12:49 pm
کشمیر کی تاریخ پر ایک نظر

کشمیر کی تاریخ پر ایک نظر

12:49 pm

لاہور پر انگریزوں کا قبضہ فروری 1846 میں ہوا جب مہاراجہ رنجیت سنگھ کے جانشینوں کی حکومت کو شکست دے کر فرنگی نے لاہور کو اپنی قلمرو میں شامل کر لیا۔ اس جنگ میں گلاب سنگھ نے درپردہ انگریزوں کا ساتھ دیا۔ لاہور پر انگریزوں کے قبضے اور سکھوں کی شکست کے بعد جب سکھوں پر تاوان جنگ ڈالا گیا تو ان کے پاس اس کی ادائیگی کے لیے پوری رقم موجود نہیں تھی۔ چنانچہ گلاب سنگھ نے اس شرط پر وہ رقم انگریزوں کو دینے کا وعدہ کیا کہ جموں کے ساتھ کشمیر کی حکمرانی کا حق بھی اس کے خاندان کے لیے تسلیم کیا جائے۔ یہ شرط منظور کر لی گئی اور 16 مارچ 1846 کو گلاب سنگھ اور برطانوی حکومت کے درمیان معاہدہ امرتسر کے نام سے ایک باقاعدہ معاہدہ طے پایا جس کے تحت گلاب سنگھ نے پچھتر لاکھ روپے کے عوض کشمیر کو انگریزوں سے خرید لیا اور یہ رقم وصول کر کے برطانوی حکومت نے گلاب سنگھ اور اس کی نرینہ اولاد کے لیے کشمیر کی حکمرانی کا حق مستقل طور پر تسلیم کر لیا۔ مگر اس وقت سری نگر میں لاہور کی سکھ حکومت کی طرف سے امام الدین گورنر تھا جس نے کشمیر کا علاقہ گلاب سنگھ کے سپرد کرنے سے انکار کر دیا اور گلاب سنگھ کو پہلے حملے میں امام الدین کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہونا پڑا۔
 

اس کے بعد کرنل لارنس کی قیادت میں برطانوی فوج نے کشمیر پر حملہ کیا جس کے سامنے امام دین نے ہتھیار ڈال کر کشمیر گلاب سنگھ کے حوالے کر دیا۔ پھر نومبر 1842 سے اگست 1947 تک کم و بیش ایک صدی تک ریاست جموں و کشمیر پر ڈوگرہ ہندو خاندان کی حکومت قائم رہی۔ گلاب سنگھ مسلمانوں کے لیے سکھوں سے بھی زیادہ جابر حکمران ثابت ہوا، اس کے طرز حکومت کے بارے میں شیخ غلام حیدر چشتی مرحوم اپنی کتاب ہنگامہ کشمیر میں لکھتے ہیںگلاب سنگھ بے حد سفاک، ظالم، بے رحم اور حریص مہاراجہ تھا۔ اس نے جموں و کشمیر کی حکومت سنبھالتے ہی پہلے تو ڈوگرہ مخالفوں کو ہموار کیا اور اس کے بعد بھمبر، پونچھ، میرپور، راجوری اور کشتواڑ وغیرہ میں مسلمان حکمرانوں کو مکر و فریب سے قابو میں لا کر کسی کو کنویں میں ڈالا، کسی کی آنکھیں نکلوائیں اور کسی کو سامنے کھڑا کر کے کھال اتروائی۔ چنانچہ پونچھ کے ایک مسلمان راجے کو گرفتار کر کے گلاب سنگھ کے سامنے لایا گیا تو اس نے راجے کی کھال اتارنے کا حکم دیا۔ کھال سر کی طرف سے اتارنے میں دماغی صدمے سے آدمی جلدی مر جاتا ہے اور اسے کم اذیت ہوتی ہے لیکن پائوں کی طرف سے کھال اتارنے میں آدمی دیر تک زندہ رہتا ہے اور مرنے سے پہلے زیادہ دیر تک اذیت اٹھاتا ہے۔ گلاب سنگھ کا ایک بیٹا بھی اس وقت موجود تھا، جب مظلوم راجے کی کھال ٹانگوں سے اوپر ادھڑی جا چکی تو اس درد انگیز نظارے کی تاب نہ لاتے ہوئے اس نے منہ ایک طرف پھیر لیا۔ گلاب سنگھ نے بیٹے کی گردن پکڑ کر یہ کہتے ہوئے اس کا منہ مظلوم راجے کی طرف پھیر دیا کہ اگر بزدلی دکھا گے تو حکومت کیسے کرو گے؟ جب کھال چھاتی تک اتر چکی تو بہادر مسلمان راجے نے جس کے حواس اس وقت تک بجا تھے پہلے پانی پینے کی اور پھر بیوی بچوں کو دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا لیکن ظالم گلاب سنگھ نے اس کی اس خواہش کو مسترد کر دیا۔ جب کھال گردن تک اتر چکی تو مسلمان راجہ کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔
گلاب سنگھ کے بعد اس کا بیٹا رنبیر سنگھ حاکم بنا، اس کے بعد پرتاب سنگھ نے چالیس برس تک کشمیر پر حکمرانی کی اور اس کے بعد راجہ ہری سنگھ نے یہ گدی سنبھالی۔ اسی کے دور میں ڈوگروں کے بے پناہ مظالم کے خلاف کشمیری عوام نے 1931 میں بغاوت کی اور کشمیری مسلمانوں کی حمایت میں آل انڈیا مجلس احرار اسلام نے کشمیر چلو کی تحریک چلائی جس کے تحت چالیس ہزار کے لگ بھگ علما اور کارکنوں نے کشمیر پہنچ کر اپنے کشمیری بھائیوں کی حمایت میں خود کو قید و بند کے لیے پیش کیا۔ جبکہ اکابرین میں سے مولانا مظہر علی اظہر، مولانا حبیب الرحمان لدھیانوی، امیر شریعت چودھری افضل حق، شیخ حسام الدین اور دیگر سرکردہ حضرات اس تحریک میں گرفتار ہوئے۔ اسی تحریک کے نتیجے میں کشمیر میں سیاسی بیداری پیدا ہوئی اور شیخ عبد اللہ مرحوم اور چودھری غلام عباس مرحوم جیسے قوم پرست لیڈر سیاست کی افق پر ابھرے۔ اسی مہاراجہ ہری سنگھ کے دور میں برصغیر کی تقسیم عمل میں آئی اور پاکستان کے نام سے ایک اسلامی ریاست کا وجود قائم ہوا۔
تقسیم کے طے شدہ اصولوں میں نیم خودمختار ریاستوں کو اختیار دیا گیا تھا کہ وہ پاکستان یا بھارت میں سے کسی کے ساتھ الحاق کر لیں۔ مگر مہاراجہ ہری سنگھ نے ریاست کی اکثریتی آبادی کے جذبات اور مرضی کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے بھارت کے ساتھ الحاق کا اعلان کر دیا جس کے خلاف ریاست کے عوام اٹھ کھڑے ہوئے۔ جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں مسلح بغاوت ہوئی، علما کرام نے جہاد کا فتویٰ دیا اور مجاہدین نے سری نگر کی طرف یلغار کر دی۔ قریب تھا کہ مجاہدین سری نگر پہنچ جاتے کہ اقوام متحدہ نے مداخلت کی اور یہ کہہ کر جنگ بندی کرا دی کہ مذاکرات کے ذریعے عوام کا یہ حق تسلیم ہے کہ انہیں آزادانہ استصواب کے ذریعے اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کرنے کا موقع دیا جائے۔ تب سے بھارت کشمیر پر طاقت کے زور سے قابض ہے اور کشمیری عوام کو خود ارادیت کا مسلمہ حق دینے سے انکاری ہے۔ جبکہ اقوام متحدہ اور عالمی طاقتیں خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہیں اور کشمیری عوام اپنی آزادی اور خود ارادیت کے مسلمہ حق کے لیے مسلسل قربانیاں پیش کر رہے ہیں۔
اس پس منظر میں 5 فروری کا دن بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے اور مظلوم کشمیری مسلمانوں کا حق ہے کہ ان کی جدوجہد کے ساتھ یکجہتی کا بھرپور انداز میں اظہار کیا جائے اور عالمی رائے عامہ کو ان کے اس جائز حق کی طرف توجہ دلائی جائے۔