08:35 am
قائد اعظم اور کشمیر 

قائد اعظم اور کشمیر 

08:35 am

قائداعظم محمدعلی جناح نے اپنی بصیرت ایمانی سے نہرواورگاندھی کے عزائم کوبھانپتے ہوئے گرجدار آوازمیں کہا مسلمان اور ہندو دو الگ الگ قومیں ہیں،دونوں کے نظریات، ہیروز، رہن سہن،تہذیب، تمدن اورعبادات کے طریقے الگ  ہیں۔ہندوئوں نے ہمیشہ مسلمانوں کو اپنا دشمن سمجھا، دوسری طرف مسلمان بھی یہ سمجھتے تھے کہ ہندو کے ہاتھوں مسلمانوں کے حقوق کبھی محفوظ نہیں رہ سکتے۔یہی سوچ اورفکردوقومی نظریہ کہلایا۔ اسی سوچ اورفکرکی بنیادپر لاکھوں مسلمانوں نے تقسیم برصغیر کے وقت جام شہادت نوش کیا اور طرح طرح کے ظلم و ستم کو سینے سے لگایا۔ اسی دو قومی نظریہ نے ہندوستان کے تین کڑوڑ مسلمانوں کو اپنا سب کچھ لٹا کر ایک نئے ملک پاکستان کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور کیا تھا۔یہی وہ دو قومی نظریہ ہے جو پچھلے 130 سالوں سے کشمیریوں کی طاقت بنا ہوا ہے۔ کشمیر کے لوگ مسلمان ہیں اور اسلام پر جان نچھاور کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ انڈین فوج کے ظلم و جبر نے کشمیر یوں کے دلوں سے خوف کے سائے چھین کر انہیں ایمان و یقین کا علمبردار بنا دیا ہے۔ اگر آج کشمیری یہ اعلان کر دیں کہ ہمیں پاکستان سے الحاق نہیں کرنا ہے اور نہ ہی ہمیں اسلام کی بنیادوں پر آزادی چاہیے ہمیں انڈیا کے ساتھ رہنا منظور ہے۔ تو انڈیا کشمیر میں دودھ کی نہریں بہا دے گا۔ مگر کسی ایک کشمیری نے بھی دنیوی عیش و آرام کو اسلام، آزادی اور دو قومی نظریہ پر ترجیح دی ہو یا اپنے ایمان سے دغا کر کے ہندوئوں کی آغوش میں پناہ لی ہو۔ وہ کون سی ایسی قربانی ہے جو کشمیریوں نے اسلام کی خاطرنہیں دی؟ کشمیریوں کا ایک ہی نعرہ ہے کہ کشمیر بنے گا پاکستان کشمیریوں کا یہ نعرہ آج سے نہیںہے ۔ یہ تب بھی تھا جب 1944 میں قائد اعظم محمد علی جناح نے کشمیر کا دورہ کیاتھا۔
 
 قرارداد لاہور کو پاس ہوئے صرف چار سال ہوئے تھے اور مسلم لیگ کی کارکردگی تسلی بخش جارہی تھی۔کشمیرکی دو سیاسی جماعتوں نیشنل کانفرنس اور مسلم کانفرنس نے دورہ کشمیرکے لیے قائد اعظم کو دعوت دی۔ قائد اعظم متحدہ ہندوستان کے پہلے اور واحد لیڈر تھے جنہیں ریاست جموں و کشمیر کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے دورے کے لیے دعوت دی تھی یہی نہیں بلکہریاست جموں کشمیر کے وزیراعظم سربینی گالی نرسنگ رائو نے بھی سرکاری سطح پر قائد اعظم کو دعوت نامہ بھیجا۔ پھر قائد اعظم کا کشمیر پہنچے پر جو شاندار استقبال کیاگیا وہ اس بات کی واضح دلیل تھا کہ اہل کشمیر عوام بھی اپنے آپ کو فقط پاکستانی کہلوانا چاہتے تھے، چنانچہ سوچیت گڑھ سے جموں تک اور جموں میں قیام کے بعد بانہال سے سری نگر تک قائد اعظم کا جو شاندار استقبال ہوا وہ اب تک کشمیر کے راجہ، مہاراجہ یا انگریز سرکار کے کسی افسر کے حصے میں نہیں آیا تھا۔ اس استقبال کے بعد ایک غیر ملکی مبصر نے لکھا تھا کہ اگرچہ گاندھی اور  نہرو بیرونی دنیا میں ہندوستان کی تحریک کے علمبرادار سمجھے جاتے ہیں لیکن حقیقت میں ہندوستان کے سیاسی سٹیج پر مقبول اور زور دار شخصیت محمد علی جناح کی ہی ہے۔ اپنے استقبال میں قائد اعظم نے ایک ایسا جملہ کہا جس نے کشمیریوں کو پاکستان کے حق میں یک جان و یک قالب کر دیا۔
 قائد اعظم نے کہا  کشمیر کے لوگو! آپ نے استقبال محمد علی جناح کا نہیں کیا بلکہ ہندستان میں مسلمانوں کی آزادی کی نمائندہ جماعت آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر کا کیا ہے۔بعدازاں قائداعظم نے سری نگرمیںایک عظیم الشان جلسہ سے خطاب کیا ۔ اس جلسہ میں سری نگر سے باہر میر پور، پونچھ، مظفرآباد، گلگت ، لداخ، جموں اور کشمیر کے گرد نواح سے بھی لوگ آئے تھے۔ اخبارات کی اطلاعات کے مطابق جلسہ میں ایک لاکھ افراد شریک ہوئے تھے۔ کشمیر کی تاریخ میں پہلی بار کسی جلسے میں عورتیں بھی شریک ہوئیں جن کی تعداد بھی ہزاروں میں تھی۔ یہاں تک کہ ریاست کے سرکاری ملازم بھی جلسے میں شریک ہوئے۔ اسی جلسے کا اثر اتنا گہرا ہوا کہ وہ لوگ جنہوں نے اب تک پاکستان کے ساتھ الحاق کے بارے میں کوئی خاص ذہن نہیں بنایا تھا وہ بھی پاکستان کے حامی بن گئے۔ قائد اعظم نے کشمیر کے لوگوں میں جذبہ آزادی ابھارتے ہوئے فرمایا تھا کہ  ہمارا اللہ ایک، ہمارا رسول ﷺ ایک ہماری تنظیم اور قائد بھی ایک ہونا چاہیے۔ قائداعظم کے اس جلسہ سے لے کر آج تک کے تمام جلوسوں میں اہل کشمیرآل پارٹیز حریت کانفرنس کے قائدین کا ایسے ہی استقبال کرتے چلے  آرہے ہیں۔ جلسہ گاہ میںسامعین کی تعداد بھی اتنی ہی زیادہ  ہوتی ہے سامعین جلسہ آزادی کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے نعرے بھی اسی جوش و خروش سے لگاتے ہیں۔
انڈیا کا یہ دعویٰ ہے کہ کشمیر اس کا اٹوٹ انگ ہے لیکن کشمیر کبھی اس کا حصہ تھا ہی نہیں۔ بھارتی آئین کی خاص دفعہ 370 کے تحت کشمیر بھارت کے پبلک سروس کمیشن سپریم کورٹ اور آئین ساز اسمبلی سے باہر تھا۔ کشمیرکا پرچم ترانہ اور زبان بھی بھارت سے الگ تھی۔ بعد میںنہرو نے اس میں ترمیم کی۔ انگریز اگر سوچی سمجھی سازش کے تحت پٹھانکوٹ انڈیا کو نہ دیتا تو کشمیر کا مسئلہ ہی نہیںبننا تھا۔ گویا یہ مسئلہ دانستہ طور پر سازش کر کے اسی لیے پیدا کیا گیا تھا کہ پاکستان اپنی تشکیل میں مکمل نہ ہوسکے اور بالآخر مجبور ہو کر خود ہی پکے ہوئے پھل کی طرح بھارت کی جھولی میں آگرے لیکن انڈیا کی یہ سوچ آج اس کے گلے کی ہڈی بن چکی ہے۔ اس لئے کہ ریاست جموں کشمیر جغرافیائی معاشرتی‘دفاعی، تاریخی اور اقتصادی  طور پر پاکستان  کا حصہ ہے ۔ 
 آج کل کشمیر کے ہر چوک و چوراہے میں ایک ہی نعرہ گونج رہا ہے کشمیر بنے گا پاکستان یہ نعرہ اس وقت بھی بہت گونجا تھا جب انڈیا نے اپنی فوج کو کشمیر میں ظالمانہ تسلط کے لیے داخل کیا تھا۔ جب  انڈین فوج سری نگر شہر میں داخل ہوئی تو سری نگر شہر کی ہر گلی میں کشمیری بچے، بوڑھے اور جوان کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے لگا کر ہر روز جلوس نکالتے تھے، تب ریاستی حکومت نے بالکل آج کی طرح بہتر بہتر گھنٹے کرفیولگائے۔ تقریباً دس ہزار افرد کو فوری گرفتارکرلیا گیا۔ یہاں تک کہ جیلوں میںگنجائش باقی نہ رہی۔ مجاہدین کی مدد کے الزام میں  کشمیریوں کو ملٹری کے زیر نگرانی فوجی بیرکوں میں بند کر دیا گیا۔ جموں کے ایک پرانے قلعے کو جیل میں تبدیل کر دیا گیا۔ جس طرح آج انڈین فوج ٹرکوں پر مشین گنیں نصب کر کے گھومتی ہے تب بھی اسلام آباد ، بارہ مولہ اور سوپور وغیر ہ کا یہی حال تھا۔ تب بھی انڈیا کشمیر کی آواز کو نہیں دبا سکا تھا اور آج بھی نہیں دبا سکے گا۔(ان شاء اللہ)

 

تازہ ترین خبریں