07:54 am
بھارتی میڈیا جھوٹ بول رہاہے

بھارتی میڈیا جھوٹ بول رہاہے

07:54 am

ایک طرف پاکستان کا میڈیا عمومی طورپر بھارت اور پاکستان کے درمیان موجودہ کشیدگی کو بتدریج کم کرنے میں اپنا مثبت کردار ادا کررہا ہے تو دوسری طرف بھارتی میڈیا ایک مخصوص حکمت عملی اور سوچ کے ذریعہ بھارت اور پاکستان کے درمیان نہ صرف کشیدگی کو مزید پھیلا رہاہے ، بلکہ جنگی جنون بھی پیدا کررہاہے۔ بھارتی میڈیا کی جانب سے اس کا یہ رویہ جنوبی ایشیاء میں قیام امن کی کوششوں کے پس منظر میں انتہائی قابل مذمت اور باعث تشویش ہے ، مزیدبراں بھارتی میڈیا نریندرمودی کی گرتی ہوئی ساکھ کو سہارا دینے کے لئے بالا کوٹ سے متعلق بھارتی حملے کو جائز قرار دیتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ وہاں جیش محمدکے ارکان موجود تھے جنہیں بھارتی ہوا بازوں نے ہلاک کردیاہے۔ حالانکہ بھارتی جہاز بالاکوٹ میں واقع خوبصورت درختوں پر بم گراکر فرار ہوگئے تھے وہاںنہ تو جیش محمد کا کوئی مرکز واقع تھا اور نہ ہی ہلاکتیں ہوئی ہیں‘ جس کا دعویٰ بھارت کی حکومت کے ساتھ ساتھ بھارتی میڈیا بڑے تواتر کے ساتھ کررہاہے۔ اگرایسا ہوتا تو عالمی میڈیا کے علاوہ یو این او کے مبصرین اسکا ذکر ضرور کرتے لیکن جب ایسا واقع ہوا ہی نہیں ہے۔ تو اسکا کیوں کہ اور کس لئے ذکر کیا جائے اور بھارت کے موقف کو درست قرار دیا جائے۔
بالا کوٹ پر بھارتی حملے کے سلسلے میں سب سے پہلے تو اقوام متحدہ سمیت عالمی کمیونٹی کو بھارت سے یہ پوچھنا چاہئے کہ اس نے کیوں کر اور کس کے ایما پر پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حملہ کیا؟بھارت کی یہ کھلی جارحیت پاکستا ن اور بھارت کے درمیان جنگ کا باعث بن سکتی ہے۔اگر پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت صبروتحمل کا مظاہرہ نہیں کرتی تو پاکستان بھارت کے خلاف فضائی حملہ کرنے پر حق بجانب ہوتا‘ لیکن پاکستان نے ایسا نہیں کیا۔ دوسری طرف بھارت کی مختلف سیاسی پارٹیاں بہ بانگ دہل یہ کہہ رہی ہیں کہ بھارت نے پلوامہ کا ڈرامہ اس لئے رچایا تھا کہ آئندہ اپریل مئی میں بھارتی انتخابات میں بی جے پی کو فتح سے ہمکنار کیا جاسکے۔ مزید یہ حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ پلوامہ میں ہونے والے بھارتی سپاہیوں پر حملے کی منصوبہ بندی میں اسرائیل بھی شامل تھا‘ کیونکہ اسرائیل بھارت ساتھ مل کر پاکستان کو نقصان پہنچانے اور اس کے ایٹمی اثاثوں کو تباہ کرنا چاہتا ہے جس کی وہ ماضی میں کوشش کرچکاہے‘ لیکن ان دونوں پاکستان دشمن ملکوں کوپاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی کامیابی حاصل نہیں ہوسکے گی۔ پاکستان 1971ء کا پاکستان نہیں ہے یہ ایک طاقتور ملک ہونے کے ساتھ ساتھ بھارت سمیت کسی بھی ملک کی طرف سے ممکنہ جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار ہے۔ اس کا مظاہرہ پاکستان کے بہادر ہوابازوں نے بھارت کے دو طیاروںکو گرا کر اسکے خوابوں کو چکنا چور کردیاہے۔ اب بھارت اپنی شرمندگی اور سبکی کو مٹانے کے لئے اپنے میڈیا کے ذریعہ جنوبی ایشیا میں جنگی جنون کو فروغ دے رہا ہے تاکہ بھارتی جنتا کو یہ باور کرایا جاسکے کہ بھارت پاکستان کے خلاف اپنی جنگی حکمت عملی میں کامیاب ہواہے اور اس نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کردیاہے۔
 میرا یہ خیال ہے کہ بھارت کو پاکستان کے خلاف اپنے میڈیا کے ذریعہ جنگی جنون پھیلانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا بلکہ اس کو مزیدشرمندگی کا سامنا کرنا پڑیگا۔ بھارتی میڈیا بھارت کی انتہا پسند تنظیموں کے ہاتھوں یرغمال ہو چکاہے اس لئے وہ بھارت کے عوام کے سامنے سچ کا اظہار کرنے سے گریزاں ہے۔ وہ وہی جنگی زبان بول رہاہے اور اس کے بعض وزرا جھوٹ بول کر اس خطے میں حالات کو مزید خراب کرنا چاہتے ہیں اور یہ تاثر بھی دے رہے ہیں کہ پاکستان کے خلاف ہنوز جنگ جاری ہے۔ پاکستان کے عوام سیاسی وعسکری قیادت بھی یہ سمجھ رہی ہے کہ بھارت عالمی سطح پر ہونے والی اپنی سبکی مٹانے کے لئے پاکستان کے خلاف کچھ اقدام کرے گا۔ جس کے لئے پاکستان تیار ہے اور وقت آنے پر اس کا موثر جواب دیا جائے گا۔ شاید بھارت پاکستان کی جانب سے امن کی پیش کش اور مذاکرات کی دعوت کو پاکستان کی کمزوری سے تعبیر کررہا ہے، حالانکہ صورتحال ایسی نہیں ہے۔ پاکستان کمزور ملک نہیں ہے، اور نہ ہی بھارت سے خوفزدہ ہے تاہم امن کا قیام دونوں ملکوں کی ترقی کے لئے اشد ضروری ہے۔ اگر امن قائم نہیں ہوگا تو پھر جنگ ہوگی جو بعد میںنہ چاہتے ہوئے نیوکلیئر جنگ میں بدل سکتی ہے، جو دونوں ملک کی تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔
 موجودہ صورتحال کے پس منظر میں بھارت اور اس کے میڈیا کو یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ اس کو جلد یا بدیر کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قرارداد کی روشنی میں حل کرنا پڑے گا۔ اگر یہ مسئلہ حل نہیں ہوا تو پھر بھارت اور پاکستان کے درمیان کبھی بھی امن قائم نہیں ہوسکتاہے‘ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی سات لاکھ سے زائد فوج نہتے کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہی ہے اور ان کی جاری تحریک آزادی کو طاقت کے ذریعہ ختم کرنے پر مجبور کررہی ہے‘ لیکن اب ایسا ممکن نہیں ہوگا۔ مقبوضہ کشمیر کے نہتے عوام نے اپنی آزادی اورمذہبی اقداراور ثقافت کو تحفظ دینے کے لئے جو قربانیاں دی ہیں اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ کشمیر کے مسئلہ کا حل ہی پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کی ضمانت دے سکتاہے۔ اس لئے اس دیرینہ مسئلہ کو جلد حل ہونا چاہئے۔ چنانچہ مسلسل جھوٹ بولنے والے بھارتی میڈیا کو چاہئے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ظلم وبربریت کو بھی بے نقاب کرنے کی ہمت پیداکرے تاکہ بھارتی عوام کو اصل حقائق سے آگہی حاصل ہوسکے‘نیز انہیں یہ بھی احساس ہوسکے کہ کشمیر کسی بھی لحاظ سے کبھی بھی بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں رہاہے۔ یہ پاکستان اور بھارت کے درمیان 1947ء سے ایک متنازعہ مسئلہ رہاہے جس میں ایک فریق مقبوضہ کشمیر کے عوام بھی ہیں جو بھارت کے ظلم وبربریت کا بڑی بہادری اور جرات کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں۔ اگر بھارت یہ سمجھ رہا ہے جیسا کہ اس کا میڈیا یہ تاثر دے رہاہے کہ پاکستان پر حملہ کرکے اور پاکستان کو زیر کرکے اس مسئلہ کو حل کیاجاسکتاہے، تو یہ اس کی خام خیالی ہے، پاکستان بھارت کا ہر سطح پر مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے ذراسوچئے!

تازہ ترین خبریں