ناک کے نیچے یہ لکیر کیوں ہوتی ہے؟ اس کا کیافائدہ ہے؟
  13  اگست‬‮  2017     |     سائنس/صحت

لاہور(نیو زڈیسک) کیا آپ نے کبھی سوچا ہے ہونٹ کے اوپر اور ناک کے نیچے ایک لکیر سی کیوں ہوتی ہے اور اس کا مقصد کیا ہے؟،اسے طبی زبان میں "فی لٹرم"کہا جاتا ہے اور عملی طور پر یہ کسی مقصد کے لیے نہیں یا بے مقصد ہے،تو پھر سوال یہ ہے کہ یہ ہر چہرے پر ہوتی کیوں ہے؟،درحقیقت یہ لکیر ماں کے پیٹ میں بنتی ہے، کیونکہ حمل کے آغازمیں کچھ وقت ایسا ہوتا ہے جب ہر بچہ چہرے سے محروم ہوتا ہے۔دو سے تین ماہ بعد تبدیلیاں آنے لگتی ہیں اور چہرہ تشکیل پانے لگتا ہے،سب سے پہلے نتھنے اور پھر منہ تشکیل پاتا ہے اور پھر یہ اپنی جگہ بدل کر وہاں پہنچتے ہیں جہاں ہر ایک کی ناک

اور منہ ہوتے ہیں،تو جب ناک اور ہونٹ اپنی جگہ پہنچ جاتے ہیں تو یہ لکیر نمودار ہوتی ہے۔کئی بار ناک اور ہونٹ ٹھیک طرح اپنی جگہ بدل نہیں پاتے تو اس سے کٹے ہوئے ہونٹ چہرے پر نظر آتے ہیں،صرف انسانوں میں نہیں بلکہ بیشتر ممالیہ جانداروں میں یہ لکیر عام ہوتی ہے اور ان کے لیے بھی بے مقصد ہی ہوتی ہے مگر بلی اور کتوں میں یہ کارآمد ہوتی ہے اور یہ ان کی سونگھنے کی حس میں مددگار ثابت ہوتی ہے‎


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
80%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
20%
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

سائنس/صحت

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved