08:32 am
ایک سہانا خواب جو منتظر تعبیر ہے 

ایک سہانا خواب جو منتظر تعبیر ہے 

08:32 am

   یوں تو ہم جیسے ترقی پذیر ممالک میں سیاست نام ہی خوابوں کی مارکیٹنگ کا ہے اچھے دنوں کے خواب آنکھوں میں سجائے بے کس اورمجبور لوگ ہر طرح کے سنہرے خواب خرید لیتے ہیں اور آئندہ پانچ سالوں تک ان کی تعبیر کے منتظر رہتے ہیں۔ عمران خان اگرچہ گذشتہ 22 سال سے سیاست میں ہیں مگرا س بار ان کی مارکیٹنگ کامیاب رہی اور نیا پاکستان ۔ دو نہیں ایک پاکستان
 
۔ ہم سب کا پاکستان کامیاب ہوا اور رعایا اس خواب کی تعبیر پانے کے لیے ایک ایک دن گننے لگی گویا ابھی خوشحالی ان کے شکستہ گھروں کے دروازوں پر دستک دے گی اور انہیں سابقہ ادوار کی محرومیوں سے نجات مل جائے گی عمران خان کا امیج ایک مسیحا کا امیج تھا کہ محروم طبقے یہ سمجھتے تھے کہ وہ غربت ، بدحالی ، مہنگائی، بے انصافی ، بے روزگاری کے عفریت کے چنگل سے انہیں نجات دلائے گا۔ سب کو ساتھ لیکر چلے گا ۔ نئے پاکستان میں یقین محکم ۔ اتحاد اور عمل پہم کی فضا ہوگی ۔ اور سب مل کر نئے پاکستان میں امن استحکام اور خوشحالی لائیں گے۔ پہلے سو دن کا کہا گیا کہ ایک سمت کا تعین ہو جائیگا اب تو آٹھ ماہ ہونے کو ہیں اس دوران دو غیر معمولی بجٹ بھی آئے مگر حالات ہیں کہ سنبھالے نہیں سنبھل رہے ۔ اب تو ایشین بینک نے بھی اپنی رپورٹ میں کہہ دیا کہ معیشت کی شرح نمو2019 میں خطے کی کم ترین اعشاریہ نو فیصد ہے جبکہ 2020 میں پاکستانی معیشت کی شرح نمو کم ہو کر6.3 رہ جائیگی ۔ مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔ابھی بھی مہنگائی 9 فیصد تک پہنچ چکی ہے ۔ اسد عمر کہتے ہیں ہمارے پاس دوآپشن ہیں یا دیوالیہ ہوجائیں یا آئی ایم ایف پروگرام لے لیں ۔ یہ فیصلہ تو ابتدا میں ہی کرنا تھا جب اقتدار میں آتے ہی کہا گیا کہ ملکی خزانہ خالی ہے تذبذب میں 8 ماہ گزار دئیے ۔ا نہیں بخوبی اندازہ توہوگا کہ ملکی سرحدوں پر کیا صورت حال ہے کیااس معیشت کے ساتھ وہ ریاست کے دفاع کی ذمہ داریاں نبھا پائیں گے ؟ ٹیکس کلیکشن مختلف حربوں کے باوجود نہیں بڑھ رہی ۔ لیکن کیا کسی نے کبھی یہ تجزیہ کیا کہ اس کی وجہ کیا ہے ؟ ہر محب وطن پاکستانی ٹیکس دینا چاہتا ہے مگرایک بار ٹیکس نیٹ میں آجانے کے بعد جب اس کی سکرونٹی شروع کی جاتی ہے اس سے کاروباری طبقہ پریشان ہے ۔ اب حکومت ایک نئی ٹیکس ایمنسٹی سکیم لانے پرغور کر رہی ہے مگر شاید اس پرغور نہیںکیا گیا کہ سابقہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھانے والے کے ساتھ ایف بی آر ا ور نیب نے جو سلوک کیا اس کے بعد کیا نئی سکیم کامیاب ہو پائے گی ۔ بدقسمتی سے حکومتوںکی پالیسیاں عوام کا ریاست پر اعتماد کمزور کرتی رہی ہیں۔ ریاست ماں کے جیسی ہوتی ہے جو اپنے بچوں سے پیار کرتی ہے اور ان کا بھروسہ ہوتی ہے ۔ مگر جب حکومت اپنا اقتدار بچانے کے لیے اس بھروسے کو کمزور کرتی ہیں تو نقصان ریاست کا ہوتا ہے ۔ سیاستدان جمہوریت بچاتے بچاتے ریاست کو کمزور کرتے چلے جا رہے ہیں۔ 
     کرپشن بلاشبہ ایک ناسور اسکا خاتمہ ہونا ضروری ہے مگر جس طریقے سے ہر میٹنگ۔ بریفنگ میں نہیں چھوڑیں گے کی رٹ لگانے کے ساتھ سرمایہ کاری کی دعوت دی جاتی ہے تو اس پر اعتماد کرنے کو کوئی تیار نہیںہوتا۔
     کبھی حکومت نے یہ سروے کیا کہ ریاست کے بچوں کو روزگار دینے والی اور پیداوار بڑھانے والی صنعتیں کیوں بند ہو رہی ہیں۔ سرمایہ کار بیرون ملک کیوں سرمایہ لے جا رہے ہیں ۔ ڈالر کیوں اتنی اونچی اڑان بھر رہاہے۔ سونا کیوں پچاس ہزار روپے تولہ سے 72 ہزار فی تولہ پر چلا گیا ۔ گیس کی ٹیرف کیوں 143 فیصد بڑھائی گئی بجلی کیوں اتنی بڑی شرح سے بڑھائی گئی ۔ کیا جناب اسدعمر صاحب کا یہ کہنا کہ ابھی تو مہنگائی اور بڑھے گی اور عوام کی چیخیں نکلیں گی ۔ تو کیا وہ چیخیں سننے کے لیے منتظر ہیں ۔ کیا ریاست یہ سب برداشت کرلے گی کہ اس کے بچے روتے رہیں ۔
      ہائوسنگ سیکٹر بڑی تیزی سے بڑھ رہا تھا مگر وہ بھی اب ترقی معکوس کی جانب رواں دواں ہے ۔ سیمنٹ کی قیمتیں آسمان سے چھونے لگیں۔ لاکھوں مزدوراور کاریگر بیکار بیٹھے ہیں۔ جہاں اتنے غیر منتخب ماہرین کاروبارمملکت میں ہاتھ بٹا رہے ہیں ملک ریاض کو بھی اگر ہائوسنگ سیکٹر کے فروغ کے لیے اپنی نگرانی میں کوئی ذمہ داری دے دیں تو شاید یہ سیکٹر بھی ملکی معیشت میں اہم رول پلے کر سکے گا۔ 
     سی پیک کے بارے میں افواہیں چل رہی ہیں جو یقینا بے بنیاد ہیں اگر سی پیک روٹ پراکنامک زونز پر ہی کام شروع کردیا جائے تو ملک کے چھوٹے بڑے سرمایہ کار چینی سرمایہ کاروں کی شراکت سے ملکی معیشت کی بحالی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ معیشت بحال ہوگی تو ریاست مضبوط ہوگی ۔ ریاست خوشحال ہوگی تو لوگ خوشحال ہوں گے ایک پرانی کہاوت ہے کہ جس گھر میں ہمہ وقت جھگڑے فتنہ فساد رہتے ہوں اس گھر سے اللہ برکت اٹھا لیتا ہے ا ور بے اتفاقی سے خاندان تباہ ہو جاتے ہیں ۔ بدقسمتی سے ریاست پاکستان میں ہر وقت جھگڑے اور فساد کی فضاء ہے ۔ کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔ ایک بیانیہ بن چکا ہے ۔ اس کا منفی اثر ہو رہاہے۔ سب سرمایہ کار دبک کر(باقی صفحہ نمبر6 بقیہ نمبر4)
 بیٹھ گئے ہیں ۔ کوئی انویسٹمنٹ کرنے کو تیار نہیں۔ سرکاری اداروں میں اہل کار کوئی انی شیٹیو لینے کو تیار نہیں۔ لوگوں کے کام نہیں ہوئے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں ۔ نیب کا خوف چار سُو ہے ۔ مگر بدقسمتی سے بڑے ملزموں کے خلاف تمام کیسوں میں نیب کو عدالتوں میں ناکامی ہو رہی ہے ۔لیکن آئے روز ریفرنس دائر ہو رہے ہیں۔ 90 روز بعد جب عدالتوں میں جاتے ہیں کیس ثابت کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں پھر ضمانتیں ہو جاتی ہیں ۔ پھر ریفرنس کی بنیاد پر سالوں جیل میں رکھا جاتا ہے ۔ میڈیا انڈسٹری کے بعض لوگوں کے خلاف ریفرنس بنے اور جیل میں بند کردیا۔ کام ٹھپ ، میڈیا کا بزنس ختم ہونے لگا تو میڈیا ہائوسز نے ڈائون سائزنگ شروع کردی ۔ بے روزگاری ہو رہی ہے اور ریاست بے بسی سے دیکھ رہی ہے کہ اسے اس قدر بے بس کردیا گیا ہے ۔
    خواب تو یہی دکھایا گیا کہ بس چند ماہ ۔ خوشحالی آجائیگی ۔ بعض بڑے سیاسی لوگوں کے اربوں ڈالر واپس لائیں گے۔ ملک سے جب لوٹ مار بند ہو گی توخوشحالی آئیگی مگر وہ اربوں ڈالر بھی آسکے ۔ خواب تو یہ بھی تھا کہ روزگار ملے گا مگر ابھی تو جو تھا وہ بھی جار ہا ہے ۔انصاف ملے گا ۔ ساھیوال کے قریب مارے جانے والے 5 لوگوں کو انصاف ملا ۔ آج ہم نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کی تعریفیں کررہے ہیں کہ وہ کرائسٹ چرچ میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والوں کے گھروں میں گئیں ان کے غم میں شریک ہوئیں ۔ مگر ساہیوال میںمارے جانے والوں کے گھر تو کوئی وزیر بھی نہ گیا ۔
     وزیراعظم عمران خان بلاشبہ ایک بے لوث رہنما ہیں وہ چاہتے ہیں کہ ملک میں بہتری ہو ۔ انہیں فوجی قیادت کی بھرپور معاونت حاصل ہے مگر کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ وہ ملک میں تعاون کی فضاپیدا کریں ۔ سب کو ساتھ لے کر چلنے کے لیے دست تعاون بڑھائیں اور ایک سمت کا تعین کریں اور پھر اس پر سب مل کر آگے بڑھیں۔ وہ سہانا خواب جو منتظر تعبیر ہے اسے ایک خوشگوار تعبیر دیں ۔ جمہوریت اہم نہیں ریاست اہم ہے ۔ ریاست بچائو ۔ ریاست کو خوشحال کرو۔ عوام کو جمہوریت نہیں ریاست پر یقین ہے۔ 
کالم

تازہ ترین خبریں