08:33 am
مقبوضہ کشمیر پر فرانسیسی فلم‘ محبوبہ مفتی اور ارون  دھنی رائے

مقبوضہ کشمیر پر فرانسیسی فلم‘ محبوبہ مفتی اور ارون  دھنی رائے

08:33 am

بھارتی آئین میں ایک دفعہ 370 ہے ۔ اسی آئینی دفعہ کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے اپنا جابرانہ کردار حاصل کر رکھا ہے۔ گویا یہ وہ پل ہے جسے عبور کرکے بھارت مقبوضہ کشمیر میں داخل اور شامل ہوتا رہا ہے۔ جموں ماضي بعید میں معمولی سا مسلم اکثریتی علاقہ تھا۔ مگر بھارت نے نہرو کے زمانے میں ہی  جموں میں مسلمان اکثریت کو ختم  کرکے وہاں ہندو اکثریت کو طلوع کیا تھا۔ یقینا یہ بھارت کی بڑی کامیابی تھی۔ کانگریسی انداز وہی تھا جو ارض فلسطین میں یہودیوں کے ’’جگہ‘‘ کا حصول‘ زمین کی خریداری‘ عربوں کا دولت کے لئے لالچ اور بالآخر اسرائیل کا قیام اور پھر ریاست اسرائیل سے بھی عربوں کو ثانوی سے تیسری حیثیت تک کا مرحلہ۔ یوں ارض فلسطین پر فلسطینی عربوں کی اکثریت میں تبدیل ہوگئی۔ چونکہ نہرو یعنی کانگرسی کامیابی جموں میں موجود تھی۔ اس کامیابی کی طرح مقبوضہ کشمیر میں بی جے پی کی  اسٹریٹجک کامیابی کے لئے جہاں وزیراعظم مودی نے اپنے گورنر کے ذریعے اور 7لاکھ فوج کے استعمال سے بھی جبر اور ظلم کا بازار گرم کیا ہوا ہے‘ وہاں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرتے راستے بھی ایجاد اور استعمال کئے ہوئے ہیں تاکہ باہر سے ہندوئوں کو لا کر مقبوضہ کشمیر میں  آباد کرکے اس علاقے کو اسرائیل کی طرح ہی حسب خواہش تبدیل کیا جاسکے۔ 
 
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی مظالم پر ایک فرانسیسی دلیر اور انصاف پسند صحافی پاک کومٹی ڈاکو مینٹری فلم بنائی ہے یہ ڈاکومینٹری فلم مقبوضہ کشمیر  کے اندر ہی بنائی گئی ہے جہاں معصوم بچوں‘ عورتوں‘ بوڑھوں پر فوج کی اس ’’ پیلٹ گن‘‘ کے استعمال کو بیان کیا گیا ہے جس سے معصوم چہرے آنکھوں کی بینائی سے محروم ہوتے ہیں۔ فرانسیسی  صحافی پال کومٹی بھی کئی روز تک بھارتی مظالم کا خود بھی شکار ہوا‘ اور نظر بند کیا گیا۔ بالآخر وہ آزاد ہوا پھر ڈاکومینٹری خاموشی سے بنائی اور کشمیریوں پر موجود جبرو ظلم کی کہانی یوں حال ہی میں دنیا کے سامنے پیش ہوئی جبکہ آزادکشمیر میں موجود انسانی و سیاسی حقوق آزادی‘ ترقی‘ تعلیم اور آزادکشمیر کی اپنی حکومت کی موجودگی کی حقیقت  بھی اس فلم میں دکھا کر دونوں اطراف کے کشمیر اور کشمیریوں کی حالت کا تقابل پیش کیا گیا ہے۔ 
بی جے پی کی حکومت دیگر راستوں پر عمل کرتے  کرتے ساتھ ہی آئین سے دفعہ 370کا اخراج کرنے کی بھی طرف گامزن ہے۔ سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ بی جے پی حکومت کے خلاف اس دفعہ کو ختم کرنے کے حوالے سے مخالفانہ بیانات دیتے رہے ہیں۔ انہی کی طرح اب سابق وزیراعلیٰ مقبوضہ کشمیر محبوبہ مفتی بھی جوکہ مفتی سعید مرحوم کی قدآور سیاسی بیٹی ہے نے کہہ دیا ہے کہ اگر دفعہ 370کو ہٹایا گیا تو جموں وکشمیر کا بھارت سے رشتہ خود بخود ختم ہو جائے گا۔ ان کے بقول بھارتی آئین میں موجود یہ دفعہ ہی پل کا کام کرتی ہے اور اسی آئینی دفعہ کے ذریعے ہی اہل کشمیر کو خاص پوزیشن ملی ہوئی ہے۔ اگر یہ دفعہ ہی ختم ہوگئی تو یہ خصوصی پوزیشن بھی خود بخود ختم ہو جائے گی۔
جونہی یہ دفعہ آئین سے بی جے پی حکومت ختم کر دے گی تو کشمیریوں کو دوبارہ سوچنا پڑے گا کہ وہ بھارت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا نہیں؟ گویا محبوبہ مفتی کہہ رہی ہیں جو آپ کرنے جارہے ہیں وہ کر گزریں تاکہ کشمیریوں کے لئے خود کو الگ ریاست یا الحاق پاکستان کے آپشنز پر غور کا راستہ اپنانے میں آسانی پیدا ہو جائے۔ محبوبہ مفتی نے اپنا یہ بیان حال ہی میں مرکزی وزیر خزانہ اردن جیٹلی کے اس بیان پر ردعمل کے طور پر دیا ہے جس میں دفعہ کے ختم کرنے کی بات کی گئی ہے۔ گویا جو جماعتیں اب تک انتخابات میں حصہ لیکر حکومت بناتی رہی ہیں وہ اس دفعہ کے ختم ہونے کے بعد انتخابات میں ہی حصہ نہیں لیں گی۔ یوں آزادی کے لئے جدوجہد کرنے والوں کے لئے مزید حمایت پیدا ہو جائے گی۔
قطر کے دارالخلافہ دوحا میں بھارتی مصنفہ اور صحافی ارون دھنی  رائے نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ مودی سرکار کی نفرت پر مبنی پالیسیوں کے باعث بھارت میں انتہا پسندی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے انہی متنازعہ پالیسیوں کے باعث کشمیر میں بھی حالات خراب ہوئے ہیں۔ دوحا میں وہ قطری ٹی وی الجزیرہ سے گفتگو کر رہی تھی۔ ان کے بقول فوجی طاقت کا استعمال مسئلہ کشمیر کا حل نہیں ہے اور نہ ہی کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے ۔ اس مسئلے کو وہاں کے عوام پر چھوڑ دیا جائے۔ ارون دھنی رائے نے مودی حکومت کی منافقت کا پردہ چاک کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ پاک بھارت کشیدگی وزیراعظم مودی کی انتہائی غیر ذمہ دارانہ روئیے کے باعث پیدا ہوئی ہے ۔ مودی پالیسیوں کے باعث ہی بھارتی عوام اور میڈیا انتہا پسندی کا شکار ہو کر جنگی جنون میں مبتلا ہوئے ہیں۔ دھنی رائے کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھارت میں کسان‘ عدالتی نظام‘ تاجر‘ طلبہ‘ سب پریشان ہیں۔ کوئی بھی حکمران جماعت کی کارکردگی سے خوش نہیں ہے جبکہ بھارتی انتخابات ذات پات کی پیچیدگیوں کی پابندیوں میں بھی جکڑے ہوئے ہیں۔
پس تحریر: فرانسیسی صحافی پال کومٹی کا شکریہ کہ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں سالہا سالوں سے جاری بھارتی مظالم کو دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔


 

تازہ ترین خبریں