جن کا خیال ہے آفس ورکنگ آسان ہے تو وہ اسے ضرور پڑھیں
  10  اگست‬‮  2017     |     سائنس/صحت

عام طور پر لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ آفس میں کام کرنا سب سے کم مشکل اور کم نقصان دہ ہوتا ہے جبکہ ڈاکٹرز کا خیال بالکل اس کے برعکس ہے۔ آج ہم آپ کو وہ خطرناک عوامل بتانے جا رہے ہیں جن کا آفس ورکرز کو سامنا ہوتا ہے۔تو آئیے جانتے ہیں کہ آفس میں کام کرنے والے افراد کو کن مشکلات کا سامنا ہوتا ہے یا ان کی صحت کو کن چیزوں سے خطرہ ہوتا ہے۔جیسا کہ آپ جانتے ہیں آفس ورکرز ایک ہی جگہ اپنی کرسی پر بیٹھ کر پورا دن کام کرتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے عام لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ یہ مشکل کام نہیں ہے لیکن حقیقت بالکل اس کے برعکس ہے۔

جب کوئی انسان ایک ہی جگہ گھنٹوں بیٹھتا ہے تو جسم کے مختلف اعضاء کے پٹھے کام کرنا بھول جاتے ہیں اور ان کا ورک لوڈ بھی کچھ اعضاء پر منتقل ہوجاتا ہے جس کا بوجھ بھی انہی اعضاء کو اٹھانا پڑتا ہے۔اسی لئے ڈاکٹرز اس بات کا مشورہ دیتے ہیں کہ آفس میں کام کرنے والے افراد کو ہر دو گھنٹے بعد 5 سے 15 منٹ تک کے لئے اپنی سیٹ سے اٹھ کر چہل قدمی کرنی چاہیئے تاکہ اعضاء کو کام کرنا یاد رہے۔اس کے علاوہ کرسی پر گھنٹوں بیٹھنے والے شخص کو کمر، بیضہ دانی اور ٹانگوں میں شدید درد کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ انسان کا جسم ایک ایسے پیچیدہ نظام پر مشتمل ہوتا ہے کہ اگر جسم کے کسی ایک حصے میں بھی درد ہوتو پورا جسم اس درد کو محسوس کرتا ہے۔ اسی لئے اگر انسان کے کسی عضو میں تکلیف ہوتو وہ یکساں طور پر جسم کو حرکت نہیں دے پاتا جس کی وجہ سے جسم کے اس حصے کا لوڈ بھی دوسرے حصے کو اٹھانا پڑتا ہے جو انتہائی حساس صورتحال بھی اختیار کرسکتا ہے۔اس کے علاوہ مسلسل بیٹھے رہنے سے آپ کی بیضہ دانی بھی متاثر ہوتی ہے جس طرح تصویر میں بھی دکھایا گیا ہے۔ چونکہ ٹانگوں کا وزن بھی آپ کے ہِپس پر ہی آجاتا ہے تو اس بھی پٹھوں کو بے حد نقصان پہنچتا ہے۔اسی لئے آفس ورکرز کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد اپنی کرسی سے اٹھ کر تھوڑا چل لیا کریں یا کچھ دیر کھڑے ہوجائیں ایسا کرنے سے آپ کے پٹھے ڈیڈ نہیں ہوں گے اور جسم کے دوسرے اعضاء بھی متاثر نہ ہوں گے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

سائنس/صحت

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved