07:53 am
ریگولیٹر اور مفادات کا تصادم

ریگولیٹر اور مفادات کا تصادم

07:53 am

 مخصوص قوانین کے نفاذ کے لیے قانون سازی سے تشکیل دیا گیا  سرکاری ادارہ ’’ریگولیٹری ایجنسی‘‘ یا ’’ریگولیٹر‘‘ کہلاتا ہے اور عام طور پر اسے کسی حد تک قانون سازی، انتظامی اور عدالتی اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔  انکم ٹیکس، ماحولیات، کارگاہوں میں صحت و حفاظتی تدابیر، جائیداد کی خرید و فروخت اور ملازمت  سے متعلق ضوابط سمیت متعدد قوانین کئی سماجی اور معاشی امور پر لاگو ہوتے ہیں۔ کسی بھی حکومت میں ان ریگولیٹری اداروں کے دو بنیادی کام  ہیں، قوانین کا اطلاق اور نفاذ۔ مقننہ کے وضع کردہ قوانین  انہی اداروں کی ضابطہ بندی کے ذریعے عمل میں لائے جاتے ہیں۔ 
مختلف شعبوں سے متعلق قوانین و ضوابط کسی بھی قوم کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ ان کے نفاذ کے لیے بنائے جانے والے ادارے معیشت میں جدت اور پیدوار میں نمو کو فروغ دینے کے لیے معاون ثابت ہوتے ہیں۔ قوانین کی بروقت منظوری، نئے مسائل سے متعلق لچک دار رویہ اور خدمت کا جذبہ ان کی بنیادی خصوصیات ہونی چاہیں۔ اس کے لیے کسی ایسے ریگولیٹری ادارے کے مقاصد میں صراحت ہونی چاہیے، اس کے اختیارات اور دائرہ اختیار کی وضاحت ہونی چاہیے اور یہ اختیارات باہم یا کسی اور ادارے سے متصادم نہیں ہونے چاہئیں(یا ایسے کسی تضاد کا حل بھی پیش کرتے ہوں)، پالیسی سطح پر کردار بھی واضح ہونا چاہیے اور ان اداروں کو شفافیت کے ساتھ اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے ایک دوسرے کی معاونت کرنی چاہیے۔ ریگولیٹرز کو کبھی ایسے اہداف نہیں دینے چاہئیں جن میں تضاد یا تنازعات پیدا ہوسکتے ہوں۔  مفاد عامہ میں حکومت کے متعین کردہ اہداف کے حصول اور قانون سازوں کی جانب سے وضع کردہ قوانین کے اطلاق کے لیے یہ ادارے وجود میں لائے جاتے ہیں۔ریگولیٹری اداروں کو دیانت داری اور غیر جانب داری کے ساتھ اپنی ذمے داریاں ادا کرنی چاہئیں۔ ریگولیٹری اداروں کے احتساب کا مکمل نظام ہونا چاہیے، تاکہ ان کے اختیارات کے استعمال اور کارکردگی کا جائزہ بھی لیا جاتا رہے۔ شفافیت کے لیے ریگولیٹری اداروں میں تعینات ہونے والوں یا خاص شعبے یا صنعت کی نگرانی کے لیے مقرر کیے جانے والوں کو کسی بھی حیثیت میں اسی شعبے سے منافع بخش تعلق رکھنے کی اجازت نہیں دی جاتی یا کسی کاروباری ادارے سے کسی خاص مدت تک منسلک ہونے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ یہ دنیا بھر میں تسلیم شدہ اصول ہے۔ 
اکتوبر 2014ء میں جارج میسن یونیورسٹی سے منسلک محقق اور کالم نگار ویغونیک دی اغیژی نے دوٹوک تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا: ’’حال ہی میں انکشاف ہوا ہے کہ نیویارک کے فیڈرل ریزرو میں تعینات ریگولیٹرز ملک کے بڑے مالیاتی اداروں میں سے ایک  کے ساتھ قربتیں بڑھا رہے ہیں، جن کی نگرانی ان کی ذمے داریوں میں شامل ہے۔ نیویارک میں تعینات وفاقی بینک معائنہ کار کارمین سکیرا کی خفیہ ویڈیو سامنے آئی جس میں گولڈمین ساشے میں ان کی موجودگی کا انکشاف ہوا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ وفاقی ریگولیٹر کس طرح ٹیکس دہندگان کی پیٹھ میں چھرا گھونپ رہے ہیں اور  حکومتی اداروں کو جھانسا دینے کی کوشش کررہے ہیں۔
 سیگما کے مطابق گولڈمین کے ملازمین عام طور یہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ ان کے کلائنٹ پر منحصر ہے  کہ وہ وفاق کے ردعمل سے بے خطر ہو کر صارفین کے ضوابط پر عمل پیرا ہوتے ہیں یا نہیں۔‘‘ یہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ کس طرح ریگولیٹرز جانتے بوجھتے ہوئے مفادات کے تصادم کا شکار ہوجاتے ہیں۔ 
پاکستان کی تمام 18ریگولیٹر باڈیز حکومت کے ماتحت ہیں اور ان میں تعیناتی اور برطرفی کا اختیار بھی حکومت کے پاس ہے۔ ہمارے ہاں ریگولیٹری ادارے حکومت کے آگے بے بس نظر آتے ہیں اور اپنے آئینی اختیارات سے بھی دست بردار ہوچکے ہیں۔ دنیا کے برعکس پاکستان میں ریگولیٹری ادارے اپنے غلط کاموں کے باعث خبروں میں آتے ہیں۔ کسی بھی شعبے یا صنعت سے متعلق فرد ان اداروں میں تعینات ہوسکتا ہے۔ کوئی بھی ریگولیٹر کسی ایسے شعبے یا صنعت کی نگرانی یا ضابطہ بندی کیسے کرسکتا ہے، جس سے وہ خود منسلک ہو؟ لیکن ہمارے ہاں یہ روا رکھا گیا ہے۔ کسی بھی ریگولٹر ادارے کے سربراہان کی تعیناتی شفافیت کے ساتھ ہونی چاہیے۔ آزادنہ فیصلوں اور کارکردگی کے لیے کونفلیکٹ آف انٹرسٹ یا مفادات کے تصادم کے اصول پر واضح انداز میں عمل ہونا چاہیے۔ پاکستان میں کسی ریگولیٹری ادارے سے وابستہ شخص کسی دوسرے کمرشل ادارے میں کام کرسکتا ہے اور اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاتا۔
(جاری ہے)