08:36 am
عزت و ذلت کا مالک اللہ

عزت و ذلت کا مالک اللہ

08:36 am

 سورۃ المنافقون کی ابتدائی چھ آیات میں نفاق کی حقیقت‘ اِس مرض کے پیدا ہونے اور بڑھنے کے مراحل، منافقت کی کچھ علامات اور اِن علامات کے حوالے سے کچھ عملی رویوں کا بھی ذکر آیا ہے۔ آخری پانچ آیات میں سے دو آیات ایک واقعہ سے متعلق ہیں۔ جس کی تفصیل احادیث کی تمام کتابوں صحیح بخاری، مسلم، جامع ترمذی وغیرہ میں موجود ہے۔ یہ واقعہ سن 6 ھ میں پیش آیا۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ غزوہ بنی مطلق میں جو شعبان 6ھ میں ہوا تھا، اسلامی لشکر میں مسلمانوں کے علاوہ کچھ منافقین بھی شامل تھے۔ رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی بھی لشکر میں شریک تھا۔ منافقین کا عموماً طرز عمل یہ ہوتا تھا کہ وہ غزوہ جس میں مشکلات کا اندیشہ کم ہوتا اور غنیمت ملنے کی زیادہ امید ہوتی تھی، اُس میں ضرور شامل ہوتے تھے۔ لیکن جس غزوہ میں زیادہ مشکلات دکھائی دیتیں اس میں شریک ہونے سے کتراتے اور جھوٹے بہانے بنا کر پیچھے رہ جاتے تھے بہرحال غزوہ بنی مطلق میں مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی۔ واپسی پر اسلامی لشکر نے قریب ہی ایک جگہ پڑائو کیا۔ دو مسلمانوں کا وہاں آپس میں جھگڑا ہو گیا۔ 
 
ان میں سے ایک شخص مہاجر تھے اور دوسرے انصاری۔ ان دونوں میں کچھ تکرار ہوئی تو بات ہاتھا پائی تک جا پہنچی۔ مہاجر صحابی نے انصاری کو ایک لات ماری۔ اس پر ایک ہنگامہ شروع ہو گیا۔ بعض لوگوں نے اس کو مہاجر انصار کا مسئلہ بنانے کی کوشش کی۔ حضور اکرمﷺ کو جب اس تنازعہ کی اطلاع ملی تو آپؐ فوراً تشریف لائے اور معاملے کو رفع دفع کر دیا۔ لیکن اس کے بعد چہ میگوئیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا اور عبداللہ بن ابی کو اپنی تخریبی ذہنیت کو آگے بڑھانے کا موقع مل گیا۔ اس نے اپنے انصار کی محفل میں یہ کہنا شروع کر دیا کہ یہ تو مہاجرین کی ہمتیں بڑھتی چلی جا رہی ہیں۔ ہم نے ان پر احسانات کیے ہیں اور یہ اس کے جواب میں یہ ہمارے ساتھ آج یہ سلوک کر رہے ہیں۔ اس میں اصل قصور تمہارا اپنا ہے۔ یہ لوگ مکہ سے لٹے پٹے آئے تھے تم ہی نے ان کو پناہ دے کر سر پر چڑھایا ہے۔ اُس نے (معاذ اللہ) یہاں تک الفاط استعمال کیے۔ کہ ’’سمن کلبک تا کلک‘‘ اپنے کتے کو کھلا پلا کر موٹا کرو تو ایک دن وہ تمہیں ہی کھائے گا۔  اور ساتھ ہی اس نے یہ کہا کہ اب طے کر کے جائو کہ مدینہ پہنچ کر ہم جو عزت دار ہیں وہ ذلیل اور کمتر لوگوں کو نکال باہر کریں گے۔ اس دوران ایک نوجوان صحابی زید بن ارقمؓ وہاں سے گزر رہے تھے اور انہوں نے یہ باتیں سن لیں۔ انہوں نے یہ باتیں اپنے چچا سے کہیں جوبزرگ صحابہؓ میں سے تھے۔ انہوں نے یہ سب کچھ حضور اکرمﷺ کو بتا دیا کہ عبداللہ بن ابی اس قسم کی باتیں کر رہا ہے، اور اس انداز سے لوگوں کو اکسایا جا رہا ہے۔ اِس پر نبی اکرمﷺ نے عبداللہ ابن ابی کو طلب کر لیا۔ عبداللہ نے خفت مٹانے کے لئے  جھوٹی قسمیں کھانی شروع کر دیں۔ کہنے لگا زید بن ارم کو غلط فہمی ہو گئی ہے۔ خواہ مخواہ کوئی پرانی دشمنی نکال رہا ہے۔ عبداللہ بن ابی کے بارے میں معلوم ہونا چاہیے کہ نبی اکرمﷺ کے مدینہ تشریف آوری سے پہلے وہ مدینہ میں اوس اور خزرج کا سربراہ بننے والا تھا لیکن جب  اوس اور خزرج کے اکثر لوگ ایمان لے آئے اور آپؐ مدینہ تشریف لے آئے تو  وہ سارا منصوبہ ختم ہو گیا۔ اب تو حضور اکرمﷺ بے تاج بادشاہ بن گئے۔ کہنے کو عبداللہ بن ابی بھی تو ایمان لے آیا تھا، لیکن دل میں جو بات چھپی تھی، اس کے سبب اسلام اور پیغمبرؐ سے عداوت رکھتا تھا اور نفاق کا روگی تھا۔ حضور اکرمﷺ نے بعض دفعہ اس کی حرکتوں کی وجہ سے یہاں تک فرمایا کہ کیا کوئی ایسا نہیں ہے کہ جو اُسے قتل کر دے۔ لیکن پھر مصلحت کا تقاضا یہی سمجھا گیا کہ اسے اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ بہرحال اس واقعہ پر جب عبداللہ بن ابی کہی جانے والی باتوں سے صاف مکر گیا تو حضرت زید بن ارقم ؓ کو سخت ملال ہوا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت زیدؓ کی صداقت کے اظہار کے لئے یہ آیات نازل کر دیں، جن میں عبداللہ بن ابی کے کردار کو پوری طرح طشت از بام کر دیا گیا۔ آیئے! اِن کا مطالعہ کریں۔ فرمایا:  ’’یہی ہیں جو کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول اللہ کے پاس (رہتے) ہیں ان پر (کچھ) خرچ نہ کرو۔ یہاں تک کہ یہ (خود بخود) بھاگ جائیں۔ حالانکہ آسمانوں اور زمین کے خزانے اللہ ہی کہ ہیں لیکن منافق نہیں سمجھتے۔ کہتے ہیں کہ اگر ہم لوٹ کر مدینے پہنچے تو عزت والے ذلیل لوگوں کو وہاں سے نکال باہر کریں گے۔ حالانکہ عزت اللہ کی ہے اور اس کے رسول کی اور مومنوں کی لیکن منافق نہیں جانتے۔ ‘‘ 
یہ منافقین کا عام رویہ بھی تھا کہ وہ انصار مدینہ کو مہاجرین پر مال خرچ کرنے سے منع کرتے تھے۔ البتہ اس واقعہ میں خاص طور پر عبداللہ بن ابی نے انصار سے کہا کہ تم نے مہاجرین کی مدد کی اور ان کو اپنے ساتھ رکھا، اب دیکھ لو، اس کا نتیجہ سامنے آ رہا ہے۔ یعنی یہ اب تمہارا کھا کر تمہیں پر غرا رہے ہیں۔ ان کا علاج یہ ہے کہ ان پر خرچ کرنا بند کر دو۔ یہ اپنے آپ تتر بتر ہو جائیں گے اور مدینہ کے علاوہ کہیں اور اپنا ٹھکانہ تلاش کریں گے۔ نیز اُس نے یہ بھی کہا کہ ہم (جو عزت والے ہیں) ان ذلیلوں (مہاجرین) کو مدینے سے نکال دیں گے۔ اللہ نے یہاں واضح کر دیا کہ منافق عزت والے نہیں ہیں۔ عزت اور غلبہ صرف اللہ کے لئے ہے اور پھر وہ اپنی طرف سے جس کو چاہے عزت و غلبہ عطا فرما دے۔ چنانچہ وہ اپنے رسولوں پر ایمان لانے والوں کو عزت اور سرفرازیاں عطا فرماتا ہے، نہ کہ ان کو جو اُس کے نافرمان ہوں۔ ان آیات کے نازل ہونے سے عبداللہ بن ابی کا پول کھل گیا اور سب لوگ اُس کے خلاف ہو گئے۔ یہاں تک کہ اس کا بیٹا بھی مدینہ سے باہر تلوار سونت کر کھڑا ہو گیا کہ باپ کی گردن اڑا دوں کہ اس نے یہ کیوں کہا کہ جو عزت والے ہیں وہ ذلیلوں کو نکال باہر کریں گے۔ اُس نے باپ سے کہا کہ اللہ کے رسولﷺ سے معافی مانگو، ورنہ میں تمہاری گردن اڑا دوں گا۔ تمہیں مدینہ میں داخل نہیں ہونے دوں گا۔ اس طرح جو دوسروں کو ذلیل کہتا تھا، اللہ نے اسی موقع پر اسے اپنے بیٹے کے ہاتھوں شدید طور پر ذلیل و رسوا کر دیا۔ 


 

تازہ ترین خبریں