پاکستان میں تاریخی کارروائی،پاسپورٹ منسوخ ، نقل و حرکت پر پابندی صوبائی حکومتوں کو کارروائی کی ہدایت، خفیہ ایجنسیوں کو آگاہ کر دیا گیا
  12  ستمبر‬‮  2017     |     دنیا

اسلام آباد( روزنامہ اوصاف ) وفاقی و صوبائی حکومتوں کے احکامات کے تحت اس وقت تک کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 8ہزار3سو33افراد کے نام فورتھ شیڈول میں ڈالے گئے ہیں جبکہ کل 5ہزار23 بینک کھاتے منجمد کئے گئے ہیں،63 تنظیموں کے نام کالعدم تنظیموں کی فہرست میں جبکہ 3 کے نام واچ لسٹ میں ہیں ، کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد کی40کروڑ روپے کی رقوم منجمد کی گئی ہیں۔ان کے پاسپورٹ منسوخ کردیئے گئے ہیں،اس فہرست میں ان لوگوں کے نام شامل کئے جاتے ہیں جن کا تعلق کسی کالعدم قرار دی گئی تنظیم یا ‘‘انڈر آبزرویشن’’ جماعت سے ہوتا ہے اور ان کا کوئی تعلق امن و امان خراب کرنے ، دہشت گردی، عسکریت پسندی یا فرقہ واریت سے بالواسطہ یا بلا واسطہ پایا جاتا ہے ۔ ذرائع کے مطابق جماعۃ الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید سمیت ان کے چار دیگر ساتھیوں عبد اللہ عبید، ظفر اقبال، عبدالرحمان اور قاضی کشف نیاز سمیت 38 دوسرے افراد کے نام بھی اس فہرست پر موجود ہیں جو فروری دو ہزار سترہ میں ڈالے گئے تھے ۔ جماعۃ الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے نام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردار 1267 کے تحت واچ لسٹ پر ڈالے گئے ہیں، ذرائع کے مطابق محکمہ پاسپورٹ و امیگریشن کو ان کے ناموں سے آگاہ کردیا گیا ہے تاکہ وہ انہیں نئے پاسپورٹوں کے اجراء یا ان کی تجدید پر نظر رکھ سکیں۔مالیاتی مدد اور کریڈٹ کارڈز کے حصول پر بھی پابندی ہے ، اس حوالے سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو بھی فورتھ شیڈول کے ناموں سے آگاہ کردیا گیا ہے ، وزارت داخلہ کے مطابق فورتھ شیڈول میں جن کے نام ڈالے گئے ہیں ان پر ہر طرح کے اسلحہ لائسنسوں کی پابندی عائد کردی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ فورتھ شیڈول پر موجود افراد سے متعلق اعداد و شمار اور تفصیلات سے آئی ایس آئی اور دیگر خفیہ اداروں کو بھی آگاہ کیا گیا ہے ، ایف آئی اے کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ ان کی داخلی و خارجی مقامات پر نقل و حمل پر نظر رکھی جائے ،صوبائی حکومتوں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ فورتھ شیڈول میں شامل ناموں کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997کے مطابق کارروائی کی جائے ۔ جن افراد کے نام انسداد دہشت گردی ایکٹ THE ANTI-TERRORISM ACT, 1997کے مطابق فورتھ شیڈول میں ڈالے گئے ہیں ان کی نقل و حمل پر پابندی ہے

، ان کو پاسپورٹ جاری نہیں کیا جاتا اوران کے اثاثہ جات پر نظر رکھی جاتی ہے ۔ وزارت داخلہ کے مطابق جس کا نام اس فہرست میں ڈالا جاتا ہے ، اس کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اپنے رہائشی ضلع کے پولیس سربراہ کو ایک بانڈ بھر کر دے جس میں یقین دہانی کرائی جائے کہ وہ کسی ناپسندیدہ یا غیر قانونی فعل میں ملوث نہیں پایا جائے گا، اگر کوئی ایسا بانڈ نہ جمع کرائے تو اسے فوری طور پر گرفتار کیا جا سکتا ہے ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

دنیا

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved