12:55 pm
برطانیہ کی پارلیمنٹ میں یوم کشمیر

برطانیہ کی پارلیمنٹ میں یوم کشمیر

٭مقبوضہ کشمیر، دو مزید کشمیری نوجوان شہید !O..برطانیہ کی پارلیمنٹ میں یوم کشمیر، بھارت کااعتراض مسترد !O.. رمضان شوگر ملز،21 کروڑ کی کرپشن ، شہبازشریف، حمزہ شہباز کے خلاف ریفرنس !O..بلاول،حمزہ، 10 دن کے لیے ملک سے باہر !O..حج کی ادائیگی ، علما کا اہم فیصلہ !O.. پنجاب یونیورسٹی میں حفظ قرآن کے شعبہ کا قیام !O..
 

٭بھارتی فو ج نے مقبوضہ کشمیر میں مزید دوکشمیری نوجوان شہید کردیئے۔ حکومت پاکستان نے سخت ردعمل کااظہار کیا ہے۔ پانچ فروری کودنیا بھر میں پاکستانی سفارت خانے یوم کشمیر منا رہے ہیں۔ اہم بات یہ کہ برطانیہ کی پارلیمنٹ میں بھی یوم کشمیر کی تقریب ہورہی ہے۔ اس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی شرکت کا بھی امکان ہے۔ اس موقع پر ایک تصویری نمائش کا بھی اہتمام کیاجارہاہے۔ اس میں مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے مظالم اورخونریز تشدد کی تصویریں دکھائی جائیں گی۔ بھارت نے اس تقریب پر سخت اعتراض کیا ہےاوراسے روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ برطانوی حکومت نے وضاحت کی ہے کہ پارلیمنٹ آزاد اور خودمختار ادارہ ہے، حکومت اسے ہدایات جاری نہیں کرسکتی۔ دریں اثنا پانچ فروری کو ملک بھر میں یوم کشمیر پر بھارت کے خلاف جلسے ، جلوسوں، مظاہروں کا اہتمام کیاجارہاہے۔ اس روز ملک بھر میں عام تعطیل رہے گی۔مقبوضہ کشمیر میں حسب سابق ہڑتال ہوگی۔٭حج کے اخراجات میں بھاری اضافہ کے اعلان پر مختلف مذہبی اور سماجی حلقوں نے سخت اعتراضات کیے ہیں کچھ مذہبی حلقوں نے اس بارے اہم وضاحت بھی کی۔ حکومت کا مؤقف یہ ہے کہ حج کے 70 فیصد اخراجات سعودی عرب میں ہوتے ہیں۔جہاں اس بار نئے بھاری ٹیکس عائد ہو گئے ہیں اور عمارتوں اورٹرانسپورٹ وغیرہ کے کرائے بڑھ گئےہیں۔ پاکستان میں صرف ٹکٹیں خریدی جاتی ہیں ، ڈالر کی قیمت بڑھ جانے سے ان کے نرخ میں اضافہ ناگزیر ہوگیا ہے۔ سرکاری انتظام کے تحت حج کے لیے فی کس چار لاکھ 36 ہزار روپے کے اخراجات وصول کیے جائیں گے۔ عازمین حج کو احرام وغیرہ خود خریدنے ہوں گے، ہر شخص کو کم ازکم دو ہزار ریال (تقریباً77 ہزار روپے) اپنے پاس رکھنا ضروری ہے۔ یہ سارے اخراجات مل کر پانچ لاکھ 12 ہزار روپے سے بھی بڑھ جاتے ہیں۔ یہ صورت حال عام لوگوں کے لیے بہت پریشان کن بن گئی ہے۔ حکومت سے مطالبہ کیا جارہاہے کہ و ہ پچھلے برس کی طرح اپنے پاس سے سب سڈی دے۔ اس پر ملک کے 10 ممتاز علما نے اہم فیصلہ جاری کیا ہے۔

٭علما کی ایک اہم تنظیم ’پاکستان علماکونسل‘ کے صدرحافظ محمد طاہر اشرفی اور نو دوسرے علما نے ایک مشترکہ بیان میں کہاہےکہ عوام کے ٹیکسوں سے قائم خزانے، قرضوں ، زکوٰۃ وغیرہ سے حج کی اجازت نہیں ہے۔ حج صرف صاحب استطاعت پر فرض ہے، قرضہ لے کر بھی حج نہیں کیا جاسکتا۔ حکومت کی طرف سے کسی اقلیت کو بھی سب سڈی دینا درست نہیں۔ حج کی ذاتی استطاعت نہ ہوتو وہ فرض نہیںرہتا۔ ان 10 علما کے نام یہ ہیں: حافظ محمد طاہر اشرفی، مولانا اسعد الرحمان سعید، مولانااشفاق پتافی، مولانا عبدالقیوم فاروقی ، مولانا طاہر عقیل اعوان، مولانا اسلم قادری، علامہ طاہر الحسن، مولانا حبیب الرحمان، مولانا نعمان حاشر اور مولاناحفیظ الرحمن۔
٭میاں شہبازشریف ، حمزہ شہباز اور سابق سپیشل سیکرٹری فواد حسن فواد کے لیے نئی آزمائش آرہی ہے۔ ان کے خلاف نیب نے نئے ریفرنس تیار کرلیے ہیں جنہیں نیب کے بورڈ کی منظوری سے احتساب عدالت میں بھیج دیا جائے گا۔ اس منظوری کے لیے بورڈ کا جلد اجلاس شروع ہورہاہے۔ شہبازشریف اور حمزہ شہباز کے خلاف رمضان شوگر ملز کے معاملات میں21 کروڑ روپے کی کرپشن کاالزام ہے۔ فواد حسن فواد پر آمدنی سے زیادہ ، ایک ارب روپے کی جائیداد بنانے کے الزام میں ریفرنس آرہاہے۔ ریفرنس دائر ہونے کے بعد ان تینوں کی احتساب عدالت میں تحقیق، تفتیش اورنیب کے گواہوں وغیرہ کے بیانات اور وکلا کی بحث کا طویل سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ ہر بار ان تینوں کو عدالت کے روبرو پیش ہونا پڑےگا۔ نوازشریف کو اس قسم کی 100 سے زیادہ پیشیاں بھگتنا پڑی تھیں۔
٭وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ’’اقتدار میں آنے سے پہلے مجھے علم نہیں تھا کہ حالات اتنے خراب ہیں‘‘۔ اس بیان پر مختلف تبصرے ہورہے ہیں کہ کیا واقعی سابق حکومت کے خلاف طویل مہم کے دوران وہ حکومت کے حالات سے بے خبر رہے؟ کیا ان کے ساتھیوں نے کبھی حکومتی منظر نامہ کی جانچ پڑتال نہ کی؟ یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے ، کیا ان کی پارٹی کے پاس کوئی مالیاتی ماہرین نہیں تھے جو یہ معلوم کرسکتے کہ خزانے کی کیا صورت حال ہے؟ ملک کے ذمے کتنے قرضے واجب الادا ہیں؟ تجارتی خسار ہ کتنا ہے؟ ملک کی زرعی و صنعتی صورت حال کیا ہے؟ وغیرہ۔ اتنی اہم معلومات جانے بغیر سیاسی لڑائی کیسے لڑی جاسکتی ہے؟ برطانیہ میںایک کابینہ تو حکومت بناتی ہے، ایک کابینہ اپوزیشن ترتیب دیتی ہے اسے اپوزیشن کی شیڈو کابینہ کہاجاتا ہے۔ اس میں حکومتی کابینہ کے وزرا کی تعداد کے برابر ’وزرا‘ ہوتے ہیں۔ ہر شیڈو وزیر کسی حکومتی وزیر کے محکمہ پر کڑی نظر رکھتا ہے اور اس کا احتساب کرتا ہے۔ ظاہر ہے اس مقصد کے لیے شیڈو وزیر کو اس محکمے کے اندر باہر کے تمام حالات کا مکمل علم ہوتاہے ورنہ وہ احتساب کیسے کرسکتا ہے؟ میں اس صورت حال پر مزید کچھ نہیں کہناچاہتا البتہ ایک شاعر کا اس کی محبوبہ کے بارے میں پرانا شعر یاد آرہاہے کہ ’’اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا‘ لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں!‘‘
٭میاں نوازشریف کی طبیعت بگڑتی جارہی ہے۔ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کے مطابق انہیں دل کا عارضہ لاحق ہے۔ اس رپورٹ پر انہیں جیل سے لاہور کے سروسز ہسپتال میں منتقل کر دیاگیا ہے ، وہاں انتہائی سخت سکیورٹی کا انتظام کیاگیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ سینکڑوں مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرناپڑے گا۔ یہ بات تعجب کی ہے کہ سروسز ہسپتال میں دل کے امراض کا کوئی وارڈ ہی نہیں جب کہ اس ہسپتال کے ساتھ والی سڑک کے پاس پنجاب کا دل کے امراض کے علاج کا جدید ترین آلات والا انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی قائم ہے۔ اس ہسپتال کی بجائے سروسز ہسپتال کو کیوں منتخب کیا گیا؟ جہاں ہر وقت اندر باہر سینکڑوں مریضوں کا ہجوم رہتاہے؟
٭روزنامہ اوصاف کے سینئر رپورٹر کاشف ملک کی ایک اہم تحقیقاتی رپورٹ کہ پاکستان میں دواساز کمپنیاں ناجائز طورپر اربوں کا منافع سمیٹ رہی ہیں۔ دواسازی کی صنعت کسی بھی دوسری صنعت سے کئی گنازیادہ منافع بخش بن چکی ہے ۔ تمام دواؤں کے بنیادی اجزا یکساں ہوتے ہیں مگر ہر کمپنی بنیادی نام کی بجائے اپنے خاص ناموں کے ذریعے کئی گنا قیمت وصول کرتی ہیں۔ ان خاص ناموں کی ہرقسم کی تشہیر کے علاوہ بڑے ڈاکٹروں کوبھاری رشوتیں، نئی کاریں تک دی جاتی ہیں اوران سے ان دواؤں کے نسخوں کے علاوہ ان کے شاگرد ڈاکٹروں تک سفارشیں بھی پہنچا ئی جاتی ہیں۔ یہ رپورٹ بالکل درست ہے۔ آج سے 48 سال پہلے پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کی کابینہ میں شیخ محمد رشید کو وزیر صحت بنایاگیا۔ وہ بہت سچے کھرے شخص تھے، انہوں نے دواؤں کے بارے میں انقلابی اقدام کیا کہ آئندہ ملک میں تمام کمپنیوں کی تمام دوائیں صرف ان کے ’جنرک‘ نام (اصل بنیادی نام) سے فروخت ہوں گی اور کوئی کمپنی اپنا خاص نام استعمال نہیں کرے گی۔ اس فیصلہ پر عمل شروع ہوا تو حیرت انگیز طورپر دواؤں کی قیمتیں کئی گنا نیچے آگئیں۔ اس پر غیر ملکی دواساز اداروں نے ہنگامہ کردیا اور سارا کاروبار سمیٹ کر چلے جانے کا اعلان کردیا۔ اس پر حکومت گھبرا گئی اور پھر سے پہلے والا نظام بحال کردیا۔
٭گورنرہاؤس سندھ میں بریانی میلہ شروع ہو رہاہے! ایک قاری نے تجویز دی ہے کہ لاہور کے گورنرہاؤس میں سری پائے میلہ، پشاور کے گورنرہاؤس میں چپل کباب اور بلوچستان کے گورنر ہاؤس میں دُنبہ دم پخت میلہ شروع کیا جاسکتا ہے۔