05:34 pm
(دیامرسے الیکشن لڑنے کااعلان)ن لیگ چھوڑنے کی خبرجھوٹ،وزیراعلیٰ سے اختلاف کچھ ایشوزپرہے،ثوبیہ مقدم

(دیامرسے الیکشن لڑنے کااعلان)ن لیگ چھوڑنے کی خبرجھوٹ،وزیراعلیٰ سے اختلاف کچھ ایشوزپرہے،ثوبیہ مقدم

05:34 pm

46۔گلگت( بیورورپورٹ)صوبائی وزیر ثوبیہ مقدم نے آئندہ عام انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے دیامر کی تاریخ کی پہلی خاتون امیدوار ہونے کا اعزاز حاصل کرلیا۔ پیر کے روز اپنی رہائشگاہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ضلع دیامر کو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت نظر انداز رکھا گیا ہے ، ہم نے گلگت بلتستان بالخصوص ضلع دیامر کی ترقی کی ٹھان لی ہے ، خواتین اور مردوں کے درمیان بنائی گئی
تفریق ہماری اپنی ہے ، مذہب میں ایسی تفریق نہیں ہے ۔ وزیراعلیٰ سے زاتی کوئی اختلاف نہیںہے اور نہ ہی مفادات ہیں بلکہ دیامر کے مسائل ہیں جن کی وجہ سے دوریاں ہوئی ہیں اور ان مسائل کے حل ہونے کے ساتھ ہی ہمارا اختلاف بھی ختم ہوجائیگا، مسلم لیگ ن چھوڑ کر کسی اور جماعت میں جانے کا سوچ بھی نہیں سکتی ہوں، ایسی افواہوں کی سختی سے تردید کرتی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سے اختلاف صرف اس بات پر ہے کہ دیامر میں میگامنصوبے کیوں نہیں لگے ہیں؟ اور اعلانات پر عملدرآمد کیوں نہیں ہورہا ہے؟متاثرین دیامر کی بحالی میں کام سست روی کا شکار ہے۔ بطور ممبر اور بطور وزیر میں نے کوئی کسر نہیں باقی رکھی ہے لیکن وزیراعلیٰ سطح کے منصوبوں میں نظر انداز ہیں، ہمارے مطالبات اب بھی موجود ہیں۔ گوہر آبادد کو تحصیل بنانے کا وعدہ کیا تھا اس پر عملدرآمد بھی کرایا ہے اور میرے ووٹرز اور سپورٹرز ہم سے مکمل مطمئن ہیں۔ دیامر کے تین وزراء کا ملنا میگامنصوبوں اور اجتماعی معاملات پر ہیں، جو کہ انفرادی طور پر حل نہیں ہوسکے ہیں اس کو لوگ اپنی مرضی سے رنگ دے رہے ہیں جو رنگ میں بھنگ ڈالنے کے مترادف ہے ۔ہم پارٹی چھوڑ کر کبھی نہیں جائیںگے، دیامر کی عوام کا خلوص ملا ہے اور اس خلوص کے لئے میں عہدوں کو ٹھکرابھی سکتی ہوں۔وزیراعلیٰ سے زاتی اختلاف کوئی نہیں ہے ، دیامر کے مسائل کی وجہ سے دوریاں آئی ہیں۔اب بھی کھلے زہن کے ساتھ ہیں اور کھلے زہن کے ساتھ ہی کام کریںگے۔وزیراعلیٰ میرے بھائیوں کی طرح ہے ، جمہوریت کا حسن اختلاف رائے میں ہی ہے ، لازمی نہیں ہے کہ جو وزیراعلیٰ سوچتا ہے وہی دیگر وزراء بھی سوچیں۔ وزیراعلیٰ کے دورہ دیامر سے قبل ہمارے اختلافات چل رہے تھے ، اور ہمیں یقین دہانی نہیں کرائی گئی جس کی وجہ سے ہم ساتھ نہیں گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دیامر اورکوہستان حدود کا تنازعہ میں سپریم کورٹ زیربحث ہے جس میں وزیراعلیٰ نے باوجود وعدہ کرنے کے ابھی تک وکیل مقرر نہیں کیا گیا ہے۔ تعلیمی ایمرجنسی کا صرف نام دیا گیا لیکن عملی طور پر اس میں کوئی بھی کام نہیں ہوسکا ہے ۔انہوں نے کہا کہ دیامر کے وزراء محسوس کررہے ہیں کہ باقی اضلاع میں ترقیاتی کام بہت ہوا ہے لیکن دیامر میں ان کی نسبت بہت کم ہوا ہے،دیگر اضلاع میں جتنا ترقیاتی کام ہورہا ہے اتنا دیامر میں نہیں ہورہا ہے۔ ہمارا اختلاف اجتماعی مسائل کے حل اور اجتماعی مفادات پر ہے،دیامر میں دو اضلاع کا اعلان خوش آئند ہے اور امید بھی ہے کہ مقررہ وقت میں ہی اس کا نوٹیفکیشن بھی ہوجائے گا۔اور اگر نوٹیفکیشن نہیں ہوتا تو ہوائی اعلان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں آرڈر2018چل رہا ہے یا ریفارمز پیکج 2019چل رہا ہے کچھ پتہ نہیں ہے ، ججوں کی سمری بھی اسی لئے مسترد کردی گئی کہ دونوں نظاموں میں کوئی بھی واضح نہیں ہے ۔میرے خیال میں اس کی وضاحت کے بغیر کوئی نیا ضلع نہیں بن سکتا ہے البتہ آرڈر2018 کے تحت وزیراعلیٰ جی بی ضلع بنانے کا مجاز ہے۔ وزیراعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن کے پانچ سال پورے ہونے کے سوال پر انہوں نے مسکراکرجواب دیا کہ یہ وقت بتائے گا۔ گلگت( بیورورپورٹ ) تحصیل گوہر آباد کے درجنوں معززین نے پاکستان مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کرلی، پیر کے روز صوبائی وزیر و صدر خواتین ونگ ن لیگ ثوبیہ مقدم کے رہائش گاہ میں اس حوالے سے ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا ۔ تقریب میں صوبائی وزیر ثوبیہ مقدم، حنیف الرحمن مقدم ، مولانا جمعہ محمد، مولانا سعید عالم، رحمت میر، اظہار اللہ سمیت متعدد رہنمائوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر اور دیگر نے نئے شامل ہونے والوں کو ہار پہناکر پارٹی میں خوش آمدید کیا ۔ اس موقع پر خطا ب کرتے ہوئے صوبائی وزیر ثوبیہ مقدم نے نئے شمولیت ہونے والوں کو خوش آمدید کرتے ہوئے کہا کہ نوازشریف کی پالیسیوں سے محبت کرتے ہوئے ن لیگ میں شمولیت اختیار کرنے والے یقینا مبارکباد کے مستحق ہیں۔نوازشریف نے اس ملک کو بین الاقوامی دنیا میں متعارف کرایا ہے ۔ یہ جماعت کسی ایک بندے کی جماعت نہیں ہے اور نہ ہی کسی ایک سے پارٹی چل سکتی ہے ، اس پارٹی کو چلانے کے لئے یقینا ہم سب کا اپنا کردار ہے جسے ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ میاں محمد نوازشریف اور اس کے خاندان پر تبدیلی سرکار نے جھوٹے اور من گھڑت الزامات لگاکر پریشانیوں میں مبتلاکرنے کی کوشش کی ہے جس کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو باور کراتے ہیں کہ اوچھے ہتھکنڈوں اور ڈرامہ بازیوں کو بندکیا جائے جن سے پاکستان کو نقصان پہنچے گا اور ملک دشمن عناصر کو ہی فائدہ پہنچے گا۔نوازشریف نے دہشتگردی کا خاتمہ کیا ، تعمیر وترقی کا راستہ دکھا ، اور پاکستان کی ترقی کا ہمیشہ سوچنے والے کے ساتھ یہ ناانصافی بند ہونی چاہئے۔سیاسی انتقام کی کارائیوں سے ہماری آواز کو ددبایا نہیں جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں اقتدار سنبھالتے ہی مسلم لیگ ن نے علاقے میں امن و امان قائم کرنے کے لئے سر جوڑا اور الحمد اللہ ہم اس میں کامیاب ہوگئے ، جس کی وجہ سے لاکھوں سیاح جی بی کا رخ کرتے ہیں ۔مسلم لیگ ن اسی طرح کام کرتی رہے گی اور آئندہ بھی تعمیر و ترقی کے راستے گامزن کریگی۔ ہم نے حکومت میں رہتے ہوئے دیامر کی تعمیر و ترقی کے حوالے سے تحفظات کااظہار کیا ہے، پارٹی میں ہونے کے باوجود ہر فورم پر علاقے کی آواز اٹھائی ہے انشاء اللہ تعالیٰ بہت جلد یہ اختلافات بھی ختم ہونگے اور ہمارے تحفظات دور ہونگے۔ہم ایک گھر کے افراد ہیں، دو برتن بھی ٹکراجاتے ہیں تو حکومت میں اختلاف ہونا کوئی عجیب بات نہیں ہے، ہمارا اختلاف مثبت پہلو پر ہے ، دیامر کے ترقی کے لئے کھڑے ہوئے ہیں اور دیامر کے مسائل حل نہ ہونے تک اختلافات جاری رہیںگے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے دیامر کے تمام مردہ منصوبوں کو مکمل کرلیا ہے جن میں سڑکیں، ہسپتال اور سکولوں کی تعمیر بھی شامل ہے ۔انہوں نے کہا کہ دیامر کو تباہ کرنے کے لئے قومیتی تعصبات پھیلائے گئے ہیں ہم جب تک ان تعصبات کو ختم نہیں کریںگے تب تک ہم ترقی کے راہ پر گامزن نہیں ہوسکتے ہیں، دیامر میں اب اجتماعی مفاد کے لئے فیصلے کرنے پڑیںگے۔حلقے میں 19 نئے سکولوں کا منصوبہ ہے جو گوہر آباد کے حلقے میں زیر تکمیل ہیںجو کہ صرف طالبات کے لئے ہیں۔ بہت جلد دیامر میں بچیاں گھر سے نکل کر تعلیم حاصل کریںگی، تعلیم کے بغیر ترقی کا خواب ادھورا ہے۔ دیامر کے لوگوں پر طالبات کو پڑھنے کی اجازت نہ دینے کے لیبل کو تبدیل کرنا پڑے گا۔قرآن و سنت میں بھی مرد اور عورت کو برابری دی گئی ہے ، مرد کو آگے اور عورت کو پیچھے رکھنے کی سوچ ہماری اپنی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پسماندہ علاقے دیامر سے تعلق رکھتے ہوئے میرا فرض بنتا ہے کہ اچھی بات کی تلقین کروں۔ اس موقع پر انہوں نے باضابطہ طور پر آئندہ انتخابات کا میں بطور امیدوار الیکشن لڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میں امید دلاتی ہوں کہ دیامر کے عوام کو کبھی مایوس نہیں کروںگی اور تمام مسائل گھر کی دہلیز پر ہی حل ہونگے ۔آئندہ کچھ دنوں میں گوہر آباد تحصیل کو فعال کریںگے، تعلیمی نظام میں دیامر کو سب سے آگے لیکر چلیںگے۔ میںدیامر کی غیور عوام سے اپیل کرتی ہوں کہ آئندہ الیکشن میں مجھ پر اعتماد کااظہار کرتے ہوئے قیمتی ووٹ دیں ۔