09:36 am
  ’’جہاں کوئی نہ سراٹھا کے چلے‘‘

’’جہاں کوئی نہ سراٹھا کے چلے‘‘

09:36 am

ڈاکٹر جنید احمد ایک ممتاز دانشور ہونے کے علاوہ اقتصادیات اور تاریخ سے متعلق کئی معلوماتی کتابیں تحریرکرچکے ہیں۔  جن موضوعات پر انہوںنے کتابیں لکھی ہیں ان کے مندرجات کو عالمی سطح پر نہ صرف تسلیم کیا گیا ہے بلکہ تعریف وتوصیف بھی کی گئی ہے۔ابھی حال ہی میں ان کی بھارت سے متعلق ایک اہم کتاب منظرعام پر آئی ہے۔ 

یہ کتاب انگریزی زبان میں تحریر کی گئی ہے۔اسکا ٹائٹل ہے India an aperthied Stateاس کتاب کا حال ہی میں اردو ترجمہ ’’جہاں کوئی نہ سراٹھا کے چلے‘‘ کے عنوان سے ہواہے۔ ترجمہ محمد ذیشان اختر نے کیا ہے، جنہوںنے نہایت ہی سلیس اور شگفتہ انداز میں انگریزی سے اس کتاب کا اردو میں ترجمہ کرکے صحافت میں ایک نیا باب رقم کیا ہے، اس کتاب کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ احساس ہوتا ہے کہ بھارت حقیقی معنوں میںایک نسل پرست ملک ہے۔جہاں مسلمانوں ، عیسائیوں اور دلتوںکے ساتھ انتہائی غیر انسانی سلوک روا رکھا جارہاہے، بی جے پی کی حکومت ان اقلیتوں کے ساتھ ہر سطح پر نا مناسب اور عدم مساوات کے علاوہ حقارت پر مبنی سلوک کرتی ہے۔ جب یہ اقلیتیں جبر اور کھلی نا انصافیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہیں تو ریاستی طاقت اور تشدد کے ذریعہ ان کے احتجاج کو دبایا جاتاہے۔ ہر چند کہ بھارت یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ اپنے آئین کے مطابق ایک سیکولر ملک ہے، لیکن عملی طورپر یہ ملک رام راج کی طرف بڑی تیزی سے بڑھ رہاہے۔ خصوصیت کے ساتھ جب سے نریندرمودی اقتدار میں آیا ہے، اسکی پالیسیاں اقلیتوں کو بے جا خوف زدہ کرنے اور دبانے پر مرکوز رہی ہیں۔ 
ڈاکٹر جنید احمد نے اپنی تحقیقی کتاب میں ہندئوں کی اس سوچ کو بے نقاب کیا ہے اور بتایا ہے کہ ہندو ذہنیت ، مسلمانوں کے علاوہ دیگر اقلیتوں کو کسی قسم کی سماجی وثقافتی آزادی دینے کی روادار نہیں ہے۔ گائو رکشا کے پس منظر میں صرف گذشتہ سال 600 مسلمانوں کو اس الزام میں قتل کیا گیا کہ انہوں نے گائے کا گوشت کھایا تھا ، حالانکہ حقیقت ایسی نہیں تھی، لیکن انتہا پسند ہندئوں نے آر ایس ایس کے غنڈوں کی قیادت میں مسلمانوں کے لئے عرصہ حیات تنگ کیا ہواہے۔ ڈاکٹر جنید نے تحریر کیا ہے کہ مسلمانوں نے ایک ہزار سال ہندوستان پر حکومت کی ہے لیکن ہندئوں کو جبراً مذہب تبدیل کرنے پر زورنہیں دیا اور نہ ہی انہیں مذہب تبدیل کرنے کی ترغیب دی گئی اگر مسلمان حکمران طاقت کے بل بوتے پر ہندوئوں کو مسلمان بنانے کی کوشش کرتے توہندوستان میں ایک بھی ہندو باقی نہیں بچتا، لیکن مسلمان سلاطین نے ایسا نہیں کیا، بلکہ رواداری کا عملی ثبوت دیا۔ اسکی نشاندہی تزک بابری ، تزک جہانگیری کے مطالعہ سے ظاہر ہوتی ہے کہ کس طرح ان حکمرانوں نے ہندوں کے رسم ورواج کو جوں کا توں رکھا اور ان کے مذہبی اور ثقافتی احساسات کو بھی ٹھیس نہیں پہنچائی تھی۔ ہندوستان میں اسلام اللہ کے بر گذیدہ بندوں کی وجہ سے پھیلا ہے جنہوںنے پر امن انداز میں خانقائوں میں بیٹھ کر اللہ کی عبادت کرتے ہوئے اسلام کی انسانوںکے درمیان مساوات پر مبنی انسان دوستی کا درس دیا تھا، جس کو سمجھ کر ہندئوں نے اسلام قبول کیا  لیکن اپنا مذہب چھوڑ کر مسلمان ہونے والوں کی تعداد زیادہ نہیں تھی۔  ڈاکٹر جنید  نے اس ہی پہلو کو اجاگر کیا ہے اور لکھا ہے کہ ذات پات میں تقسیم ہندئو معاشرہ بر ہمن کی صورت میں ہندوئوں کے دیگر طبقات پر اپنی اجارہ داری قائم کئے ہوئے ہے اور ان کا استحصال کرنے میں اپنی مثال نہیں رکھتاہے۔ ہندئو ذہنیت مسلمان سمیت تمام اقلیتوں کو ملچھ(اچھوت) سمجھتی ہے جن کے ساتھ لین دین مناسب نہیں ہے۔
 مصنف کی اس بات سے ہر ذی شعور اور پڑھے لکھے فرد کو اتفاق ہے کہ بی جے پی کی قیادت ہندوتا کی بنیادپر بھارت میں مسلمانوں کے خلاف اب تک کئی خوفناک فسادات کراچکی ہے جس میں گجرات میں 2002میں مسلمانوں کا قتل عام اور 1998میں اجودھیا میں بابری مسجد کا انہدام بھی شامل ہے، بابری مسجد کے انہدام کے موقع پر تقریباً تین ہزار مرد، عورت اور بچوں کو بڑی بے دردی کے ساتھ قتل کیا گیا۔  اسوقت بھی بی جے پی 2019میںبھارت میں ہونے والے عام انتخابات سے قبل بابری مسجد کی جگہ رام مندر بنانے کے لئے جاہل اور انتہا پسند ہندئوں کو اپنے ساتھ ملا کربھارت کی سپریم کورٹ پر ناجائز دبائو ڈال رہی ہے تاکہ وہ رام مندر تعمیر کرنے کی اجازت دے سکے۔ اس صورتحال کے پیش نظر اجودھیا میں مسلمانوں میں ایک بار پھر خوف طاری ہوگیا ہے بلکہ اسوقت پورے ہندوستان میں مسلمانوں میں نریندر مودی کی مسلمان دشمن پالیسوں کے خلاف ایک انجانا خوف پایا جاتاہے ۔  انہوںنے بڑی وضاحت سے اپنی اس تحقیقی کتاب میں لکھا ہے کہ بھارت کی سیاسی اور مذہبی قیادت نے قیام پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا ہے  بلکہ ان کے رہنمائوں کا خیال تھا کہ پاکستان اپنے قیام کے چندماہ بعد دوبارہ بھارت میں ضم ہوجائے گا۔ آنجہانی گاندھی اور نہرو کے بھی یہی خیالات تھے جو اس وقت بیانات کی صورت میںہندوستان کے اخبارات میں بڑے تواتر کے ساتھ شائع ہوتے رہتے تھے۔ مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے میں جہاں شیخ مجیب الرحمن کا غدارانہ کردار تھا وہیں بھارتی فوج نے مشرقی پاکستان پر حملہ کرکے اسکو پاکستان سے علیحدہ کیا تھا، تاہم ہمارے بعض سیاست دانوں کی بھی کچھ غلطیاں شامل تھیں  جن کی وجہ سے بنگالی ہم سے دورہونے لگے تھے  نیز اگر تلہ سازش کیس میں شیخ مجیب الرحمن کو سزا ہوجاتی تو مشرقی پاکستان کا المیہ رونما پذیر نہ ہوتا۔
ڈاکٹر صاحب کی اس لاجواب تاریخی حوالوں سے مزین کتاب سے بہ آسانی یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتاہے کہ بھارت اب بھی پاکستان کو دولخت کرنے پر تلا ہوا ہے۔ افغانستان کے راستے بھارتی دہشت گرد پاکستان کو معاشی طورپر عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، شمالی اور جنوبی وزیرستان میں تحریک طالبان پاکستان کو بھارت کے علاوہ امریکہ اور اسرائیل کی مالی مد شامل تھی  لیکن پاکستان کی مسلح افواج نے ان دہشت گردوں کے خلاف منظم کاروائیاں کرکے ان کو نیست ونابود کردیاہے، کچھ افغانستان فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ اگر پاکستان کی بہادر افواج ان کو چیلنج نہیں کرتی تو یہ گمراہ عناصر کرائے کے قاتل پاکستان کو خاصا نقصان پہنچاسکتے تھے۔بھارت کی ان تمام ریشہ دوانیوں کے باوجود پاکستان بھارت کے ساتھ جامع مذاکرات کا خواہش مند ہے، کیونکہ ان جامع مذاکرات کے ذریعہ کشمیر کا مسئلہ بھی حل ہوسکتاہے۔ جہاں اس وقت مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی سات لاکھ فوج نہتے کشمیریوں پر ظلم وجور کے پہاڑ توڑرہی ہے۔ اسوقت تک ایک لاکھ سے زائد کشمیری نوجوان ، بزرگ، خواتین اوربچے اپنی آزادی کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں، 1947میں تقسیم ہند سے قبل مہاراجہ ہری سنگھ اور اسکی بیوی نے جموںمیں پانچ لاکھ مسلمان کشمیریوں کو قتل کرایا تھا، ان تلخ حقیقتوں کے باوجود پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے بھارت کے ساتھ اچھے ہمسائیگی کے تعلقات قائم کرنے کے سلسلے میں ایک خط بھی لکھا ہے جس کا بھارت کی جانب سے کوئی معقول جواب نہیں آیا۔


، اس ضمن میں میرا پنا خیال ہے کہ بھارت مئی میں ہونے والے عام انتخابات تک پاکستان کے ساتھ کسی قسم کے روابط قائم نہیں کرے گا بلکہ ایل او سی اور ورکنگ بائونڈری پر اشتعال انگیز کاروائیاں کرتے ہوئے جنگ کے شعلوں کو ہوا دینے کی کوشش کریگا، اس دوران پاکستان کی حکومت اور افواج پاکستان کو زیادہ چوکس رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ مکار بنیاکی جانب سے پاکستا ن کے خلاف کسی بھی قسم کی سازش متوقع ہے۔  جس میں محدود جنگ کے امکانات کو رد نہیں کیا جاسکتاہے۔ ڈاکٹر صاحب کی اس کتاب کو اعلیٰ تعلیمی اداروں کے نصاب میں شامل ہونا چاہئے تاکہ پاکستان کی نئی نسل کو یہ احساس ہوسکے کہ بھارت پاکستان کا ازلی دشمن ہے جو اس خطے میں اپنی اجارہ داری قائم کرنے کے لئے پاکستان کو سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتا ہے، اور اسکو مزید دولخت کرنا چاہتاہے  اور بھارت میں رہنے والے مسلمانوں کے لئے عرصہ حیات تنگ کئے ہوئے ہے۔