08:02 am
   ہمارے امتحان اور عالمی برادری کا حمام! 

   ہمارے امتحان اور عالمی برادری کا حمام! 

08:02 am

میڈیا پر چلنے والی خبریں کیا کم تھیں کہ  وزیرخارجہ نے یہ فرماکر کے  مزید سسپنس پھیلا دیا کہ قوم تیار باش رہے  ابھی مزید امتحان باقی ہیں ۔   بچپن سے ہمیں امتحان پسند نہیں ۔ خواہ نصابی ہو یا ایمانی ہو! ہر دو قسم کے امتحان میں کامیابی  کے لیے نفس کشی لازم ہے۔ کامیابی کے حصول  کے لیے تیاری بنا کوئی چارہ نہیں ۔ تیاری کے جان گسل مراحل نفس کشی کے بنا طے نہیں ہو پاتے۔ آپ سونا چاہتے ہیں لیکن امتحان سر پر کھڑا ہو تو کتابوں کے پہاڑ سر کرنے کے لیے سر کے بل کھڑے رہ کے بھی جاگنا پڑتا ہے۔ سردی میں ٹھنڈے پانی کے چھینٹے اور گرمی میں گرما گرم ابلتی کھولتی چائے پینی پڑتی ہے تب کہیں جا کے انسان کی اولاد بچہ شاہین بنتی ہے۔زمانہٗ طالبعلمی میں  سخت گرمی میں نیند بھگانے کے لیے کڑک چائے پیتے ہوئے اور لڑکپن کے دور  میں سخت سردی میں  والد محترم کے خوف سے خالصتاً اﷲ کی رضا کے لیے فجر کی نماز کے لیے اٹھتے ہوئے  اقبالؒ کے اس مصرعے کی  سمجھ آئی کہ سخت کوشی سے ہے تلخِ زندگانی انگبیں ! سالخوردہ عقاب نے  بچہ ‘ شاہیں کی فطرت میں انگڑائیاں لیتی تن آسانی کی طلب کو بھانپتے ہوئے اُسے رفعت ِ چرخِ بریں جیسے ہدف پر نگاہ رکھنے کی ترغیب دی تھی ۔ 
یہ طے ہے کہ امتحان کے دور میں عین تیاری کے وقت یا امتحان کے دوران سونے کی عیاشی کرنے والے کا مقدر بھی سو جاتا ہے۔ بچپن سے آج تک جتنی قسم کے ناصحین و مبلغین سے واسطہ پڑا وہ سب ہماری اصلاح پر بری طرح تُلے ہونے کے ساتھ ساتھ  اس نکتے پر ایک ہی پیج پہ تھے کہ آنے والا امتحان ہی اصل امتحان ہے ! اے بچہ ‘  شاہیں اگر تو نے تیاری نہ کی اور اس امتحان میں فیل ہوا تو عالمی برادری میں کہیں منہ دکھانے کے قابل نہ رہے گا۔ چنانچہ عالمی برادری کو منہ دکھانے کے واسطے ہم اور ہمارے جاں باز رفقائے کار بچپن سے ہی مصروف عمل ہیں ۔ ( واضح رہے کہ ہماری جدوجہد کے ابتدائی ایام میں  عالمی برادری قریبی رشتہ داروں اور محلہ داروں پر مشتمل ہوتی  تھی ۔ وضاحت اس لیے ضروری تھی کہ آپ کا دھیان شریف کہیں امریکہ بہادر یا یورپی ممالک کی جانب نہ چلا جائے) ۔ روایتی ناصحین چونکہ  اصلاح کے لیے سدا سے  نصیحت کم سے کم اور خوف زیادہ  سے زیادہ دلانے کے قائل رہے  ہیں ۔ لہٰذا یہ آزمودہ نسخہ ہم پر بھی  بچپن سے ہی آزمایا جانے لگا۔ 
پہلی جماعت سے  ہی ڈرایا جانے لگا کہ اگر تعلیمی بنیاد مضبوط نہ ہو تو آنے والی جماعتوں میں شاہین کے بجائے چڑیا کا بچہ بن جائو گے ۔ چنانچہ  بچہٗ  شاہیں بننے  کے لیے  ہم اور ہمارے اولوالعزم رفقاء کار محترم اساتذہ کرام  کے  پرزور اصرارپر کئی مرتبہ مرغا بنے ! ہاتھ اُٹھا کے بنچوں پہ کھڑے رہے۔ کرسی بننے کے درد ناک عمل سے گذرے حتیٰ کہ اس جد و جہد میں کئی مرتبہ  مولا بخش کے کاری وار اپنے ننھے ننھے ہاتھوں پر سہے ! ہمیں عالمی برادری کی آڑ لے لے کہ ڈرانے کا سلسلہ تھما نہیں ۔ پانچویں جماعت کا امتحان ہو ، مڈل کا یا میٹرک کا ! ہر بار یہی کہہ کہ ڈرایا گیا کہ بس یہی وہ امتحان ہے کہ جس میں کامیابی کے بعد عالمی برادری میں سرخرو ہوا جا سکتا ہے۔ ہم بھی سر پھینک کے امتحان کی تیاری میں جت جاتے۔ کبھی کبھی سر اٹھاتے اور دائیں بائیں دیکھتے تو پتا چلتا کہ جس عالمی برادری کے خوف سے ہمیں ہلکان کیا جا رہا ہے اُس کے اپنے بچوں کے کرتوت ہی ٹھیک نہیں ۔ 
بہرحال ہم ٹھہرے اقبال کے شاہیں ! جو ٹھان لی وہ کر کے ہی دم لیا ۔ ناصحین کے ڈرانے کا سلسلہ بھی کم نہ ہوا ۔ دین کا معاملہ ہو تو قیامت اور قبر کے عذاب کا خوف دلایا جاتا رہا ۔ صحت کے نام پر دودھ ، دہی مکھن جیسی ثقیل غذائوں کے استعمال پہ مجبور کیا گیا ۔ نوڈلز ، چپس ، پیزا جیسے بنیادی انسانی حقوق کا ہمارے عہد طفلی میں رواج ہی نہیں تھا ۔ گولہ گنڈا، کھٹی میٹھی گولیوں ، دہی بھلے اور بن کباب جیسی لذیذ اشیاء  کو عالمی برادری نے ہمارے لیے  ممنوعہ قرار دیئے رکھا ۔ اگرچہ کہ ہم نے بھی عالمی پابندیوں کی دھجیاں اڑانے کا کوئی موقع کبھی ہاتھ سے جانے نہیں دیا لیکن مجموعی طور پر استحصال کا شکار ہی رہے۔ اسکول سے کالج اور اعلیٰ تعلیم کے بعد معاش کی چکی پیسنے کی عشروں پر پھیلی اس جدوجہد میں ہر قدم پر ہمیں  عالمی براداری سے ڈرایا جاتا رہا ہے۔  حتیٰ کہ بچہ شاہیں خود عقاب سالخورد بن گیا لیکن زمانے کی نصیحتیں ہی ختم نہیں ہو رہیں۔     
شعور سنبھالا تو پتا چلا کہ نصیحت کرنے والا خود اپنے کہے پر عمل نہیں کرتا ۔ جب سے ہم نے  ناصحین کو آئینہ دکھانا شروع کیا زندگی میں بھی سکون بڑھنے لگا اور نصیحت کرنے والوں کے بھی دماغ ٹھکانے آنے لگے۔ آج کل پاکستان کے امتحان اور عالمی برادری کا چرچا زوروں پہ ہے۔ امتحان لینے کا حق ہر کسی کو نہیں دیا جاسکتا ۔ عشرے گذر گئے پاکستان کو امتحان دیتے اور عالمی برادری کے نخرے سہتے ۔ کون لینا چاہتا ہے پاکستان کا امتحان ؟ کون سی عالمی برادری اور کہاں کی عالمی برادری؟ امتحان لینے والے ممتحن خود عالمی برادری کے حمام میں ننگے کھڑے ہیں۔ دوسرے ملکوں میں فوج کشی کرنے ، جاپان پہ ایٹمی حملہ کرنے ، سی آئی اے کے ذریعے منشیات کا کاروبار کرنے ، مشرق وسطیٰ کو خون میں نہلانے ، عالمی  دہشت گرد اسرائیل کی سرپرستی  اور داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں  کی چوری چھپے سر پرستی کرنے والا امریکہ ہمارا امتحان لے گا ؟ ایک امریکہ ہی کیا اس  عالمی برادری کے حمام میں روس ، یورپی ممالک ، برادر اسلامی ممالک بشمول ایران اور ہمارا ازلی دشمن بھارت بھی ننگے کھڑے ہیں ۔ بہت امتحان دے لیے۔ وزیرخارجہ صاحب ! ہمت کر کے امتحان لینے والوں کو آئینہ دکھا دیں ؟ سکون ہو جائے گا پاکستان میں ۔ ڈرنا کس بات کا ؟ ہمت  دکھائیں پوری قوم آپ کے ساتھ ہو گی!    

تازہ ترین خبریں