12:52 pm
مہنگا حج‘ سستے طعنے اور پورس کے ہاتھی

مہنگا حج‘ سستے طعنے اور پورس کے ہاتھی

12:52 pm

اس خاکسار نے دو ہفتے قبل دو قبرستانوں پر بھی ٹیکس لگا دیجئے کے عنوان سے جو کالم لکھا تھا تب یہ سوچا بھی نہ تھا کہ حکومت حج پالیسی مقدس عبادت کو نشانہ بنانے سے بھی دریغ نہ کرے گی۔ایک تو حج اخراجات میں ایک لاکھ 56ہزار تک اضافہ کرنا اور اور وزیروں کے ٹولے کا اس حوالے سے بے رحمانہ تبصرے کرکے مسلمانوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کی کوشش کرنا‘ حکمرانوں کے اس روئیے نے پوری قوم کو دکھی کر دیا ہے۔
وزیراعظم فرماتے ہیں کہ حج صاحب استطاعت پر فرض ہے جس کے پاس استطاعت نہیں ہے وہ حج پر نہ جائے‘ جب حکومت یک بیک حج اخراجات میں ڈیڑھ لاکھ روپے سے زائد کا اضافہ کرکے غریب اور متوسط طبقے کے مسلمانوں سے حج کی استطاعت چھیننے کی دانستہ کوشش کرے گی تو پھر اپوزیشن جماعتوں کے سینٹرز کا یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ حکومت لوگوں کو مکہ‘ مدینہ کی زیارت سے روک رہی ہے اور یہ بھی کہ حج اخراجات میں اضافہ حکومتی ڈرون حملہ ہے۔
 

وفاقی وزیر مذہبی امور نورالحق قادری نے یہ کہہ کر ریاست مدینہ کا یہ مطلب نہیں کہ لوگوں کو مفت حج کرائیں مسلمانوں کے جذبات کا مذاق اڑانے کی کوشش کی ہے‘ کوئی ان سے پوچھے کہ کس پاکستانی مسلمان نے ان سے کہا کہ وہ اسے مفت حج کروا دیں؟ مسلمان تو حکومت سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ خدا را حج جیسی مقدس عبادت کے نام پر لوٹ مار سیل مت لگائیں‘ حج فریضہ خداوندی ہے اسے کمائی کا ذریعہ مت بنائیں اور پھر عمران خان کی حکومت سے یہ توقع رکھنا کہ وہ کسی غریب کو مفت حج پر بھیجے گی سوئی کے ناکے سے ہاتھی گزارنے کے مترادف ہے۔
پاکستان کے مسلمانوں کا حق ہے کہ وہ اپنے حکمرانوں سے سوال کرے کہ اگر انڈیا سے مکہ‘ مدینہ جانا سستا ہے تو نظریاتی اسلامی مملکت میں اس قدر مہنگا کیوں؟کیا عمران خان اور ان کے وزیر نہیں جانتے کہ ایک غریب آدمی ساری عمر روپیہ روپیہ جوڑکر اپنی روحانی تسکین کے لئے زندگی میں ایک مرتبہ ضرور بضرور حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
حج اخراجات میں بے پناہ اضافہ کرکے اسے مشکل ترین بنانے کی کوشش کرنا کیا اسے حکمرانوں کی سگندلی کہنا غلط ہوگا؟ میں اس دوست کے آنسو دیکھ کر تڑپ کر رہ گیا کہ جس نے اس مرتبہ اپنے بوڑھے ماں‘ باپ کو حج پر بجھوانے کی تیاری کر رکھی تھی‘ لیکن جیسے ہی حج اخراجات کا ڈرون حملہ ہوا اس نے برستی آنکھوں کے ساتھ مجھ سے پوچھا کہ اب وہ اپنے والدین کو حج پر کیسے بھیج سکے گا؟ میں نے اسے مشورہ دیا کہ اپنے والدین کو سچائی کے ساتھ بتا دو کہ اس مرتبہ ’’حج‘‘ بھی تبدیلی مارکہ سونامی کی زد میں آگیا ہے‘ اس نے جواب دیا ! یہ میرے لئے بہت مشکل ہوگا‘ ابا تو شائد برداشت کرلیں مگر میری ماں تو جیتے جی مر جائے گی۔
استطاعت‘ استطاعت کی رٹ لگانے والے وزیرو تم کیا جانو! مکہ و مدینہ کی محبت کو؟ اگر ویزوں اور سرحدات کی پابندیاں ختم ہو جائیں تو خدا کی قسم 80,80سال کے بوڑھے اپنے ناتواں وجود کو گھسیٹ گھسیٹ کر مکہ و مدینہ کے راہی بن جائیں۔
حرمین شریفین مسلمانوں کی محبت ہے…حرمین شریفین مسلما نوں کا عشق ہے اور عشق و محبت کا ’’استطاعت‘‘ سے بھلا کیا کام؟ حج تو ایک عاشقانہ عبادت کا نام ہے‘ حج تو وہ عبادت ہے کہ جو مسلمانوں میں ہر قسم کی لسانی‘ صوبائی‘ گروہی‘ سیاسی اور فرقہ وارانہ تقسیم سے بالاتر رہنے کی سوچ پیدا کرتی ہے۔
ان حکمرانوں نے بھی عجب مزاج پایا ہے کہ کبھی فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور کبھی بین المذاہب ہم آہنگی کے نام پر کروڑوں روپے تو برباد کر دیتے ہیں لیکن حج جیسی عظیم عبادت پر سبسڈی دیتے ہوئے ان پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے‘حالانکہ اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی حج سبسڈی کو جائز قرار دیتے ہوئے یہ کہا تھا کہ حج سبسڈی سرکاری اور پرائیویٹ دونوں سکیموں پر دی جائے‘ حکومت اجتماعی سبسڈی دے سکتی ہے البتہ زکوٰۃ کی رقم سے سبسڈی دینا جائز نہیں‘ مگر وفاقی کابینہ نے اس کے باوجود حج سبسڈی نہ دینے کا فیصلہ سفید پوش حاجیوں کے مالی بوجھ میں اضافہ کر دیا‘ طرفہ تماشہ یہ کہ حکومتی وزیر ساتھ یہ تیر بھی برسا رہے ہیں کہ ریاست مدینہ کا مطلب لوگوں کو مفت حج کروانا نہیں‘ یقیناً یہ بات درست ہے لیکن پھر عوام حکومتی وزیروں سے یہ پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ کیا 83سینمائوں سے اربوں روپے خرچ کرکے 11سو سینما بنانے کا اعلان کرنا‘ بے حیائی اور فحاشی پر قابو پانے کی بجائے اسے مزید بڑھاوا دینا کیا ریاست مدینہ کا یہ مطلب ہے؟
اچھی حکومتیں اپنے عوام کو ریلیف دینے کے لئے بہت کچھ کرتی ہیں طرح طرح کے اقدامات اٹھاتی ہیں‘ یہ پہلی حکومت دیکھی ہے کہ جو پانے عوام کو ریلیف دینے کی بجائے طعنے دیتی ہے‘ عوام یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ آخر وزارت مذہبی امور کس مرض کی دوا ہے؟ کیا وزارت مذہبی امور کے ذمہ کاشت کاری کرنا ہے؟ ارے بھائی اگر حج اور عمرے کے نام پر غریبوں کے پیسے سے ہاتھی پالے جاسکتے ہیں تو اگر انہیں غریبوں کی رقم حج سبسڈی پہ خرچ ہوگئی تو کون سی قیامت آجائے گی؟
غریبوں کے خون پسینے کی کمائی سے وزیر مذہبی امور سے لے کر سیکرٹری‘ ڈپٹی سیکرٹری ڈائریکٹرز اور نامعلوم اور کون کون سے عہدوں والا عملہ مفاد اٹھاتا ہے۔ کیا وزارت مذہبی امور میں بیٹھنے والوں نے کبھی سوچا کہ ان کو ملنے والی تنخواہیں اور دیگر مراعات پر قومی خزانہ ہی خرچ ہوتا ہے‘ اگر بقول وزیر پارلیمانی امور 70فیصد اخراجات سعودی عرب میں آتے ہیں تو کیا وزیر مذہبی امور نے سعودی حکام سے مذاکرات کرکے اپنے ملک کے حاجیوں کے لئے ریلیف لینے کی کوشش کی؟ اگر نہیں تو کیوں؟ پھر ایسی وزارت اور اس میں بیٹھے ہوئے ملازمین کی فوج ظفر فوج کا اس ملک و قوم کو کیا فائدہ؟(وما توفیقی الابالا)