07:57 am
سعودی عرب‘ چین اور پاکستان زندہ باد

سعودی عرب‘ چین اور پاکستان زندہ باد

07:57 am

پاک فوج کے ترجمان کہتے ہیں کہ 23مارچ  پاکستان زندہ باد کے طور پر منائیں گے‘ میجر جنرل آصف غفور کے مطابق 23مارچ کو یوم پاکستان بھرپور جوش و جذبہ کے ساتھ منایا جائے گا‘ اس مرتبہ یوم پاکستان پریڈ میں سعودی عرب اور آذر بائیجان کے فوجی دستے مارچ پاسٹ کریں گے۔
یہ خبر پوری قوم کے لئے کسی خوشخبری سے کم نہیں کہ 23مارچ کے دن یوم پاکستان پریڈ میں سعودی عرب اور آذربائیجان کے فوجی دستوں کی مارچ پاسٹ اور سعودی عرب‘ بحرین اور سری لنکا کے پیراٹروپر سمیت ترکی کے ایف 16اور چین کے جنگی لڑاکا طیارے J-10کی مارچ پاسٹ میں شرکت کی وجہ سے بھارت میں تو صف ماتم بچھے گی ہی مگر اس کے ساتھ دنیا میں بھی یہ پیغام جائے گا کہ پاکستان تنہا نہیں بلکہ اس کے دوست ممالک آج بھی اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔
پاکستان کو دنیا میں تنہا کرنے کی کوششیں کرنے والی شیطانی طاقتیں سعودی عرب اور چین سمیت دیگر دوست ممالک کو 23مارچ کے دن پریڈ گرائونڈ میں پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑا دیکھ کر یقیناً چمگادڑوں کی طرح الٹا لٹکنے پر مجبور ہو جائیں گی۔ (ان  شاء اللہ)
 اسلام آباد میں قائم سعودی سفارتخانے نے پاک بھارت کشیدگی میں کمی لانے کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاک بھارت معاملات کو معمول پر لانے میں ریاض کا اہم کردار ہے‘ سعودی عرب نے علاقائی امن کو خراب ہونے سے بچا لیا‘ وزیر خارجہ عادل الجیر کے دونوں ممالک کے دورے سعودی قیادت کی ہدایات کی روشنی میں ہوئے‘جنہیں دونوں ممالک میں بھرپور پذیرائی ملی اور اب پاک بھارت تعلقات معمول پر آرہے ہیں۔
سعودی سفارت خانے نے یہ بیان جاری  کرکے بہت اچھا کیا...وگرنہ ابھی تک پاکستان کے عوام کو بعض مخصوص عناصر یہی سمجھا رہے تھے کہ پاک بھارت کشیدگی میں کمی لانے میں  امریکی  کوششوں کا عمل دخل زیادہ ہے‘ سچی بات ہے کہ ہم جیسے تو ہمیشہ سے ان خبروں کے متلاشی رہے ہیں کہ جس میں مسلمان ممالک کی ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کی ’’خبریت‘‘ شامل ہو‘ پاکستان ہو یا سعودی عرب یہ امت مسلمہ کی امیدوں کا محور و مرکز ہیں... انہیں یہود و نصاریٰ کی بیساکھیاں تلاش کرنے کی بجائے ایک دوسرے کا سہارا بننا چاہیے‘ امریکہ سمیت تمام کفریہ ممالک ایک دوسرے کا سہارا تو ہوسکتے ہیں لیکن سعودی عرب‘ پاکستان سمیت کسی بھی مسلم ملک کا سہارا بننے کے لئے کبھی بھی  اس وقت تک تیار نہ ہوں گے جب تک ان کے  اپنے مفادات کو تحفظ حاصل نہ ہو۔
سعودی عرب کے فوجی دستے 23مارچ کو مارچ پاسٹ میں حصہ لیں گے یقینا یہ خوش کن خبر ہے‘ پاکستانی قوم کی چونکہ حرمین شریفین کی عظمت کی وجہ سے سعودی عرب سے غیر مشروط محبت ہے... اس لئے پوری قوم دل سے دعا گو ہے کہ اللہ کرے کہ سعودی عرب جلد سے جلد ایک زبردست فوجی طاقت کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر ابھرے‘ عین اس موقع پر کہ جب چین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مولانا محمد مسعود ازہر پر پابندی کی قرارداد کو ایک دفعہ پھر ویٹو  کرکے بھارت اور بھارتی پٹاری کے دانش چوروں کے نشمین پر بجلی گرا دی ہے‘ پاک فوج نے 23مارچ پاکستان زندہ باد کے طور پر منانے کا اعلان کرکے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ملکی سرحدات کی حفاظت کے لئے پاکستانی قوم اور پاک فوج ایک پیج پر ہیں۔
چین اس سے قبل بھی 3مرتبہ مولانا محمد مسعود ازہر کے خلاف قراردادوں کو سلامتی کونسل میں ویٹو کر چکا ہے‘ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مولانا محمد مسعود ازہر کو دہشت گرد یا تخریب کار کہنے والے امریکہ‘ بھارت اور پاکستان میں موجود امریکی اور بھارتی پٹاری کے دانش چور‘ خود سب سے بڑے دہشت گرد اوردروغ گو ہیں‘ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کا یہ کہنا بھی درست ہے کہ ’’چین نے ہمیشہ ذمہ دارانہ روئیے کا مظاہرہ کیا اور ہمیشہ مناسب مواقف اپنایا‘‘ بھارت کو تو چھوڑئیے وہاں تو نریندر مودی جیسا بدنام زمانہ اجرتی قاتل وزیراعظم کا منصب سنبھالے ہوئے ہے‘ لیکن میرا سوال پاکستانی چینلز میں گھسے ہوئے  بھارتی موقف کے حامی اینکرز‘ اینکرنیوں‘ تجزیہ کاروں سمیت ن لیگ اور زرداری لیگ کے بعض سیاست دانوں سے ہے  کہ ٹی وی سٹوڈیوز میں بیٹھ کر مولانا محمد مسعود ازہر کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ کرنے سے قبل انہوں نے مولانا کے کردار‘ افعال اور اعمال کے حوالے سے کبھی ذاتی تحقیق کرنے کی بھی کوئی کوشش کی؟
بدنام زمانہ اجرتی قاتل نریندر مودی سے زہر بجھے تیر مستعار لے کر مولانا ازہر پر پھینکنے والے پاکستان کے دوست ملک چین سے ہی سبق حاصل کرلیتے کہ جس نے نہایت ذمہ داری کا رویہ اپناتے ہوئے مولانا محمد مسعود ازہر کے خلاف امریکہ‘ فرانس اور لندن کی کوششوں کو ناکام بناتے ہوئے مولانا ازہر کو دہشت گرد قرار دینے کا بھارتی خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہونے دیا‘ علماء اور جہاد دشمنی میں اندھے ہو کر مولانا محمد مسعود ازہر کو ٹاک شوز میں دہشت گرد قرار دینے والے اینکرز‘ انیکرنیاں اور بعض نام نہاد سیاست دان دراصل پاکستان کے خلاف موذی بیانئیے کے پرچارک ہیں۔
مولانا محمد مسعود ازہر یا دیگر کالعدم جہادی تنظیموں کے خلاف جھوٹے الزامات لگا کر بھارت اور امریکہ کی گڈبک میں نام لکھوانے  کی خاطر بعض سیاست دان‘ ملک دشمنی پر اترے ہوئے ہیں‘ بھارت اور اس کے ہمنوائوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ پاکستان اللہ کی نعمت ہے‘ پاکستان ایک اسلامی نظریاتی مملکت ہے‘ اللہ نے پاکستان کو سعودی  عرب اور چین جیسے مخلص دوست عطا کئے ہیں...پاکستانی قوم دنیا کی عظیم قوم ہے۔
وہ پاکستان کے خلاف بھارتی گواہ بن بھی گئے تو بھی پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ پائیں گے...جب پاکستان نے ان کے پائوں کے نیچے سے زمین سرکائی تو  وہ گھر کے رہیں گے نہ گھاٹ کے۔
(وماتوفیقی الاباللہ)