01:41 pm
آپ وزیرخزانہ بن جائیں

آپ وزیرخزانہ بن جائیں

01:41 pm


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) اسد عمر نے وزارت خزانہ سے استعفیٰ دیا تو ان کی جگہ سابق مشیر خزانہ شوکت ترین کا نام بھی زیر غور آیا۔ لیکن شوکت ترین نے وزارت خزانہ کا قلمدان سنبھالنے سے انکار کر دیا۔ اس حوالے سے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے شوکت ترین نے اپنے انکار کی وجہ بتائی اور کہا کہ ملک کے لیے تو ہم ہر قربانی دینے کو تیار ہیں،
لیکن میں ایک عزت دار آدمی ہوں ، نیب میں میرے خلاف تین سے چار ریفرنسز چل رہے ہیں حالانکہ میرے خیال میں یہ غلط ریفرنسز ہیں۔کیونکہ رینٹل پاور میں نے ہی رُکوایا تھا اور میرے خلاف ہی ریفرنسز بن گئے تھے۔ جب تک میں اپنے آپ کو ان ریفرنسز سے کلئیر نہیں کروں گا تب تک میں سرکاری اور حکومتی سطح پر کوئی ذمہ داری نہیں لوں گا۔اسی بنیاد پر میں نے وزارت خزانہ کا قلمدان سنبھالنے سے انکار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزارت خزانہ میں ہماری مدد حاصل کرنے کے لیے بات چیت چل رہی ہے تاہم اس حوالے سے تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا، اگر ہمیں موقع ملے تو ہم نہ صرف حفیظ شیخ بلکہ معیشت کے باقی ماہرین کو بھی اگر کوئی مشورہ دے سکیں تو ضرور دیں گے اور ہمارے لیے بھی یہ خوشی کا باعث ہو گا۔ملک کے معاشی حالات پر بات کرتے ہوئے شوکت ترین نے کہا کہ سب سے بڑی غلطی یہ ہوئی کہ اگر آپ کوئی چھوٹی سی کمپنی بھی چلا رہے ہوں تو اس کے لیے بھی ایک منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے جس کے تحت ہدف کو حاصل کرنے کے لیے وسائل کا بھی پتہ چلایا جاتا ہے ، اسد صاحب بڑے ذہین اور اچھے آدمی ہیں، ان کو ایک ڈیڑھ سال قبل ہی کہہ دیا گیا تھا کہ آپ وزیر خزانہ ہوں گے۔لیکن جب انہیں باضابطہ طور پر وزیر بنا دیا گیا تو ان کے پاس کوئی پلان نہیں تھا۔ انہوں نے جنوری تک کوئی پلان نہیں دیا۔ اسی صورتحال میں مارکیٹ بھی کنفیوژن کا شکار ہو گئی اور تاجران کو بھی سمجھ نہیں آئی کہ ہو کیا رہا ہے مارکیٹ کس طرف جا رہی ہے۔ لہٰذا ان کو ایک پلان دینا چاہئیے تھا جو انہوں نے نہیں دیا۔اب مشیر خزانہ حفیظ شیخ کو بھی ایک روڈ میپ دینا ہو گا۔ انہوں نے مزید کیا کہا آپ بھی ملاحظہ کیجئیے:

تازہ ترین خبریں