09:17 am
حضرت شیخ احمدفاروقی المعروف مجدد الفؒ ثانی اور ان کی جدوجہد

حضرت شیخ احمدفاروقی المعروف مجدد الفؒ ثانی اور ان کی جدوجہد

09:17 am

(گزشتہ سےپیوستہ)
چنانچہ دین الٰہی کے خاتمے کے بعد مجدد الفؒ ثانی کی تحریک کا دوسرا بڑا پھل یہ تھا کہ بات چلتے چلتے اورنگزیب عالمگیر جیسے صحیح العقیدہ مغلیہ بادشاہ پر آگئی۔ ورنہ متحدہ ہندوستان میں ماضی کا تسلسل یہ رہا ہے کہ یہاں مغلوں اور پٹھانوں میں کشمکش رہی ہے۔ محمود غزنوی اور شیر شاہ سوری وغیرہ سب پٹھان تھے۔ آج کے دور میں اس کی مثال ایسے سمجھ لیں کہ مغل جو تھے وہ سب شمالی اتحاد تھے اور پٹھان جو تھے وہ سب طالبان تھے۔ مغل نیم لبرل تھے، جبکہ پٹھان خالص مذہبی اور خالص سنی تھے۔ مغل مذہبی اعتبار سے نیم لبرل تھے وہ مذہب کو مانتے بھی تھے۔
 
 اس پر عمل بھی کرتے تھے لیکن رواداری اور دنیا داری وغیرہ بھی ساتھ نبھاتے تھے۔ جبکہ شیر شاہ سوری اور محمود غزنوی وغیرہ پکے سنی تھے۔ پٹھانوں کی جتنی لڑی بھی آئی، مضبوط مذہبی اور سنی لوگوں کی آئی۔ جبکہ مغلوں کی جتنی لڑی بھی آئی وہ نیم لبرل تھی اور شیعہ فکر سے متاثر تھی۔ اسی لیے مغلوں میں اورنگزیب عالمگیر کا پیدا ہونا تاریخ کا عجوبہ کہلاتا ہے کہ مغلوں میں طالبان صفت بادشاہ کہاں سے آیا۔ اور یہ بھی تاریخ کا ایک عجوبہ ہے کہ اورنگزیب جیسے متصلب سنی حکمران کے بعد اس کے جانشین بیٹے بہادر شاہ اول نے باقاعدہ شیعہ مذہب اختیار کر لیا اور جمع المبارک کے خطبات میں خلفا ثلاثہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ، حضرت عمر فاروقؓ اور حضرت عثمانؓ غنی کا ذکر ممنوع قرار دے دیا جس پر بڑے ہنگامے ہوئے اور لاہور کے عوام نے قلعہ کا باقاعدہ محاصرہ کر لیا۔
میں یہ کہا کرتا ہوں کہ یہ کشمکش بڑی پرانی ہے، اس دور میں بھی یہی لڑائیاں تھیں۔ حیرانگی کی بات یہ تھی یہ پکا مذہبی اور سنی بادشاہ اورنگزیب مغلوں میں کیسے پیدا ہوگیا۔ مورخین کہتے ہیں کہ یہ حضرت مجدد الف ثانی  کی جدوجہد کے اثرات تھے۔ یہ ان کی محنت کا ثمرہ تھا کہ مغلوں میں اورنگزیب آیا اور پچاس سال تک اس نے یہاں مذہبی طرز پر حکومت کی۔ فتاویٰ عالمگیری بھی اس نے مرتب کروایا اور دیگر بہت سی مذہبی روایات بحال کیں جو تاریخ کا ایک حصہ ہیں۔ چنانچہ حضرت مجدد الف ثانی نے مزاحمت کا راستہ اختیار کیے بغیر ذہن سازی اور لابنگ سے جو خاموش محنت کی اس کے دو بڑے ثمرات مورخین ذکر کرتے ہیں۔ ایک جہانگیر کے دور میں اصل دینی عقائد کی طرف واپسی اور دوسرا اورنگزیب عالمگیر کی صورت میں مغلوں کا ایک خالص سنی مذہبی حکمران دنیا نے دیکھا جس نے پچاس سال تک حکومت کی۔
ایک بات قابل ذکر یہ ہے کہ جب بادشاہ حکومت کرتے ہیں تو اچھے کام بھی کرتے ہیں اور برے بھی۔ کسی بادشاہ کے فرشتہ ہونے کا تصور رکھنا ٹھیک نہیں ہے۔ اسی طرح اورنگزیب کے بارے میں بھی ابن انشا نے اپنی تصنیف اردو کی آخری کتاب میں ایک بات لطیفہ کے طور پر لکھی ہے۔ ابن انشا نے مزاح کے لہجے میں لکھا ہے کہ اورنگ زیب ایک اچھا حکمران اور اچھا بادشاہ تھا۔ وہ دین و دنیا دونوں کا یکساں لحاظ رکھتا تھا، اس لیے اس نے زندگی میں کوئی نماز قضا نہیں کی اور کسی بھائی کو زندہ نہیں چھوڑا۔ مطلب یہ کہ کوئی بھائی زندہ ہوگا تو بادشاہت میں دخل اندازی کرے گا۔ بہرحال اورنگزیب کے بہت کارنامے ہیں جن میں فتاویٰ عالمگیری، حنفی فقہ کی تجدیدِ نو اور زمانے کے اعتبار سے اس کی تشکیلِ نو وغیرہ شامل ہیں۔
تاریخ اورنگزیب کی جس بات پر سب سے زیادہ اعتراض کرتی ہے وہ یہ ہے کہ اورنگزیب خود تو ٹھیک ٹھاک کام کرتا رہا لیکن بیٹوں میں سے کسی کی تربیت نہیں کی کہ اس کے کام کو آگے بڑھا سکیں۔ چنانچہ یہ بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ اورنگزیب کے بعد جب اس کا بیٹا بہادر شاہ اول برسر اِقتدار آیا تو وہ شیعہ ہوگیا تھا اور جمعے کے خطبے سے خلفا ثلاثہ کے نام سب سے پہلے اس نے نکلوائے کہ میرے دور میں خلفا کا نام کوئی نہیں لے گا۔ اِس پر لاہور وغیرہ کے علاقوں میں بہت ہنگامے ہوئے اور احتجاج ہوا، خیر میں اس کی تفصیل میں نہیں جاتا۔میں ذکر کر رہا تھا کہ حضرت مجدد الفؓ ثانی کا زمانہ گیارہویں صدی کا دور ہے۔ دس صدیاں گزر چکی تھیں اور گیارہویں صدی کا آغاز تھا جب حضرت مجدد الف ثانی نے دین کے مختلف شعبوں میں خدمات سر انجام دیں۔ ان میں سے تین بڑی خدمات میں نے عرض کی ہیں۔
ایک یہ کہ تصوف کی اصلاح و تجدید۔ تصوف اور صوفیا کرام کے ماحول میں شریعت سے ہٹ کر جو باتیں شامل ہوگئی تھیں ان کی چھانٹی کی، یہ ان کا ایک بڑا کارنامہ ہے۔ انہوں نے تصوف کو اس کے اصل اسلامی رنگ میں پیش کیا۔
دوسرا کام انہوں نے یہ کیا کہ اہل سنت کے عقائد اور روایات کا تحفظ کیا، ان کو جو خطرات پیش تھے ان کا مقابلہ کیا۔ علمی و عوامی دنیا میں یہ حضرت مجدد الفؒ ثانی کا ایک بہت بڑا کارنامہ ہے۔ حضرات صحابہؒ کرام کا دفاع ، ان کی تعظیم، ان کے دینی مقام کی وضاحت اور اہل سنت کے عقائد کی تشریح وغیرہ۔ یہ اس دور کا ایک بڑا محاذ تھا۔ اس سلسلے میں حضرت مجدد الف ثانی کے کام کا ایک بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے۔
تیسرے نمبر پر مغل بادشاہ اکبر نے جو ایک نیا رجحان دیا تھا کہ دین میں تشکیلِ نو بھی ہو سکتی ہے اور اس کا نیا ڈھانچہ بھی بن سکتا ہے اور اس نے دین الہٰی کے نام سے ایک نیا دین بنا کر رائج بھی کر دیا۔ اس دین میں سورج کی پوجا بھی جائز تھی اور اللہ کی عبادت بھی۔ شراب، سود اور زنا بھی جائز تھے۔ ان کے علاوہ دیگر بہت سی باتیں شامل تھیں جن کی تفصیل کے لیے میں نے دو کتابوں کا حوالہ دیا ہے۔ چنانچہ اس پر مجدد الفؒ ثانی نے بڑی حکمت عملی کے ساتھ، بڑے حوصلے کے ساتھ اور بڑی محنت کے ساتھ علمی و فکری میدان میں کام کیا یہاں تک کہ صورت حال کو بالکل پلٹ دیا۔ یعنی جہانگیر کے دور میں ریورس گیئر لگا جبکہ اورنگزیب عالمگیر کے دور تک جاتے جاتے صورتحال بالکل الٹ ہوگئی تھی۔ اور مورخین اس ساری جدوجہد کو علمی و فکری طور پر حضرت مجدد الف ثانی کا بڑا کارنامہ سمجھتے ہیں۔
یہ میں نے حضرت مجدد الفؒ ثانی کا ایک تعارفی تذکرہ آپ کے سامنے پیش کیا ہے۔ ہم جب اپنی فکری جدوجہد کا ذکر کرتے ہیں تو مجددی ولی اللہ  کے نام سے کرتے ہیں۔ ہماری فکری جدوجہد کے پہلے مرحلے کا آغاز حضرت مجدد الفؒ ثانی سے ہوتا ہے، اس کا دوسرا مرحلہ حضرت شاہ ولی اللہ کے دور کا ہے، جبکہ تیسرا مرحلہ علمائے دیوبند ہیں جو حضرت مہاجر مکی سے شروع ہوتا ہے۔
اللہ تبارک وتعالی حضرت مجدد الفؒ ثانی کے درجات بلند سے بلند تر فرمائے اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

تازہ ترین خبریں