12:54 pm
ہندتوا اورمودی سیاست کا نیا موڑ

ہندتوا اورمودی سیاست کا نیا موڑ

12:54 pm

متوقع بھارتی انتخابات کی سائوتھ ایشیا میں کیا جگہ بنے گی؟ اس پر امریکی رپورٹ کا تذکرہ ذرا بعد میں۔ پہلے متوقع مئی کے بھارتی انتخابات وزیراعظم مودی کی بی جے پی کے لئے کیا اہمیت رکھتے ہیں؟وزیراعظم مودی گجرات کے وزیراعلیٰ ہندو ازم کے احیاء اور ہندو ازم کی شدت پسندی کے سبب بنے تھے۔ انہوں نے گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کو ممکن بنایا تھا۔ غصہ یہ تھا کہ ایک ٹرین میں ہندو یاتری سفر کر رہے تھے کہ اس میں آگ لگ گئی۔

 الزام مسلمانوں اور پاکستان پر لگا دیا گیا تھا۔ اس کے ردعمل کو ممکن بنا کر گجرات میں ہزاروں معصوم مسلمانوں کو تہہ تیغ کر دیا گیا تھا۔ بھارتی اسٹیبلشمنٹ نے مودی کو ہندتوا کے فروغ کے ذیل میں اقتدار دینا پسند کیا۔ مگر بھارتی اسٹییبلشمنٹ اندر سے کیا کرتی ہے؟ وہ ٹرین جس میں ہندو یاتری محو سفر تھے کہ اسے آگ لگ گئی۔ یہ تو بھارتی فوج کے ایک حاضر سروس کرنل نے لگوائی تھی۔ یہ راز بہت بعد فاش بھی ہوگیا تھا۔ تب پاکستان اور مسلمانوں کی جان چھوٹی تھی۔ بابری مسجد کے انہدام کے ذریعے ہندوئوں کے ووٹوں کو مسلمان دشمن بنا کر اقتدار میں آنے کا فارمولہ تیار ہوا تھا۔ پھر سچ مچ بھارتی ہندو اقتدار میں ہی بابری مسجد گرا دی گئی تھی۔ پھر مسلمان‘ دلت‘ عیسائی‘ سکھ دشمنی کے جہنم کو استعمال کرکے مودی اور بی جے پی کا اقتدار ممکن بنایا گیا تھا۔ اب مئی میں نئے انتخابات ہونے والے ہیں۔ بھارت میں گزشتہ ضمنی انتخابات میں مودی سیاست کی جگہ علاقائی پارٹیوں اور کانگرس کی فتح ملی ہے گویا مودی کا ہندتوا کارڈ ناکام رہا تھا۔ اب ہندتوا کارڈ کو دوبارہ زیادہ بہتر استعمال کے لئے پھر سے بابری مسجد کی جگہ مندر بنانے کے عمل کو تیز کیا جارہا ہے۔ 29جنوری کی خبر ہے کہ سپریم کورٹ سے بھارتی حکومت نے درخواست کر دی ہے کہ وہ اجازت دے کہ حکومت بابری مسجد کی جگہ کو ہندو ٹرسٹ کے سپرد کر دے تاکہ مندر کی تعمیر کا آغاز کیا جاسکے۔ ایودھیا کی بابری مسجد کا انہدام تو بہت سال پہلے ہوچکا۔ اب اس کی جگہ کو ہندو ٹرسٹ کے سپرد کرنا اور سپریم کورٹ کی اجازت سے یہ عمل جونہی مکمل ہوگا فوراً مندر کی تعمیر شروع کر دی جائے گی۔ اس عمل میں اگر مسلمان احتجاج کریں گے۔ اپنا دفاع کریں گے تو ہندو ازم کی انتہا پسندی اور شدت پسندی انہیں گجرات کے تجربے کی طرح یا جس طرح اندرا گاندھی کے محافظ سکھ کے ہاتھوں قتل کے بعد ہزاروں معصوم سکھ گاجر مولی کی طرح کاٹ دئیے گئے۔ اسی طرح بابری مسجد کی جگہ ہندو مندر کی تعمیر کے حوالے سے پھر سے معصوم‘ نہتے مسلمانوں کو تہہ تیغ کر دیا جائے گا۔ یوں 2019ء کا سال بھارتی مسلمانوں پر بہت بڑی مصیبتیں لے کر آرہا ہے۔ بالخصوص مئی سے پہلے اوربعد کیونکہ مئی کا مہینہ طے کرے گا کہ اقتدار مودی سیاست کو ملنا ہے یا کانگرس اور اتحادی پارٹیوں کو مسلمانوں کے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسعد الدین اویسی اس معاملے میں کافی فعال ہیں۔ اترپردیش کا صوبہ 220ملین آبادی رکھتا ہے جس میں ایودھیا کی بابری مسجد کی جگہ مندر کی تعمیر سیاسی فوائد کے لئے متوقع ذریعہ سیاست ہے۔ یاد رہے کانگرس اسی صوبے میں راھول گاندھی کی چھوٹی بہن پریانیکا گاندھی کو کانگرس کی جیت کے لئے سیکرٹری جنرل بن چکی ہے۔ یعنی ایودھیا معاملات‘ مندر معاملات میں کانگرس میں بھی مسلمانوں کی طرف وارہرگز نہیں بنے گی تاکہ ہندو ووٹ مسلمانوں کے ساتھ کھڑے ہونے کے سبب کانگرس کی بجائے بی جے پی کی طرف نہ جائیں۔ گویا متوقع انتخابات مسلمانوں کے قتل عام کو ممکن بنا رہے ہیں۔ عرف عام میں ہندتوا کے مسلمان کش اس یکطرفہ عمل کو مسلمان ہندو فسادات کا نام دیا جاتا رہے گا کہ مسلمانوں نے شرارت کی تھی لہٰذا معصوم ہندو ردعمل فطری اور جائز تھا۔ 30جنوری کو امریکی انٹیلی جنس رپورٹ کانگرس میں پیش ہوئی یہ رپورٹ ’’سائوتھ ایشیاء میں موجود ٹینشن‘‘ کا نام پاگئی ہے۔ رپورٹ میں امریکی کانگرس کو بتایا گیا کہ پاکستان اور بھارت میں بطور خاص کشمیر بارڈر کے ساتھ کافی زیادہ ٹینشن رہے گی۔ سرحدی جھڑپیں زیادہ ہونگیں بطور خاص مئی تک البتہ بہت بڑی لڑائی کی توقع نہیں ہے جبکہ سینٹ کمیٹی کے سامنے بھی ایک رپورٹ پیش ہوچکی ہے۔ یہ یو ایس نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر دانیال کوٹس کی ہے۔ اس رپورٹ میں افغانستان کے متوقع انتخابات میں طالبان پاکستان‘ کابل حکومت کے حوالے سے توقعات‘ اندیشوں کو بیان کیا گیا ہے جبکہ پاک انڈیا ٹینشن کو کھل کر بیان کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق پاک انڈیا ٹینشن کا سبب متوقع بھارتی انتخابات ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس رپورٹ کی تیاری میں کچھ معاملات کا غلط دبائو اور الزام پاکستان پر عائد کیا گیا ہے۔ میں حیران ہو امریکی اذہان کیسی مکاری کرتے ہیں۔ انہیں مئی انتخابات کے سبب پاک انڈیا میں ٹینشن دکھائی دیتی ہے۔ مگر انہیں ایودھیا کی بابری مسجد کی جگہ کو ہندو ٹرسٹ کے سپرد کرکے مندر کی تعمیر کا حکومتی عزم و ارادہ دکھائی نہیں دیتا کیوںکہ یہ کام بھی پاکستان بھارتی مسلمانوں کے ذریعے کروا رہا ہے۔ بھئی خود مودی حکومت یہ جگہ ہندو ٹرسٹ کو دے رہی ہے۔ پاکستان پر ٹینشن کا الزام سراسر غلط ہے۔ ایسی مودی چالاک مسلمان کش اور پاکستان دشمن سیاست ہمارے شریف خاندان کے اقتدار میں کتنی آسانی سے راستہ‘ جگہ حاصل کرتی رہی تھی۔ میرے سامنے 31جنوری کو نجی اخبار میں شائع شدہ تہمینہ دولتانہ کا بیان ہے کہ نواز شریف کی نواسی کی شادی میں مودی بن بلائے ہی چلے آئے تھے۔ بھارت میں مسلمان کش مشاورت کا بانی گجراتی وزیراعظم مسلمان اور پاکستان دشمنی کی آگ جلائی اقتدار پانے والا بھارتی وزیراعظم کتنی آسانی سے شریف خاندان کی شادی میں چلا آیا تھا؟