08:37 am
عورتوں کے حقوق کے اصل دشمن؟

عورتوں کے حقوق کے اصل دشمن؟

08:37 am

( گزشتہ سے پیوستہ)

 ہمیں عورتوں کے ’’حقوق‘‘ اور عورتوں کی’’ تذلیل‘‘ میں فرق روا رکھنا پڑے گا‘ مغرب میں عورتوں کے حقوق کے نام عورتوں کا جو استحصال کیاجارہا ہے اس سے عورت کی روح پامال ہو کر رہ گئی ہے‘ عورت کا ماں‘ بہن‘ بیٹی اور بیوی کے علاوہ بھی رشتہ ہوتا ہے ... عورت اور مردکے درمیان دوستی کا رشتہ کیوں نہیں ہوسکتا؟یہ گمراہ کن جملے کہنے والی مغرب زدہ بیگمات‘ ذرا مغرب کی عورتوں سے پوچھ کر دیکھیں کہ جو باپ‘ بھائی‘ بیٹوں اور خاوند کے مخلصانہ رشتوں کے تقدس کو ترس رہی ہیں‘ عورت کو اشتہارات کی زینت بنانے والا ملحدین کا ٹولہ عورتوں کے حقوق کا سب سے بڑا دشمن ہے‘ عورت کو بازار کی زینت بنانے والا سیکولر ٹولہ عورتوں کے حقوق کا بدترین مخالف ہے‘ یہ عورتوں کے حقوق کے خود ساختہ علمبردار موم بتی مافیا کے خرکار پاکستان کی عصمت مآب خواتین کے نام پر غیر ملکی ڈالربٹورکر یہاں الحاد پرستی پھیلانا چاہتے ہیں لیکن مجھے یقین ہے کہ پاکستانی معاشرہ موم بتی مافیا کا یہ الحادی ایجنڈا کبھی قبول نہیں کرے گا‘ موم بتی مافیا کے ڈالر خوروں کے ایجنڈے اور پاکستانی خواتین کودرپیش مسائل میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔
 
موم بتی مافیا کے خرکار...پاکستانی عورتوں کے سروں سے دوپٹہ اور چہروں سے نقاب نوچنا چاہتے ہیں جبکہ پاکستان کی خواتین وراثت میں اپنا وہ حق مانگتی ہیں کہ جو اسلام نے انہیں دے رکھا ہے۔
موم بتی مافیا کے مغربی ڈالر خور نوجوان نسل کو ماں‘ باپ اور مشرقی روایات کا باغی بنا رہے ہیں‘ جبکہ پاکستانی خواتین اپنے گھروں میں رہ کر امن اور سکون کی زندگی گزارنا چاہتی ہیں‘ مغربی دنیا نے عورت کو ڈالر کمانے کی مشین سمجھ رکھا ہے‘ جبکہ مذہب اسلام نے ماں کے قدموں کے تلے جنت رکھ کر بیٹیاں ہوں یا بیٹے سب کو تلقین کی وہ اپنی اس جنت کی عظمت کو تسلیم کریں اور اسکی قدر کریں‘ پاکستانی خواتین کو رشتوں کے تقدس کے لئے ترستی ہوئی مغربی خواتین سے بھی ہمدردی ہے‘ پاکستان سمیت اسلامی دنیا میں عورتوں کی حالت زار مغرب کی بے چاری خواتین سے بدرجہا بہتر ہے۔
ممکن ہے کہ پاکستانی خواتین کے پاس روپے‘ پیسے کی ویسی فراوانی نہ ہو جو مغرب کی خواتین کے پاس ہے‘ لیکن پاکستانی خواتین کو جو عزت‘ مقام‘ مرتبہ‘ شان اور احترم یہاں حاصل ہے مغرب اس کی گرد راہ کو بھی نہیں پہنچ سکتا‘ سال میں ایک دن کو عورتوں کا عالمی دن قرار دے کر عورتوں کے مغربی حقوق کے نعرے لگانے والے بقیہ پورا سال جب عورتوں کے حقوق کو انتہائی ڈھٹائی سے پامال کرتے ہیں تو انہیں شرم بھی نہیں  آتی‘ اسلام نے تو سارا سال بلکہ ساری زندگی ماں‘ بہن‘ بیٹی کے حقوق کی پاسداری کا حکم دیا ہے‘ اس سے بڑا بدبخت کون ہوسکتا ہے کہ جس کے  پاس اپنی ماں‘ بہن‘ بیٹی کے لئے سال میں صرف ایک دن ہی ہو؟ اور وہ بھی سڑکوں پر کتبے لہرانے میں گزار دے ‘الحمدللہ اکثر مسلمان اپنے گھروں‘ خاندانوں اور علاقے میں عورتوں کے حقوق کی پاسداری کو یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہیں...جو عورتوں کے اسلامی حقوق کی پاسداری نہیں کرتا‘ وہ مسلمان کیسا؟ ہاں لبرل‘ سیکولر اور موم بتی مافیاء کے خرکار اگر عورتوں کے حقوق کو یقینی طور پر ادا کرنے والے بن جائیں تو ان بے چاریوں کو کتبے اور بینر اٹھا کر 8مارچ کو سڑکوں پر نہ آنا پڑتا۔
معصوم‘ بچیوں کو ونی کرنا‘ عورتوں کی نعوذ باللہ قرآن سے شادیاں کرنا‘ اسلام کا معاملہ نہیں ہے‘ بلکہ یہ سیکولر جاگیردارانہ مائینڈ سیٹ کا معاملہ ہے۔
انسانی زندگی میں مرد اور عورت  باہم لازم ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اس بارے بھی عورت کو خودمختاری فراہم کرتی ہے‘ عورت کو نکاح کے معاملے میں آزای دی ہے سن بلوغ کو پہنچنے کے بعد وہ اپنے نکاح کا فیصلہ خود کر سکتی ہے‘ مزید یہ کہ نکاح کے بعدباہمی معاملات سنگینی کی طرف جانے لگیں تو  فسخ نکاح کے لیے خلع کا حق بھی اسلام نے عورت کو  دیا ہے لیکن ایسی آزاد آزادی کی آگ میں بھی نہیں جھونکا کہ وہ خاندانی طور پر محرومی کا شکار ہو  یا فسق و فجور میں مبتلا ہو جائے ایسے وقت میں اسلام اولیاء کونکاح کے معاملے میں دخل اندازی کی اجازت دیتا ہے تاکہ عورت کا مستقبل برباد ہونے سے بچ جائے... یہ سراسر شفقت ہے جسے مسلم معاشرے کی بعض مغربی  اقدار  سے متاثرہ بچیاں اپنے اوپر ظلم سمجھتی ہیں۔ 
 ہر گھر میں عورت کے چار روپ نظر آتے ہیں۔ ماں ، بہن ، بیوی اور بیٹی۔چاروں کے بارے میں ایک حدیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے  ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کی : اے اللہ کے رسولﷺ!سب سے زیادہ میرے حسن سلوک کا مستحق کون ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ کی والدہ‘ اس نے عرض کی کہ پھر کون ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ  وسلم نے(دوسری بار) فرمایا:آپ کی والدہ‘ اس نے عرض کی پھر کون ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (تیسری بار بھی یہی) فرمایا: آپ کی والدہ۔ سائل نے جب چوتھی بار سوال دہرایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ کے والد۔(صحیح  بخاری ‘حدیث نمبر 5971)



حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی تین بیٹیاں یا تین بہنیں ہوں یا پھر دو بیٹیاں یا دو بہنیں ہوں اس نے ان کی اچھی تربیت کی ہو اور ان کی حق تلفی کے بارے اللہ سے ڈرتا رہے تو اس کے لیے جنت ہے۔(جامع ترمذی ‘ حدیث نمبر1916)
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سب سے بہترین وہ لوگ ہیں جو اپنی  بیویوں کے ساتھ اچھا  سلوک کرتے ہیں اورمیں تم میں اپنی  بیویوں کے ساتھ بہترین برتائو کرنے والا ہو۔ (جامع ترمذی ‘ حدیث نمبر 3830)
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص کو کچھ بیٹیوں کے ذریعے آزمائش میں ڈالا گیا اس نے اس پر صبر کیا تو وہ بیٹیاں قیامت کے دن جہنم سے ڈھال بن جائیں گی۔(جامع ترمذی‘حدیث نمبر1913)


 

تازہ ترین خبریں