03:36 pm
’’بابر کروز سے شاہین 3 تک بھارت کو نشانہ بنانے کو تیار‘‘

’’بابر کروز سے شاہین 3 تک بھارت کو نشانہ بنانے کو تیار‘‘

03:36 pm

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)700 کلومیٹر سے 2750 کلو میٹر تک تباہی مچا دینے والے میزائل بھارت کی جانب سے غلطی کرنے کے منتظر ،بابر کروز سے شاہین 3 تک تمام میزائل بھارت کے چپے چپے کو نشانہ بنا سکتا ہے۔تفصیلات کے مطابق پلوامہ واقعہ کے بعد پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں کافی تناو نظر آتا ہے۔ایک جانب بھارت کی جانب سے پلوامہ واقعے کا ملبہ پاکستان پر ڈالا جارہا ہے تو دوسری جانب بھارت پاکستان پر دباو ڈال کر سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔پلوامہ واقعہ کے بعد مسلسل بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف جارحانہ رویہ اپنایا جا رہا تھا
تاہم پاکستان نے بھی بھارت کے جارحانہ عزائم کو پنپتے دیکھ کر تیاری مکمل کرلی ہے۔آج وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کو خبردار کیا کہ اگر بھارت کی جانب سے کسی قسم کی جارحیت کی گئی تو پاکستان اس جارحیت کابھرپورجواب دے گا۔بھارت کو شائد علم نہیں کہ اس نے سیاست کی ڈرامہ بازی میں نیوکلئیر ہتھیار رکھنے والی قوم کو جنگ کی دھمکی دی ہے۔اس وقت بھارت کا سارا علاقہ پاکستان کے نشانے پر آچکا ہے۔پاکستان دنیا کا سب سے چھوٹا میزائل بنانے والا ملک ہے جسے نصر میزائل کے ذریعے فائر کیا جاسکتا ہے۔اس کے بعد بابر کروز میزائل کا باری آتی ہے جو آبدوز سے فائر کیا جاسکتا ہے اور 700 کلومیٹر کے علاقے تک تباہی مچا سکتا ہے۔پاکستان کا شمار کروز میزائل ٹیکنالوجی رکھنے والے گنے چنے ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔اس کے بعد بات کی جائے غوری 2 کی تو وہ 12 سو کلوگرام کا جوہری بم لے کر 1800 کلو میٹر تک مار کر سکتا ہے یوں غوری 2 کے نشانے پر آدھا بھارت آ چکا ہے۔اس کے بعد باری آتی ہے 2200 کلومیٹر تک مار کرنے والے ابابیل کی جو ایک ساتھ متعدد پوائنٹس کو نشانہ بنا سکتا ہے۔اسکے بعد نمبر آتا ہے شاہی 3 کا جو 2700 کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یوں بھارت تو بھارت اسرائیل بھی پاکستانی میزائلوں کی رینج سے باہر نہی ں ہے۔یہ تمام میزائل دشمن کے ریڈار سے بچ کر دشمن کے علاقے میں تباہی مچا سکتے ہیں۔