12:53 pm
غیر معمولی حالات ، غیر معمولی فیصلے

غیر معمولی حالات ، غیر معمولی فیصلے

ان کاوشوں کے باوجود ملک میں دہشت گردی کا طوفان تھم تو گیا ہے لیکن اس کا مکمل خاتمہ ابھی تک نہیں ہوا۔ حال ہی میں کراچی میں چینی قونصلیٹ پر بھارتی معاونت سے ہونے والے حملے کو یاد رکھنا چاہیے۔ اگر چہ ہم بلوچستان میں بھارت نواز گروہوں کو بڑی حد تک پسپا کرچکے ہیں لیکن پھر بھی یہ کارروائی ہوئی۔
 

فوجی عدالتوں کو توسیع دینے کے بل کی منظوری کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہے، یہ حزب اختلاف کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ چوں کہ یہ قومی اہمیت کا مسئلہ ہے اس لیے جماعتی وسیاسی وابستگی سے بالا تر ہو کر پاکستان کی قومی وحدت کو مستحکم کرنے کے لیے اس بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے۔ جمہوریت اور حزب اقتدار و اختلاف کا مطلب یہ نہیں کہ دونوں آپس میں برسر پیکار رہیں۔ جانبین کو ملک کی بہتری کے لیے باہمی معاونت پر غور و فکر کرنا چاہیے۔دہشت گردی سے مقابلہ ایک قومی مقصد ہے اور آج بھی اس سے نمٹنے کے لیے سیاسی و جماعتی وابستگی سے بالاتر ہونے کی ضرورت ہے۔ حزب اختلاف کی بڑی جماعتیں اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں۔ شہباز شریف پہلے ہی اس قرارداد کی منظوری میں تعاون کرنے کا اشارہ دے چکے ہیں۔انہی کی جماعت کے دور اقتدار میں یہ عدالتیں قائم ہوئی تھیں۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ فوجی عدالتوں کی موجودگی میں دہشت گردی کو قابو کرنے میں مدد ملی۔ پیپلز پارٹی اس معاملے میں تذبذب کا شکار ہے، اس کے بعض رہنما منفی بیانات بھی جاری کرچکے ہیں۔ زرداری صاحب میڈیا کے سامنے کہہ چکے ہیں کہ اگر حکومت نے رابطہ کیا تو ان کی پارٹی اس معاملے پر غور کرے گی۔جعلی اکاؤنٹس سے زرداری صاحب کا گہرا تعلق سامنے آچکا، اگر منی لانڈرنگ ثابت ہوجاتی ہے تو ان کے تمام اثاثے ضبط ہونے کا خدشہ سر پر منڈلا رہا ہے، ان حالات میں یہ اندازہ لگانا کتنا مشکل ہے کہ وہ کسی قانون سازی میں حمایت کے عوض کیا تقاضا کرسکتے ہیں؟ تحریک انصاف کی قیادت میں ایسی سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے کم ہی ہیں جو ایسے مواقع پر حزب اختلاف کے ساتھ سیاسی عمل آگے بڑھانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ بعض مرتبہ کسی خاص سیاسی لیڈر کی انا ایسے کسی با معنی سیاسی تعاون کی راہ میں حائل ہوجاتی ہے جس سے ملک کا مفاد بھی وابستہ ہوتا ہے، اسے تبدیل ہونا چاہیے! بدعنوانی کا مقابلہ جاری رہنا چاہیے لیکن اسے مشترکہ عزائم کے آڑے بھی نہیں آنا چاہیے۔ باہم منقسم سیاسی جماعتوں میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو پاکستان کا مفاد سمجھتے ہیں۔ اس کے لیے کوشش درکار ہے، نتیجہ خیز کوشش۔ یہاں تک کہ تحریک انصاف کے عدالت سے نااہل قرار دیے گئے رہنما جہانگیر ترین کو بھی بروئے کار آنا پڑے تو کوئی ہرج نہیں۔ فوجی عدالتیں 2015 ء میں سیاسی اتفاق رائے سے قائم ہوئیں، نیشنل ایکشن پلان کے تحت حکومت اور حزب اختلاف نے متفق ہو کر یہ فیصلہ کیا اور سپریم کورٹ نے بھی ان عدالتوں کے قیام کی توثیق کی۔ اگر سابقہ حکومت اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا کرسکتی ہے تو موجودہ حکومت کو بھی اپنی صلاحیت ثابت کرنا ہوگی۔ سوات اور فاٹا کے لوگ بھی کسی اور کی طرح پاکستان کے شہری ہیں۔ جب حالات کا تقاضا تھا تو مشرف، اس کے بعد رزداری کی پیپلز پارٹی اور نواز شریف کی ن لیگ نے برسر اقتدار آکر ان علاقوں سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کارروائیاں کیں، اس وقت یہاں کے لوگوں کے جمہوری اور انسانی حقوق کا خیال کیوں نہیں آیا؟ کراچی کے بارے میں کیا کہیں گے؟ آج جو کراچی کے حالات ہیں اس بہتری میں افواج نے جس مثالی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اسے کبھی فراموش کیا جاسکتا ہے؟ کیا ہم جنرل اعجاز چوہدری، نوید مختار، بلال اکبر اور سعید کی کام یابیوں کو کبھی بھلا پائیں گے؟ جب شہریوں کی جان اور ملک کی سالمیت داؤ پر لگی ہو تو سیاسی کھیل نہیں کھیلنے چاہئیں۔ جمہوریت میں فوجی عدالتیں ناگزیر نہیں۔ عدالتی اور قانونی نظام میں اب تک وہ اصلاحات نہیں لاجاسکیں جو عام عدالتوں کو دہشت گردی کے مقدمات سے نمٹنے کی صلاحیت مہیا کرتی ہوں۔ لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ جب جمہوریت کا آغاز ہوا تو اس وقت دہشت گردی موجود نہیں تھی اور اسی لیے نظام کو بنیادی طور پر اس چیلنج کے مقابلے کے لیے تیار کرنے کی ضرورت ہے۔حتی کہ مغربی ممالک اور جمہوریتوں نے سیکھ لیا کہ انہیں غیر معمولی حالات سے نمٹنے کے لیے از سر نو قانون سازی کرنا پڑے گی، امریکا کے ’’پیٹریاٹک ایکٹ‘‘ کو کیا کہا جائے؟ قانون سازی کے لیے وقت درکار ہے جب کہ دہشت گرد انتشار پھیلانے میں مصروف ہیں۔ ملک کے تحفظ اور قومی وحدت کو فروغ دینے کے لیے لائحہ عمل یہی رہنا چاہیے’’غیر معمولی حالات غیر معمولی اقدامات کا تقاضا کرتے ہیں۔‘‘ (فاضل کالم نگار سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہیں)