’میری نیند میں کیوں خلل ڈالا؟‘مصری یونیورسٹی کے سربراہ نے خاتون نیوز کاسٹر کو جھڑک دیا
  20  مارچ‬‮  2017     |     دنیا
مصر (روزنامہ اوصاف)میں ’ڈی ایم سی‘ ٹی وی چینل کی ایک خاتون نیوز اینکر کو اس وقت سخت مشکل کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے ایک یونیورسٹی میں طلباء کے درمیان ہونے والے تصادم پر بات کرنے کے لیے اس یونیورسٹی کے ریکٹر کو ٹیلیفون کیا۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق نیوز اینکر ایمان الحصری کی جانب سے لائیو بیپر کے لیے رابطہ کرنے پر ’جامعہ 6 اکتوبر‘ کے ریکٹر ڈاکٹر احمد عطیہ نے نہ صرف اسے جھڑک دیا بلکہ کہا کہ رات گیارہ بجے فون کر کے اس کی نیند میں خلل کیوں پیدا کیا گیا۔ایمان الحصری نے ڈاکٹر عطیہ سے یونیورسٹی میں دن کو دو طلباء گروپوں کے درمیان ہونے والے تصادم پر ان کی رائے معلوم کی تو اس کے جواب میں ڈاکٹر عطیہ نے کہا کہ کسی سے رائے معلوم کرنے کا یہ کون سا وقت ہے۔ رات کے گیارہ بج رہے ہیں۔ میں گھر میں اکیلا ہوں اور بچے گھر سے باہر ہیں۔ میں نے فون کال اس خدشے کے تحت اٹینڈ کرلی کہ خدا نخواستہ اس کے بچوں کے ساتھ کوئی حادثہ پیش نہ آ گیا ہو۔ڈاکٹر العطیہ نے ٹی وی چینل کی اینکر کو کہا کہ جامعات میں طلباء کے درمیان معمولی تنازعات چلتے رہتے ہیں۔ انہیں اچھالنے اور آدھی رات کو ان پر رائے لینے کا کوئی جواز نہیں۔اس پر ایمان الحصری نے معذرت کی اور کہا کہ وہ سمجھے تھے کہ معاملہ شاید زیادہ سنگین ہے۔ کیونکہ یہ اطلاعات ملی تھیں کہ جامعہ کی حدود میں دو طلباء گروپوں نے اسلحہ کا استعمال کیا ہے۔ ڈاکٹر احمد عطیہ نے بات مکمل کیے بغیر ہی فون بند کردیا۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

دنیا

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved