پاکستان آئی سی سی ایونٹس میں بھارت کا بائیکاٹ کرے،میانداد
  7  اگست‬‮  2017     |      سپورٹس

اسلام آباد (ویب نیوز)سابق کپتان جاوید میانداد نے آئی سی سی ایونٹس میں بھارت کے بائیکاٹ کا مطالبہ کر تے ہوئے کہا ہے کہ پی سی بی کے رویے میں لچک کا بھارتی بورڈ نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ایک انٹرویو میں ان کا کہناتھا کہ پاکستان ٹیم کو 2012ءمیں اپنے ملک بلاکر سیریز سے خود اربوں روپے کمالیے ،جب پی سی بی کی باری آئی تو ٹھینگا دکھا دیا، ان چیزوں سے کسی نے سبق نہیں سیکھا۔لیجنڈ بیٹسمین نے مزید کہا کہ ہمیں شروع سے ہی قومی غیرت کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا، باہمی سیریز کیلئے منت سماجت کے بجائے اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی پالیسی اپنانا چاہیے تھی،صاف کہنا چاہتے تھاکہ آپ نہیں کھیلتے تو ہمیں بھی کوئی فکر نہیں ۔میانداد نے کہاکہ بھارت اس لیے بھی شیر ہوا کہ پی سی بی نے دبا بڑھانے کیلئے درست پلیٹ فارم استعمال نہیں کیا،پاکستان ورلڈ کپ سمیت انٹرنیشنل ایونٹس میں ان کی ٹیم سے کھیلتا رہا،آئی سی سی کے مقابلوں کا

تسلسل سے انعقاد ہوتا رہا اور اس کی آمدنی پر بھی کوئی فرق نہیں پڑا۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر اب بھی پاکستان انٹرنیشنل ٹورنامنٹس میں بھارت کیساتھ کھیلنے سے انکار کرے تو ایونٹ کی رونقیں ماند اور مالی نقصان ہونے سے کونسل بھارت پر دبا بڑھانے پر مجبور ہوگی، نہ صرف کہ آئی سی سی بلکہ کرکٹ برادری کو احساس ہوگا کہ کس کےساتھ ناانصافی ہورہی ہے، برابری کی سطح پر ہماری بات سنی جائےگی، عالمی کرکٹ منتظمین کو احساس ہوگا کہ معاہدوں کی خلاف ورزی پر پاکستان کو ہونے والے نقصان کا ازالہ کرنے کیلئے کوئی قدم اٹھانا چاہیے۔سابق کپتان نے یہ بھی کہا کہ عالمی کرکٹ کے معاملات دیکھنے کیلئے ایک ہی گورننگ باڈی ہے اور پاکستان بھی بھارت کے برابر ہی اس کا اہم رکن ہے،اس پر دبا بڑھانا چاہیے کہ مسئلہ حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرے، کونسل کو کہنا چاہیے کہ سب کے حقوق کا خیال رکھنا اس کا فرض ہے، مسئلہ حل نہیں کرا سکتے تو ہمیں کھیلنے کیلئے کیوں کہتے ہو۔لیجنڈ کرکٹر نے کہا کہ بائیکاٹ کا بہادرانہ فیصلہ کرنے کیلئے قومی غیرت چاہیے، کئی سال سے بھارت کے ساتھ سیریز نہیں کھیل رہے، آئی سی سی ایونٹس میں بھی نہیں کھیلیں گے تو کوئی پہاڑ نہیں ٹوٹ جائے گا۔ایک سوال پر جاوید میانداد نے کہا کہ بھارت کیخلاف قانونی چارہ جوئی کیلئے بجٹ میں ڈیڑھ ارب مختص کرنے کا فیصلہ درست نہیں،ان حربوں سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں، صرف وقت اور پیسہ ضائع ہوگا،البتہ چند لوگوں کو اس بھاری رقم میں سے کمائی کا موقع مل جائے گا، میرے خیال میں اتنی بڑی رقم کو ایک فضول کوشش میں ضائع کرنے کے بجائے ملک میں کرکٹ کے فروغ کیلئے استعمال کی جانا چاہیے۔سابق کپتان نے مزید کہا کہ جب مستقبل میں کھاتے کھلیں گے تو بورڈ میں اس نوعیت کے فضول اخراجات کی تفصیلات سامنے آئیں گی۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
100%


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

سپورٹس

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved