روس نے اسلامی ملک پر حملہ کر کے لاشوں کے چیتھڑے اڑا دیے
  12  ستمبر‬‮  2017     |     دنیا

دمشق(مانیٹرنگ ڈیسک)شام کے شہر دیرالزور کے قریب کشتیوں کے ذریعے دریائے فرات کو عبور کرنے والے شہریوں پر روسی فضائیہ کے حملوں کے نتیجے میں 34 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی برطانوی مبصر تنظیم نے روسی فضائی کارروائی سے ابتدائی طور پر 21 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاع دی تھی تاہم بعد میں جاں بحق افراد کی تعداد 34 تک پہنچ گئی۔برطانوی تنظیم کا کہنا تھا کہ اکثر لاشیں دریا میں میں موجود تھیں۔تنظیم کے سربراہ رامی عبدالرحمٰن کا کہنا تھا کہ جاں بحق افراد میں 9 بچے بھی شامل ہیں جبکہ درجنوں افراد زخمی ہوگئے۔ان کا کہنا تھا کہ فضائی کارروائی میںں '40 سے زیادہ کشتیوں' کو نشانہ بنایا گیا جو البولیل شہر سے شہریوں کو لے کر دیرالزور کے ساحل کی طرف آرہی تھیں۔مبصر تنظیم شام میں کام کرنے والے نیٹ ورک کے ذرائع سے معلومات حاصل کرتی ہے

اور اس بات کا تعین کرتی ہے کہ واقعات میں کس اتحاد کے جہازوں کا استعمال ہوا ہے اور اس کے علاوہ واقعے کا مقام، پرواز کے پیٹرن اور گولیاں کے استعمال کا تعین بھی کیا جاتا ہے۔یاد رہے کہ روس نے شامی صدر بشارالاسد کے اتحادی کی حیثیت سے ان کی حمایت کےلیے ستمبر 2015 میں شام مداخلت کی تھی۔اس تازہ کارروائی کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ شامی فوج نے روسی فضائیہ کی مدد سے دیرالزور میں موجود دہشت گرد گروہ دولت اسلامیہ (داعش) کے اراکین کو نشانہ بنایا ہے۔دوسری جانب امریکی حمایت یافتہ کردش اور عرب جنگجو بھی دیرالزور میں داعش کے خلاف متحرک ہوگئے ہیں۔خیال رہے کہ شامی ڈیموکریٹک فورسز(ایس ڈی ایف) نے ایک روز قبل اعلان کیا تھا کہ انھوں نے فرات کے مشرقی علاقے کو داعش سے صاف کرنے کا آغاز کردیا ہے۔برطانی مبصر تنظیم کا کہنا تھا کہ ایس ڈی ایف کے دیرالزور ملٹری کونسل نے یک طرفہ آگے بڑھتے ہوئے علاقوں پر قبضہ کیا ہے اور صوبائی دارالحکومت دیرالزور سے چندکلومیٹر دور ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
100%


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

دنیا

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved