02:48 pm
حکومت کےساتھ چلنا ہے یا نہیں؟ چوہدری پرویز الہٰی نے بالاخر بڑا اعلان کر دیا

حکومت کےساتھ چلنا ہے یا نہیں؟ چوہدری پرویز الہٰی نے بالاخر بڑا اعلان کر دیا

02:48 pm

لاہور (نیوز ڈیسک) قائم مقام گورنر پنجاب چوہدری پرویزالٰہی نے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سے وزیراعلیٰ ہائوس میں ملاقات کی۔ اس موقع پر دونوں رہنمائوں نے پنجاب کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔قائم مقام گورنر نے کہا کہ ہماری جماعت وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے ساتھ ہرمسئلہ پر شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ ملاقات میں وزیرآباد کارڈیالوجی ہسپتال کو آپریشنل کرنے کے حوالے سے مشاورت کی گئی اور ہسپتال کو درپیش تمام رکاوٹیں دور کر کے فوری طور پر چالو کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔خیال رہے کہ یہ گمان کیا جا رہا تھا
کہ حکمران جماعت کے اپنے ہی اتحادی جماعت یعنی مسلم لیگ ق کے ساتھ تعلقات ٹھیک نہیں ہیں، اس لیے پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین آ صف علی زرداری اور جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے چودھری برادران سے جلد ملاقات کے لیے رابطے شروع تھے ۔جبکہ دوسری جناب پاکستان تحریک انصاف کے اہم رہنما بشمول وزیر اعظم عمران خان اتحاد کے حوالے سے نہ صرف متحرک ہوئے بلکہ مسلم لیگ ق کے تحفظات اور ناراضگیوں کو دور بھی کیا گیا ۔ اس سے قبل با وثوق ذرائع کے مطابق اپوزیشن کی جانب سے حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو سخت جھٹکا دینے کے لیے اپوزیشن نے ایک مرتبہ پھر موجودہ صورتحال سے فائدہ اُٹھانے اور دو محاذوں پر کام کرنے کا آغاز کر دیا ہے۔ایک طرف پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سانحہ ساہیوال پر عوامی دباؤ کا شکار ہے تو دوسری جانب مسلم لیگ ق کے تحفظات بھی حکومتی جماعت کے لیے پریشانی کا باعث ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس ضمن میں کوشش کی جا رہی ہے کہ جلد آ صف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمان اپنے اپنے طور پر چودھری برادران سے ملاقات کریں، لیکن چودھری برادران کی طرف سے ابھی تک حکومت کا ساتھ نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔چودھری برادران کے مطابق وہ پاکستان تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت کو معاملات سلجھانے کے لیے وقت دینا چاہتے ہیں،اس حوالے سے انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کی ایک اہم شخصیت کو اعتراضات بھیجے ہیں جن میں اتحاد کی راہ میں رکاوٹ بننے والے عناصر کی نشاندہی بھی کی گئی ہے ۔واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف اقتدار میں آنے کے بعد سے ہی اتحادی جماعتوں یا پھر اپنے ہی نمائندوں کی وجہ سے مشکلات کا شکار رہی ہے۔حال ہی میں مسلم لیگ ق سے تعلق رکھنے والے ایک صوبائی وزیر برائے معدنیات عمار یاسر نے وزارت چھوڑ دی۔مسلم لیگ ق کے حکومتی جماعت سے اختلافات کی ممکنہ وجہ اور جان بوجھ کر حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف پر دباؤ بڑھانے کے پیچھے ممکنہ وجہ مونس الٰہی کو وزارت دلوانے کا ہے جب کہ صوبائی اور مرکزی کابینہ میں پہلے ہی ق لیگ کی اچھی نمائندگی ہے۔گذشتہ روز بھی مسلم لیگ ق کے ترجمان کامل آغا نے دعویٰ کیا ہے کہ میں نام تو نہیں لے سکتا لیکن مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت نے چودھری پرویز الٰہی کو پنجاب میں حکومتسازی کی پیشکش کی ہے جبکہ مسلم لیگ ق سے پیپلز پارٹی بھی رابطے میں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اچھا سلوک نہیں کر رہی جبکہ وزیراعظم عمران خان کی ٹیم مسلم لیگ ق سے جان چھُڑوانا چاہتی ہے۔لیکن ہم ابھی بھی خلوص نیت سے حکومت کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان کا یہی رویہ رہا تو ساتھ چلنا مشکل ہو جائے گا۔ تاہم چوہدری شجاعت حسین نے اس معاملے پر واضح اعلان کیا کہ ہم پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد میں تھے اور آگے بھی پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد میں رہیں گے۔ مسلم لیگ ق کی قیادت کی جانب سے یہ اعلان سامنے آنے کے بعد اپوزیشن کی حکومت کو متزلزل کرنے کی کوششیں فی الوقت ناکام ہو گئی ہیں۔