08:02 am
ارکان اسمبلی کا خزانے پر حملہ

ارکان اسمبلی کا خزانے پر حملہ

08:02 am

٭23 مارچ کی پریڈ میں سات ملکوں کے رہنما، فوجی حکام اور فوجی دستے شرکت کریں گےO آصف زرداری و بلاول سمیت سات بڑے ناموں کے خلاف ریفرنس تیارOبلاول کا جیل بھرو تحریک کا اعلان O بحریہ ٹائون کی سپریم کورٹ کو چار کھرب 85 کروڑ روپے جمع کرانے کی پیش کش O پنجاب اسمبلی: ارکان کی تنخواہوں میں قومی اسمبلی کے سپیکر سے بھی زیادہ اضافہ، 50 کروڑ سالانہ کا بوجھ O چین:مسعود اظہر کے بچائو کے لئے چوتھاویٹو O پیپلزپارٹی نوازشریف سے محتاط رہے: اعتزاز احسن۔
٭پنجاب اسمبلی کے ارکان نے تنخواہوں میں اندھا دھند اضافہ کے لئے عوامی خزانے پر کھلا حملہ کیا اور صوبے کی معیشت پر 50 کروڑ روپے سالانہ اضافہ کی منظوری دی تو ہر وقت ایک دوسرے کا سر پھوڑنے کے لئے تیار سب حکومتی اور اپوزیشن ارکان کا جشن شروع ہو گیا۔بے پناہ مسرت کے نشہ سے سرشار زور زور سے ڈیسک بجائے گئے، اٹھ کر ایک دوسرے سے لپٹ گئے، جپھیاں، مبارکبادیں، کھلی جگہ ہوتی تو بھنگڑے بھی ڈالتے! غضب خدا کا، انتہائی بدحال معیشت کا خون نچوڑ کر 50کروڑ روپے سالانہ کی عیاشی!! کوئی روکنے والے نہیں۔ لوٹ کا کپڑا، لاٹھیوں کے گز، باپ کا مال، حلوائی کی دکان پر نانا جی کی فاتحہ! اور تنخواہوں میں اضافہ بھی کیا کہ پنجاب اسمبلی کے رکن کی تنخواہ قومی اسمبلی کے سپیکر، سندھ، پختونخوا اور بلوچستان کے وزرائے اعلیٰ سے بھی کہیں زیادہ! اور کام؟ سارا سال لڑائی جھگڑے، ہاتھا پائی، ٹھڈے، مکے، گالیاں، واک آئوٹ، کورم ہر وقت نامکمل! ستم یہ کہ تنخواہوں میں یہ اضافہ تو نمائشی ہے، قائمہ کمیٹیوں کے نام نہاد اجلاسوں، اور تنخواہ کے علاوہ اسمبلی کے روزانہ اجلاسوں میں حاضری کا کروڑوں معاوضہ، کروڑوں کا علاج معالجہ الگ! اِنا للہ واِنا الیہ راجعون!
٭وزیرخزانہ اسد عمر نے بلاول زرداری سے پوچھا کہ وہ نام کے ساتھ بھٹو کیوں لکھتا ہے، صرف زرداری لکھنے میں شرم کیوں محسوس ہوتی ہے؟ اس پر شعلے بھڑک اٹھے۔ بلاول نے سندھ اسمبلی کے اندر پریس کانفرنس میں ’’غضب ناک‘‘ قسم کے حملے کر دیئے …’’سپیکر کی گرفتاری سندھ پر حملہ ہے …کالعدم تحریکوں سے تعلق رکھنے والے وزرا، اسد عمر، شیخ رشید اور شہر یار آفریدی کو برطرف کیا جائے … جیل بھرو تحریک چلے گی… مجھے سیاسی انجینئرنگ کے لئے جعلی اکائونٹس میں گھسیٹا جا رہا ہے۔ ہم خود نیب کے خلاف کارروائی کریں گے وغیرہ وغیرہ! بلاول کی باتو ںکا جواب تو تحریک انصاف والے دیں، نہ دیں، یہ ان کا مسئلہ ہے میں ان معاملات کے کچھ دوسرے اہم پہلوئوں پر بات کر رہا ہوں۔ بات یہ ہے کہ نیب کے اعلان کے مطابق جعلی اکائونٹس کے ذریعے 35 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کے سلسلے میں سات بڑے ناموں کے خلاف تحقیقات مکمل ہو گئی ہے اور ان کے ریفرنس تیار ہوگئے ہیں جو بہت جلد احتساب عدالتوں میں پیش کئے جا رہے ہیں۔ ان میں آصف زرداری، بلاول زرداری وزیراعلیٰ مراد علی شاہ اور دوسرے افراد کے نام بھی شامل ہیں۔ان لوگوں کو بار بار عدالت میں پیش ہونا پڑے گا۔ گزشتہ روز ایک خبر میں بتایا گیا تھا کہ سندھ کے سرکاری بنک پر دبائوڈال کر29 جعلی اکائونٹس والے اومنی گروپ کو 24 ارب روپے دلائے گئے، یہ رقم باہر چلی گئی۔ آصف زرداری اور بہن فریال تالپور کے اثاثوں وغیرہ کی تحقیقات اور ضمانتوںکا الگ معاملہ ہے۔ ان باتوں سے زرداری خاندان اور دوسرے متعلقہ لوگ شدید پریشان ہیں۔ آصف زرداری اور فریال کے باہر جانے پر پابندی لگ چکی ہے اس سے شارجہ میں قائم زرداری فارم ہائوس سے بیرونی ملکوںکے کاروبارکی دیکھ بھال میں سخت مشکلات پیش آرہی ہیں۔ بلاول کو باہر آنے جانے کی اجازت ہے مگر وہ پیپلزپارٹی کے امور سے ہی نہیں نکل رہا۔ نیب کے کیسوں میں کسی سزا کا نتیجہ یہ ہو گا کہ باپ بیٹے کی اسمبلی کی رکنیت بھی ختم ہو جائے گی۔ پیپلزپارٹی ویسے ہی بری طرح نڈھال اور صرف سندھ تک محدود ہو چکی ہے۔ پختونخوا، بلوچستان اور پنجاب اسمبلیوں میں اس کا وجود برائے نام رہ گیا ہے۔ آصف زرداری نے فوج کے خلاف بڑھکیں ماریں، ہوش آیا تو معافی تلافی اور ہر قسم کے تعاون پر اتر آئے۔ مگر فوج کے لئے ان بڑھکوں کے زیادہ اشتعال انگیز بات یہ تھی کہ صدر کے طور پر آصف زرداری کے منظور نظر فرنٹ مین حسین حقانی نے امریکی وزارت دفاع کو ایک مراسلہ بھیجا تھا (میمو کیس) کہ امریکی فوج پاکستان کی افواج کا کنٹرول سنبھال کر انہیں مفلوج کر دیں۔ اس عمل کے ساتھ امریکہ پاکستان کی ایٹمی تنصیبات پربھی کنٹرول کر سکتا تھا۔ دوسری طرف پاکستان پر بھارت کو فوجی بالادستی حاصل ہوجاتی۔ یہ نہائت خطرناک اور پاکستان سے کھلی دشمنی کا منصوبہ تھا۔ حسین حقانی امریکہ میںپاکستان کے سفیر کے طور پر سینکڑوں مسلح امریکی کمانڈوز کو ویزے دے کر پاکستان میں داخل کر چکا تھا۔ (ایک رات میں 400 ویزے)۔ اس کا یہ مراسلہ کسی طرح افشا ہو گیا تو اس نے موقف احتیار کیا کہ اس نے امریکہ بھیجنے سے پہلے یہ مراسلہ آصف زرداری کو دکھایا تھا بلکہ یہ کہ آصف زرداری کے کہنے پر ہی اسے لکھا تھا۔ اس سے پوزیشن خراب ہوتی دیکھی تو پیپلزپارٹی نے حسین حقانی کو غدار قرار دے کر جان چھڑا لی (سید خورشید شاہ اور قمرالزمان کائرہ کے بیانات) ظاہر ہے فوج ان معاملات کوکیسے فراموش کر سکتی ہے؟ مسلح افواج کا تو پہلا اور آخری فرض ہی ملک کی سلامتی کا تحفظ ہے، وہ اس کے خلاف ایسی سازشوں کو کس طرح نظر انداز کر سکتی ہے۔ یہ عمل صریح ملک دشمنی اور غداری کا ارتکاب ہے۔ اسے کوئی عام پاکستانی بھی برداشت نہیں کر سکتا۔
O بلاول اور اسد عمر ایک دوسرے سے نمٹتے پھریں۔ جس نوازشریف کے بارے میں بلاول نے سرعام کہا کہ ’’میاں صاحب! آپ کو جیل جانا ہو گا‘‘ وہ میاں صاحب واقعی جیل چلے گئے تو بلاول ان سے ہمدردی اور یک جہتی کے اظہار کیے لئے جیل میں چلا گیا اور پھر بیان دیا کہ تین بار وزیراعظم رہنے والے کو جیل بھیجنا افسوسناک ہے۔ یہ تین بار وزیراعظم کی گردان ن لیگ بھی بار بار کر رہی ہے! میں کوئی نام نہیں لیتا مگر کیا انتہائی سنگین جرائم میں ملوث سزا یافتہ شحص کے خلاف اس لئے کوئی کارروائی نہیں ہو سکتی کہ وہ تین بار بلکہ 30 بار وزیراعظم رہ چکا ہے۔ ملائیشیا کے سابق دوبار وزیراعظم عبدالرزاق، انڈونیشیا کے 30 سال تک صدر سوہارتو، عراق کے 28 سال تک صدر صدام حسین اور ایسے دوسرے افرادکا طویل اقتدار کے باوجود کیا انجام ہوا؟ بات کچھ زیادہ لمبی ہو گئی مگر جس وحشیانہ انداز میں وحشی مگر مچھوں اور خونخوار چمگادڑوں نے میرے، آپ کے عظیم وطن کو لوٹا، نوچا کھسوٹا، باہر کھربوں کی جائیدادیں بنائیں اور ملک کی حکمرانی پر بھی قابض رہے، ان کے کالے کرتوتوں کا حساب شروع ہوا ہے تو بلبلانے لگے ہیں!’’ نیب کو ختم کر دو، احتساب بند کرو‘‘ کی چیخیں بلند ہو رہی ہیں اور عالم یہ ہے کہ صوبائی اسمبلی کے سپیکرکو مبینہ بدعنوانی کے جرم میںگرفتار کیا گیا ہے تو اس کا خاندان نیب کو صفائی دینے کی بجائے ملک سے ہی بھاگ گیا! ہاتھ صاف ہیں تو ملک سے فرار کیوں؟
٭محکمہ ایکسائز لاہور: ایک شہری کے نام پر 34770 گاڑیاں رجسٹر کر دیں۔ وہ شہری پوچھتا پھر رہا ہے کہ گاڑیاں کہاں ہیں؟
٭ایس ایم ایس: وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران ہماری مارکیٹ بھی گولہ باری کی زد میں آ کر تباہ ہو گئی۔ ہم لوگ سخت پریشان اور مقروض ہو گئے ہیں۔ گورنر پختونخوا، وزیراعلیٰ کے علاوہ اسلام آباد کئی بار جا چکے ہیں۔ مرکزی وزراء بھی وزیرستان آ کر ہمارے نقصانات کے ازالہ کا یقین دلا چکے ہیں مگر کوئی عمل نہیں ہوا۔ ہماری اپیل اعلیٰ حکام تک پہنچا دیں ہمارے نقصان کا ازالہ کیا جائے۔ مطیع اللہ و دوسرے تاجران شمالی  وزیرستان۔

تازہ ترین خبریں