08:58 am
حضرت شیخ احمدفاروقی المعروف مجدد الفؒ ثانی اور ان کی جدوجہد

حضرت شیخ احمدفاروقی المعروف مجدد الفؒ ثانی اور ان کی جدوجہد

08:58 am

(گزشتہ سےپیوستہ)
حضرت مجدد الف ثانی کے کام کا سب سے بڑا ذخیرہ ان کے مکتوبات ہیں۔ مجدد الفؒ ثانی نے جہانگیر بادشاہ کے جو بڑے بڑے معاون تھے، درباری تھے، حکمران تھے، سردار تھے، جرنیل تھے، ان سے خط و کتابت کے ذریعے شخصی رابطے کیے۔ لابنگ اور بریفنگ کے ذریعے اپنے موقف پر ان کی حمایت حاصل کی۔ اور آج کا بڑا ہتھیار بھی یہی ہے۔ بریفنگ کرنا اور لابنگ کرنا، مقابلے پر آئے بغیر، کوئی محاذ گرم کیے بغیر، ساتھ مل جل کر ذہن سازی کرنا اور اصلاح کرنا ۔ چنانچہ بجائے اس کے کہ عوام میں جلسے کریں، لوگوں کو حکمرانوں کے خلاف اکسائیں اور بغاوت کا ماحول پیدا کریں، انہوں نے سرداروں کو مخاطب کیا اور ان سے بات چیت کی۔ بلکہ جہانگیر کے اپنے مصاحبین میں ساڑھے تین سال تک رہ کر ایک ایک کی ذہن سازی کی۔ حتی کہ ان کی اس محنت کا ثمرہ یہ نکلا کہ خود جہانگیر نے اپنے باپ کے دین سے دستبرداری اختیار کی اور دین اسلام کے اصل
عقائد کی طرف واپس لوٹ آیا۔
حضرت مجدد الفؒ ثانی کی جدوجہد کی ایک خاص بات جو ذکر کی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ گوالیار کے قلعے میں قید رہے۔ اگرچہ اس کا ظاہری سبب یہی تھا کہ انہوں نے جہانگیر کے دربار میں سجدہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ جہانگیر کے دربار کا یہ پروٹوکول تھا کہ جو آتا تھا پہلے سجدہ کرتا تھا۔ اس کے علاوہ کچھ اور الزامات بھی تھے، مجدد الفؒ ثانی کو گرفتار کر کے گوالیار کے قلعے میں بند کر دیا گیا۔ جہانگیر نے اپنی تزک جہانگیری میں اس کا ذکر کیا ہے۔ ابتدا میں تو ذکر اِس طرح ہے کہ کوئی دھوکے باز پیر تھا جسے میں نے پکڑ کر قید کر دیا۔ دو چار جملے اس طرح کے ذکر ہیں۔ لیکن حضرت مجدد الف ثانی نے صبر و حوصلے اور تحمل کے ساتھ اصلاح کا طریقہ اختیار کیا۔ بلکہ ایک روایت ہے جسے بعض مو رخین صحیح تسلیم نہیں کرتے، وہ یہ کہ جب مجدد الفؒ ثانی گوالیار کے قلعے میں بند تھے تو خانِ خاناں جو مجدد الفؒ ثانی کا مرید تھا اور جہانگیر کا وزیر اعظم تھا، اس نے مجدد الفؒ ثانی کو پیشکش کی کہ اگر اجازت ہو تو مارشل لا لگا دوں۔ یعنی آپ کو جہانگیر کی جگہ پر لے آئوں اور جہانگیر کو آپ کی جگہ پر لے جائوں۔ تو مجدد الفؒ ثانی نے انکار کر دیا کہ فقیر اقتدار کی ہوس نہیں رکھتا یہ تو بس ان کی اصلاح چاہتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اسی بات کا اثر جہانگیر پر ہوا۔
چنانچہ مجدد الفؒ ثانی کی جدوجہد کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ جہانگیر کے دور میں ہی اکبر کا دین الٰہی سرکاری قوت کے ساتھ ختم ہوگیا اور جہانگیر اپنے ماضی پر اور بزرگوں کے عقائد اور طرز عمل پر واپس پلٹ گیا۔ چنانچہ حضرت مولانا محمد اجمل خان ایک قصہ سنایا کرتے تھے کہ جب ملا نور اللہ شوستری جو جہانگیر بادشاہ کے دربار کا ایک بڑا درباری عالم تھا، اس نے کتاب لکھی جس میں اس نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اہانت کی۔ اِس بات پر جہانگیر کے دربار میں ملا نور اللہ شوستری پر مقدمہ چلا اور اسے موت کی سزا دے دی گئی۔ حضرت عمرؓ کی شان میں گستاخی پر اسے جہانگیر بادشاہ نے موت کی سزا سنا دی تھی۔ جبکہ ملکہ نورجہاں  پردے کے پیچھے بیٹھا کرتی تھی۔ کہتے ہیں جہانگیر کے پاں کے ایک انگوٹھے میں ڈوری بندھی ہوتی تھی جس کا سرا پردے کے پیچھے ملکہ نور جہاں کے پاس ہوتا تھا۔ وہ جہانگیر کے کسی فیصلے پر اپنی رائے ظاہر کرنے کے لیے پردے کے پیچھے سے وہ ڈوری ہلایا کرتی تھی۔ 
یہ ایک تاریخی روایت ہے، واللہ اعلم کتنی درست ہے۔ ملکہ نور جہاں کے ڈوری ہلانے پر جہانگیر اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرتا تھا۔ جب جہانگیر ملا شوستری کے بارے میں فیصلہ کرنے لگا تو ملکہ نور جہاں نے پیچھے سے ڈوری ہلائی تو جہانگیر پیچھے مڑ کر کہتا ہے  جاناں ترا جاں دادہ ام ایمان نہ دادہ ام۔ یعنی میری محبوبہ میں نے جان تیرے حوالے کی ہے، ایمان تیرے حوالے نہیں کیا۔ چنانچہ جہانگیر اصل اِسلام کی طرف واپس پلٹ گیا۔ اس کے بعد مجدد الفؒ ثانی جہانگیر کے ساتھ رہے۔ اس نے مجدد الفؒ ثانی کو اصلاح کے لیے اپنے ساتھ رکھا کہ میرے درباریوں کی اصلاح کرتے رہیں۔ اس طرح حضرت مجدد الف ثانی کی محنت کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ اکبر کا وہ دین الہی اس کے بیٹے کے دور ہی میں ختم ہوگیا۔
حضرت مجدد الف ثانی کی جدوجہد کا ایک نتیجہ اور نکلا جو کہ ان کی تحریک کا ایک تسلسل تھا۔ کہتے ہیں کہ مجدد الفؒ ثانی نے مغلیہ خاندان پر بہت محنت کی، وہ تو اس خاندان میں گھس ہی گئے۔ انہوں نے یہ دیکھ لیا کہ حکومت تو مغلوں نے ہی کرنی ہے یہی بادشاہ ہوں گے یہی وزیر ہوں گے۔ اس لیے بجائے اس کے کہ ان کے ساتھ ٹکرا کی فضا قائم کی جائے بہتر یہ ہے کہ ان پر محنت کر کے ان کو راہ راست پر لایا جائے۔ چنانچہ اسی محنت کے نتیجے میں اورنگ زیب عالمگیر بھی سامنے آیا۔ اسے بھی مرخین حضرت مجدد الفؒ ثانی کی تحریک کے ثمرات میں شمار کرتے ہیں۔
چنانچہ دین الٰہی کے خاتمے کے بعد مجدد الفؒ ثانی کی تحریک کا دوسرا بڑا پھل یہ تھا کہ بات چلتے چلتے اورنگزیب عالمگیر جیسے صحیح العقیدہ مغلیہ بادشاہ پر آگئی۔ ورنہ متحدہ ہندوستان میں ماضی کا تسلسل یہ رہا ہے کہ یہاں مغلوں اور پٹھانوں میں کشمکش رہی ہے۔ محمود غزنوی اور شیر شاہ سوری وغیرہ سب پٹھان تھے۔ آج کے دور میں اس کی مثال ایسے سمجھ لیں کہ مغل جو تھے وہ سب شمالی اتحاد تھے اور پٹھان جو تھے وہ سب طالبان تھے۔ مغل نیم لبرل تھے، جبکہ پٹھان خالص مذہبی اور خالص سنی تھے۔ مغل مذہبی اعتبار سے نیم لبرل تھے وہ مذہب کو مانتے بھی تھے۔
(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں