08:00 am
بھارتی ایجنڈا، اور بلاول زرداری !

بھارتی ایجنڈا، اور بلاول زرداری !

08:00 am

13مارچ 2019ء پاکستان کی تاریخ کا ایک سیاہ دن ہے ۔جب آصف زرداری کے بیٹے بلاول زرداری نے سندھ اسمبلی کے اربوں روپے کی کرپشن میں گرفتار سپیکر سراج درانی سے اظہار یکجہتی کیلئے پریس کانفرنس کی۔ بلاول زرداری نے ایسے وقت میں جب ملک حالت جنگ میں ہے انٹر نیشنل اسٹیبلشمنٹ اور پاکستان مخالف قوتیں بھرپور طریقے سے پاکستان کے خلاف نہ صرف پروپیگنڈہ بلکہ عملی اقدامات کررہے ہیں کہ پاکستان دہشت گرد تنظیموں کی پرورش اور مدد کررہاہے ۔ پاکستان مخالف پروپیگنڈہ کو تقویت دیتے ہوئے حکومت پاکستان اور اداروں کو دہشت گردوں کا ساتھی قرار دیا ۔ جب سے موجودہ حکومت نے کرپشن کے نعرے پر پہلے سے قائم مقدمات کو منظقی انجا م تک پہنچانے کا بیڑا اُٹھایا ہے ۔ پاکستان میں خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے والے طبقے نے اس کے خلاف محاذ بنالیا ۔ میثاق کرپشن کی تجدید کیلئے جونیئر زرداری نے سزا یافتہ شخص سے اظہار یکجہتی کیا ۔ حکومت اور اداروں کے کرپشن کے خلاف اقدامات کو بے اثر کرنے کی کوششوں پر اتفاق ہوا ۔ 
عدلیہ کے خلاف بیان دیا کہ ’’ان کی ریمارکس کچھ ہوتے ہیں اور فیصلے کچھ اور ہوتے ہیں ۔ یہ کسی اور کی زبان بولتے ہیں۔‘‘ یاد رہے یہ وہی پارٹی ہے جس کی سربراہ نے اپنے دور میں یہ قانون پاس کرنے کی کوشش کی کہ اگر کسی اسمبلی کے 32بتیس ارکان لکھ دیں تو کسی بھی جج کو ہٹایا جاسکتا ہے ۔ یہ بھی من پسند فیصلوں کی شدید خواہش رکھتے ہیں ۔ جونیئر زرداری نے عدلیہ کے فیصلوں کو مشکوک بنانے کی ناکام کوشش کی ۔ جس طرح آصف زرداری نے افواج پاکستان کو دھمکی دی تھی کہ ’’تم تین سال کیلئے آتے ہو ہم ہمیشہ کیلئے ہیں ‘‘ جونیئرزرداری نے بھی انہیں براہ راست نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ فیصلے کہیں ہوتے ہیں بولتا کوئی اور ہے ۔ 
 حکومت پاکستان کے خلاف کہا کہ اس کے تین وزیروں کے دہشت گردوں سے براہ راست تعلق ہے ۔ انہیں فورا ً برطرف کیا جائے جس سے بین الاقوامی برادری کو یہ پیغام دیا گیا کہ موجود حکومت اور حساس ادارے دہشت گردوں کی پرورش اور حمایت کرتے ہیں جس سے خاص طورپر بھارتی پروپیگنڈے کو ایک نئی قوت ملی کہ چاردفعہ وفاقی حکومت میں آنے والی پاکستان پیپلز پارٹی ہمارے موقف درست قرار دے رہے ہیں۔ یہ وہی بلاول ہے جس نے الیکشن کے ایک جلسے میں کہاتھا کہ ’’ انشااللہ ،2018ء کے الیکشن میں ہم وزیر اعظم کے گھر میں ہوں گے اور نواز شریف پانامہ کیس میں جیل میں ہوں گے ۔ ‘‘ ان کی پہلی بات غلط جبکہ دوسری درست ثابت ہوگئی۔
 چیئر مین نیب کو بھی دھمکی دی کہ ’’چیئر مین نیب اپنے لوگوں کو کنٹرول کریں ۔ورنہ ہم کنٹرول کریں گے‘‘یہ وہی نیب ہے جس میں موجود ان کے ہمدرد نہ صرف بے نقاب ہوئے بلکہ ابھی تک ان کے کرپشن اور جعلی بینک اکاونٹس کے کیسوں کو تاخیری حربوں کے ذریعے طوالت دے رہے ہیں ۔ یہ وہی پارٹی ہے ۔جس نے دیدار شاہ جیسے لوگوں کو من پسند فیصلوں کیلئے نیب کا چیئر مین بنایا ۔ جسے بعد میں فارغ کرنا پڑا ۔ نیب کے موجودہ چیئر مین بھی پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کے ہی منتخب کردہ ہیں  جنہوں نے ریاست پاکستان اور قانون کی بالادستی کیلئے کام کرنے کا عہد کیا ۔جس کا رواج پاکستان میں نہیں تھا کہا گیا ’’ نیب کا کالا قانون ہے ۔جس کو ہم ختم کردینا چاہیے ‘‘پانچ سال پیپلز پارٹی اور پانچ سال نواز لیگ دوتہائی اکثریت کے باوجود ختم کیوں نہ کرسکے ۔ یہ وہی لوگ ہیں جو ایک دوسرے کو سکیورٹی رسک قرار دے چکے ہیں ۔ 
یہ وہی پیپلز پارٹی ہے ۔جس نے اپنے دور میں پاکستان دشمن ممالک کے خفیہ ایجنٹوں کو ہزاروں کی تعداد میں بغیر ویزہ پاکستان آنے دیا اور ان کے مقرر کردہ سفیر حسین حقانی نے پاکستان کے خلاف مکروہ کردار ادا کیا ۔ اس قومی مجرم کو پیپلز پارٹی نے وزیر اعظم ہائوس میں پناہ اور سیکورٹی دی وہ آج بھی  پاکستان کے خلاف گھنائونا کھیل جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ وہی ہیں جنہوں نے پاکستان کے دنیا کے مانے ہوئے حساس ادارے آئی ایس آئی کا سر براہ اس شخص کو لگایا گیا جس نے ہزاروں غیر ملکی ایجنٹ بشمول بھارتیوں کو بغیر ویزہ دبئی سے پاکستان آنے دیا ۔ دونوں پارٹیا ں افواج پاکستان کو پولیس کی طرح استعمال کرنا چاہتی ہیں ۔ایک بھارتی وزیر اعظم سے اس خواہش کا اظہار کرتا ہے ۔وہ اور اس کے قریبی لوگ کلبھوشن یادیو جیسے پاکستان میں دہشتگرد کا نام بھی نہیں لیتا ۔ دوسرا پبلک میں اسے دھمکیاں دیتا ہے ۔ اس حکومت کی بدقسمتی یہ ہے کہ کرپشن کے خاتمے کے نام پر قائم ہوئی ۔روایات وہی سیاسی مفادات رہے ۔ دوسری پارٹیوں نے پی ٹی آئی میں اپنے لوگوں کو شامل کروایا جس طرح جاوید ہاشمی کو شامل کرکے بعد میں پی ٹی آئی کو ہزیمت سے دوچار کرنے کی کوشش کی گئی ۔ اس میں اُ سی قسم کے لوگ شامل کئے گئے جوپارلیمنٹ میں سسٹم کو جاری رکھنے کے نام پر شہباز شریف کو اپوزیشن لیڈر اور اکائوئنٹ کمیٹی کا سربراہ بنا کر شکست سے دوچار کیا ۔ وہ لوگ عمران خان کو ڈرا رہے ہیں کہ اگر اپوزیشن نے تعاون نہ کیا تو نظام نہیں چلے گا۔ کیا پاکستان میں کوئی ایسا شخص ہے ؟ جو اربوں روپے کھانے والے ممبرا ن اسمبلی سے یہ پوچھ  سکے کہ قوم کے اربوں روپے خرچ کرکے آپ نے قوم کو کیا دیا ۔قومی مفادات میں کیا کیا ؟یہی مطالبہ تمام سیاسی رہنمائوں کا ہے کہ ہمیں زمانہ جہالت کی طرح تمام قوانین سے بالا قرار دیا جائے ۔ استحقاق کے نام پر بننے والا قانون اس کی ناقابل تردید مثال ہے ۔سزایافتہ مجرموں اور زیرتفتیش ملزموں کو  اسمبلی میں لاکر اداروں کے خلاف تقریریں کروانا امتیازی قانون ہے کہ نہیں ۔
کیا کسی اسلامی قوانین کے تحت یہ جائز ہے کہ غریب کو روٹی چوری کرنے پر سزا اور امیر کو ملک لوٹنے پر استحقاق؟سیاستدان چاہتے ہیں کہ خواہ وہ پورا ملک لوٹ لیں ۔جعلی اکائونٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کریں ۔ سیاسی بیان کے نام پر جھوٹ بولیں ‘ قوم کو دھوکہ دیں ۔ ان کے آمدن سے زائد اثاثوں کے بارے میں نہ پوچھا جائے ۔ ان کی کرپشن ، نااہلی اور جرائم پر پوچھا جائے تو ملک اور جمہوریت خطرے میں پڑ جاتا ہے ۔ پھر یہ بیان بھارت کی کتنی مدد کرے گا کہ ’’ تین بار کا وزیر اعظم جیل میں اور کالعدم تنظیم کے ارکان آزاد پھر رہے ہیں ۔‘‘ ایسے حالات میںجب ملک کو اندرونی دہشت گردی کا شدید خطرہ ہو ۔ اس کے خلاف بیرونی پروپیگنڈا جاری ہو۔ ملک کی سرحدوں پر دشمن حملے کررہاہو۔ دشمن ہوائی حملے کر چکا ہو ۔ ایسے میں سیاستدانوں کے بیانات دشمن کے مذموم مقاصد کی تکمیل کرتے ہیں ۔ جس کی مثال بین الاقوامی عدالت میں نواز شریف کا بیان پاکستان کے خلاف ثبوت کے طور پر پیش کیا جاچکا ہے کہ’’ پاکستان کے ادارے دہشت گردوں کو بین الاقوامی سرحدوں سے باہر کارروائیوں میں ملوث ہیں ۔‘‘یہ بیان اس بات کا ثبوت ہے کہ ان لوگوں کو ذاتی مفادات قومی اور ریاستی مفادات سے زیادہ عزیز ہیں ۔