مصر کی لڑکیوں کی جبری بھرتی کی افواہوں کی سختی سے تردید
  9  جنوری‬‮  2017     |     دنیا
قاہرہ(مانیٹرنگ ڈیسک )مصری حکومت نے کم عمر لڑکیوں کی سرکاری محکموں میں جبری بھرتیوں سے متعلق سامنے آنے والی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے ان کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا کہ تمام افواہیںبے بنیاد ہیں جن میں کوئی صداقت نہیں ہے۔سول سروس قانون کے تحت جامعات اور اعلی تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل افراد کےلئے ایک سال سروس کرنا لازمی ہے۔عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق مصری وزارت برائے سماجی بہبود کی خاتون عہدیدار انجینئر امانی غنیم نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کم عمر لڑکیوں کی جبری بھرتیوں کے حوالے سے سامنے آنے والی تمام افواہیں بے بنیاد ہیں جن میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سول سروس قانون کی دفعہ 86 مجریہ 1973 کے تحت جامعات اور اعلی تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہونے والے افراد کے لیے ایک سال سروس کرنا لازمی ہے اور اس کی پابندی متعلقہ ادارے خود کراتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزارت بہبود آباد کی جانب سے عائلی تنظیم سازی، انتظامی امور اور ناخواندگی ختم کرنے کے لیے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو سرکاری اداروں میں کچھ عرصہ کے لیے خدمات انجام دینے کے لیے مختص کیا جاتا ہے مگر وہ بھرتی بھی جبری نہیں ہوتی۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
100%
پسند ںہیں آئی
 




 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...

  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

دنیا

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved