09:57 am
 رسول اکرمﷺ کے موئے مبارک کی زیارت

رسول اکرمﷺ کے موئے مبارک کی زیارت

09:57 am

17 مارچ اتوار کو خانقاہ سراجیہ شریف کندیاں شریف کی سالانہ تقریب ختم بخاری شریف میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی۔ میرے عزیز بھتیجے حافظ نصر الدین خان عمر کے علاوہ مولانا قاری ہدایت اللہ جالندھری، مولانا قاری سمیع الحق، مولانا خالد محمود سرفرازی، مولانا فیصل احمد، مولانا جنید احمد اور قاری محمد عثمان رمضان ہمراہ تھے۔ جبکہ وہاں جاتے ہوئے واں بھچراں میں بھی حاضری ہوئی اور رئیس الموحدین حضرت مولانا حسین علی قدس اللہ سرہ العزیز کی قبر پر فاتحہ خوانی کے علاوہ ان کے خاندان کے محترم بزرگوں میاں محمد عرفان، میاں محمد نعمان اور میاں محمد عمران سے ملاقات و گفتگو ہوئی اور انہوں نے حسب سابق بے حد شفقت و اکرام کا معاملہ فرمایا۔ 
 
خانقاہ سراجیہ شریف میں حضرت مولانا خواجہ خلیل احمد، حضرت مولانا خواجہ عزیز احمد اور ملک بھر سے آئے ہوئے مختلف بزرگوں سے ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ بہت سے امور پر تبادلہ خیالات کا موقع ملا اور خواجہ صاحب نے سب سے بڑی شفقت یہ فرمائی کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک کی زیارت سے شاد کام کیا جو خانقاہ شریف میں پورے احترام و انتظام کے ساتھ محفوظ ہیں اور ہر سال 26 رمضان المبارک کے دن خانقاہ میں آنے والے حضرات کو ان کی زیارت کرائی جاتی ہے۔ یہ ہمارے لیے بڑی سعادت و برکت کا مرحلہ تھا کہ آقائے نامدارﷺ کے مبارک بالوں کی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔ حضرت خواجہ صاحب نے اس موقع پر اس سند کی زیارت بھی کرائی جوکہ ان مبارک بالوں کے مرحلہ وار منتقل ہونے اور یہاں تک پہنچنے کے بارے میں سابق آئی جی جیل خانہ جات پنجاب سید شفقت اللہ نے تحریر کی اور انہی کے الفاظ میں قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے جو درج ذیل ہے۔ 
حضور نبی کریم رحمت اللعالمین سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک کی نعمت عظمیٰ اس فقیر سید شفقت اللہ شاہ کو اپنے نانا مرحوم و مغفور  حکیم عبد الوہاب   المعروف حکیم نابینا  کی وساطت سے حاصل ہوئی۔ یہ موئے مبارک  ڈاکٹر مختار احمد  کو ان کی جنگ بلقان (ترکی)کی خدمات کے سلسلہ میں  غازی انور پاشا سپہ سالار حکومت ترکیہ نے عطا فرمایا۔ غازی انور پاشا  کو یہ موئے مبارک سلطان عبد الحمید خان  کے دور حکومت میں مسجد نبویؐ کی توسیع کے وقت مدینہ پاک کے تبرکات میں سے عطا ہوا تھا۔ ڈاکٹر انصاری ، حکیم اجمل خان  ،  محمد علی جوہر تحریک خلافت کے ساتھیوں میں سے ہیں۔ یہ موئے مبارک بعد ازاں  ڈاکٹر انصاری  نے حکیم نابینا  کو عطا فرما دیا تھا اور حکیم نابینا نے اپنی صاحبزادیوں کی قسمت میں جس طرح افزائش موئے مبارک سے حصہ نکلتا رہا عطا فرماتے رہے۔ چنانچہ امی حضور  کو بھی اس موئے مبارک کے افزائش کا حصہ عطا ہوا۔ 
پاکستان بننے کے بعد فقیر محکمہ کسٹم میں لاہور تعینات ہوا تو محمد ظہور الدین  سے جو کسٹم میں ملازم تھے رابطہ ہوا۔ سرکاری واقفیت اللہ واسطے کی محبت میں بدل گئی۔ موصوف کو جب موئے مبارک کا پتہ چلا تو انہوں نے درخواست کی اس نعمت عظمیٰ کا حصہ امی حضور سے ان کو بھی عطا فرمایا جائے تو فقیر نے انکار کر دیا۔ اس وجہ سے کہ یہ عظیم نعمت فقیر کے خاندان سے باہر کسی کو نہیں دی گئی تھی اور نہ دی جاتی ہے۔ لہٰذا وقت گزرتا گیا محمد ظہور الدین  کی شدت طلب رنگ لائی اور دریائے رحمت جوش میں آگیا اور اسی دوران امی حضور کو حیدر آباد(دکن)میں بشارت ہوئی اور نبی کریم رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ آپ کے موئے مبارک کی افزائش سے میسر حصہ ظہور الدین کو دے دیا جائے۔ ادھر ظہور الدین کو بھی بذریعہ بشارت آگاہ کر دیا گیا تھا۔ چنانچہ فقیر جب ستمبر 1956 میں حیدرآباد دکن رخصت پر گیا تو امی حضور نے فرمایا کہ ظہور الدین  کی قسمت میں یہ نعمت عظمیٰ عطا ہوگئی ہے لہذا یہ امانت ان کو لاہور جا کر دے دیں اور ان کی طرف سے مبارک بھی پیش کریں۔ حیدرآباد سے واپسی پر اس عظیم ترین نعمت کو ظہور الدین کے سپرد کر دیا گیا۔ 
حضور نبی کریم رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے اس جسم مبارک کے حصہ مبارک کا یہ زندہ جاوید معجزہ ہے کہ اس میں افزائش ہوتی ہے، چنانچہ ظہور الدین  کے یہاں بھی کئی دفعہ زیارت پر اس کی افزائش دیکھی گئی۔ یہ چند سطور بطور یادداشت اور سند کے تحریر میں لائے جا رہے ہیں۔

تازہ ترین خبریں