12:47 pm
مسئلہ کشمیرپر کل جماعتی مشاورتی کانفرنس،ایک اہم سنگ میل، سیاسی قیادت متحد

مسئلہ کشمیرپر کل جماعتی مشاورتی کانفرنس،ایک اہم سنگ میل، سیاسی قیادت متحد

جمعیت علما اسلام کے زیراہتمام مسئلہ کشمیرکے حوالے سے منعقدہ کل جماعتی مشاورتی کانفرنس میں شریک قومی قیادت نیمطالبہ کیاہے کہ مسئلہ کشمیرکے حل کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جائیں ،شملہ معاہدہ سے جان چھڑاکر حقیقی کردار ادا کریں،بین الاقوامی سطح پرمسئلہ کشمیراجاگرکرنے کے لیے کشمیریوں کوآگے بڑھایا جائے اورکشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کو صحیح معنوں میںحقوق فراہم کرنے کے لئے قانون سازی کی جائے۔
 

جمعیت علما اسلام کے زیراہتمام مسئلہ کشمیرکے حوالے سے منعقدہ کل جماعتی مشاورتی کانفرنس کو بجا طور پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کی طرف ایک اہم سنگ میل قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس کانفرنس میں بلا تفریق حزب اختلاف کی چھوٹی بڑی چالیس سیاسی و دینی جماعتوںنے بھرپور شرکت کرکے اسلام آباد نے نئی دہلی اور لند ن اور واشنگٹن کو واضح پیغام دیا ہے کہ تمام تر سیاسی اختلافات اور آپس کی شکررنجیوں کے باوجود ملک کی تمام قیادت مسئلہ کشمیر کے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیریوں کی آرزوئوں اور امنگوں کے مطابق اس کے پر امن حل کیلئے متفق ہے اور ایک آواز ہوکر مقبوضہ کشمیر میں بسنے والے سراپا احتجاج اور مصروف جدوجہد کشمیریوں کو یقین دلاتے ہیں کہ انکے کاز کیلئے پاکستان کی عوام اور سیاسی و دینی قیادت ایک ہے اور ہر فورم پر اس مسئلے کو اجاگر کیا جاتا رہے گا ۔ سابق صدرآصف علی زرداری نے درست کہا کہ کشمیر ہمارے ڈی این اے میں ہے،اختلافات کے باوجود تمام سیاسی جماعتیں کشمیر کے مسئلے پر اکٹھی ہیں ، مولانافضل الرحمن نے اظہار تاسف کیا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ہمارے قومی ادارے اورسیاسی جماعتیں وہ کردارادانہیں کررہی ہیں جوانہیں کرناچاہیے تھا ۔ صدر آزادکشمیر سردارمسعود خان کا کہنا تھا کہ پورا پاکستان کشمیر کی وجہ سے خطرے میں ہے۔ دنیامیں اس وقت سب سے بڑاانسانی بحران مقبوضہ کشمیرمیں ہے ۔وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدرنے مطالبہ کیا کہ بین الاقوامی سطح پر تحریک آزادی کشمیرکو اجاگر کرنے کیلئے آزادکشمیرحکومت اور حریت کانفرنس کے کردار کا تعین کیا جائے۔حکومت پاکستان سیاسی ،اخلاقی اور سفارتی محاذ سے آگے بڑھ کر بات کرے،کل جماعتی مشاورتی کشمیرکانفرنس سے روزنامہ اوصاف کے چیف ایڈیٹرمہتاب خان نے خطاب کرتے ہوئے واضح کیاکہ مسئلہ کشمیرکے حل میں اصل رکاوٹ ہندوستان اورقادیانی لابی ہے، کشمیر ضرو ر آزاد ہوگا ، اچھاہوتاکہ موجودہ حکومت کے نمائندے بھی کشمیرکانفرنس میں شریک ہوتے۔ذوالفقارعلی بھٹو شہیدنے کشمیرپالیسی کے حوالے سے جواقدامات اٹھائے تھے اورجوبنیادرکھی تھی اس سے کشمیریوں کونیاحوصلہ ملاتھا ۔ ان کے بعدبینظیربھٹونے پانچ فروری کادن منانے کااعلان کرکے مقبوضہ کشمیرکے عوام کیساتھ اظہاریکجہتی کیا۔کشمیرمیں مظالم اجاگر کرنے کیلئے سوشل میڈیا بھرپورکرداراداکررہاہے تاہم پرنٹ اورالیکٹرنک میڈیاوہ کردارادانہیں کررہاجوکرناچاہیے تھا ،شایدان کے کاروباری معاملات ہوں گے مگر روزنامہ اوصاف نے پہلے بھی مسئلہ کشمیرکواجاگرکرنے میں کوئی کسرنہیں چھوڑی اور آئندہ بھی اپنافرض نبھاتے رہیں گے۔
یہ درست ہے کہ ہرحکومت مسئلہ کشمیرکوترجیح اول کہتی ہے مگرحکمرانوں کی پالیسیوں سے کشمیریوں کوحوصلہ افزا پیغام نہیں ملتا۔ اس کے باوجود کشمیری پاکستان سے بدظن نہیں ہوئے ہیں اورآج بھی وہ پاکستان کے پرچم میں دفن ہونااعزازسمجھتے ہیں ۔ہماری رائے میں اس مسئلے کے حل کیلئے اقوام متحدہ کو باور کرایا جائے کہ وہ اصل مقاصد سے نہ ہٹے اور اسے دونوں ممالک کا باہمی مسئلہ قراردینے کی بجائے اسے اپنی سلامتی کونسل کی قراددادوں کے مطابق حل کرانے کیلئے اقدامات اٹھائے۔ رائے شماری کمشنر کا تقرر کرے اور بھارتی قابض افواج سے مقبوضہ کشمیر کو خالی کرواکر رائے شماری کرائے تاکہ ستر سال سے حل طلب یہ مسئلہ نمٹ سکے اور کشمیریوں کو انکی مرضی کے مطابق جینے کا حق دیا جاسکے ۔دوسری طرف ضروری تھا کہ اس کل جماعتی مشاورتی کانفرنس میںحکومتی نمائندوں اور وزارت امور خارجہ کے سیکرٹری کو بھی دعوت دی جاتی تو اس سے دنیا بھر میں ایک اچھا پیغام جاتا ۔ہماری حکومت کو چاہئے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر صرف آواز ہی بلند نہ کرے بلکہ دنیابھر کے سربراہان کو اس حوالے سے خطوط لکھے‘ احتجاجی یاداشتیں روانہ کرے اور وزیر اعظم پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے رکن ممالک کی قیادتوں کو اعتماد میں لیں اور بھارتی ہم منصب کو فون کرکے ان سے مظالم بند کرنے کا سختی سے مطالبہ کریں ۔