افغان شہریوں نے ایسا کون سا کام کھل کر کرنا شروع کر دیا ۔۔جس پر طالبان کے دور میں سخت پابندی عائد تھی
  12  ستمبر‬‮  2017     |     دنیا

کابل(مانیٹرنگ ڈیسک)بیرون ملک سفر کرنے والے افراد، غیر ملکی ٹیلی ویڑن چینلوں اور سیٹلائٹ ٹی وی تک رسائی نے حالیہ برسوں میں افغان خاندانوں کی زندگی تبدیل کر دی ہے، خاص طور پر افغانستان کے بڑے شہروں میں یہ مناظر دیکھنے کو ملے ہیں،میڈیارپورٹس کے مطابق ملک کی نئی نسل کا رجحان فیشن کی طرف بڑھ رہا ہے۔ افغانستان میں بننے سنورنے اور خوبصورت لگنے کی اس خواہش میں اضافہ ہوا ہے اور افغانستان کا روایتی لباس اب مغرب میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔لیکن اس خوبصورتی کی ایک قیمت بھی چکانی پڑتی ہے۔کابل کے رہائشی سید داو¿د باقاعدگی سے سیلون جاتے ہیں اور ان کے اندر فیشن کی خواہش ایک لڑکی سے محبت کی وجہ سے پیدا ہوئی۔ اب وہ شادی شدہ ہیں اور ان کے بقول فیشن کے

شوق نے انھیں ایک اچھی لڑکی تلاش کرنے میں زبردست مدد دی۔کابل کی دکانوں میں بہت ساری تبدیلیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔ نوجوان افغان اب فیشن ایبل بن چکے ہیں اور دکانوں نے بھی اپنے گاہکوں کے لیے ایرانی، ترکی، عربی اور ہندوستانی اور پاکستانی لباس رکھنا شروع کر دیے ہیں۔سعدیہ افغانستان کی نیشنل ٹیم کی کپتان ہیں۔ ایک نئی نسل کی نمائندہ ہونے کے حوالے سے ان کا فیشن اور میک اپ کا شوق بھی مختلف ہے۔سعدیہ کے بازو پر ایک ٹیٹو بھی بنا ہوا ہے، جس پر لکھا ہے کچھ بھی ناممکن نہیں۔وہ افغانستان کی پہلی خاتون کھلاڑی ہیں جنھوں نے سنہ 2016 میں برازیل اولمپکس میں شرکت کی تھی۔وہ کہتی ہیں کہ یہ آزادی حاصل کرنے کے لیے انہیں بہت سے قدامت پرست خیالات سے لڑنا پڑا۔ایسا لگتا ہے کہ افغان لڑکیوں کو قدامت پسند خیالات کا سامنا تو کرنا پڑ رہا ہے لیکن ان پر حکومت کی جانب سے کسی قسم کا کوئی دباو¿ نہیں ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
100%


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

دنیا

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved