائے گا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
89%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
11%


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

سائنس/صحت

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved