09:12 am
آسمان سے گرے کھجور میں اٹکے

آسمان سے گرے کھجور میں اٹکے

09:12 am

حکمرانوں نے یہ طے کرلیا ہے کہ عوام کی چیخیں نکلوانی ہیں۔ اس کابار بار وزیر خزانہ اعلان بھی فرماچکے ہیں۔ ملکی معیشت حکمرانوں کے بس سے باہر ہو رہی ہے۔ کچھ ہمدردوں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کو چونکہ پہلی بار حکومت ملی ہے
حکمرانوں نے یہ طے کرلیا ہے کہ عوام کی چیخیں نکلوانی ہیں۔ اس کابار بار وزیر خزانہ اعلان بھی فرماچکے ہیں۔ ملکی معیشت حکمرانوں کے بس سے باہر ہو رہی ہے۔ کچھ ہمدردوں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کو چونکہ پہلی بار حکومت ملی ہے اس لیے انہیں ابھی تجربہ نہیں ہے، کچھ عرصہ گزرجائے تو سب کچھ سامنے آجائے گا۔ وہ جو اردو کا محاورہ ہے کہ نائی جی نائی جی میرے سر پہ بال کتنے، وہ جواباً کہتا ہے ،ججوان جی ابھی سامنے آئے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ملکی معیشت کو صرف آئی ایم ایف کے علاوہ بھی کئی طرح کے مسائل کا سامنا ہے ۔ انتخابات سے قبل تحریک انصاف کے ماہرین سیاست و معیشت طرح طرح کے انتظامات کا اظہار کرتے، رہے ہیں کہ اگر ہمیں حکومت ملی تو ہم سالوں کے کام ہفتوں میں کرکے ملکی معیشت و اقتصادیات کو اپنے پیروں پر کھڑا کردیں گے۔ اب جب کہ انہیں اقتدار مل چکا ہے اور ملے ہوئے بھی تقریباً آٹھ نو ماہ کا عرصہ گزرچکا ہے۔ مسائل کم ہونے، ختم ہونے کے بجائے روز بروز بڑھتے ہی جا رہے ہیں، حکمرانوں کو ان کے ہمدرد کہنے کو تو کہہ رہے ہیں کہ ابھی دن ہی کتنے ہوئے ہیں لیکن حقیقت اس کے برعکس نظر آرہی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان ہی وہ واحد ہستی ہیں جو پہلی بار اقتدار میں آئے ہیں جبکہ ان کی کابینہ کا ہر رکن کئی کئی بار کا حکومتی تجربہ رکھتا ہے۔ سب کے سب بڑے منجھے ہوئے سیاست کے کاریگر ہیں اس کے باوجود وہ عوام کو ریلیف دینے میں قطعی ناکام ہیں، ملک میں تجارتی اور کاروباری سرگرمیاں تقریباً نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہیں، سرمایہ کار سرمایہ لگانے کی بجائے بیرون ملک محفوظ کر رہے ہیں۔ جب کہ بیرونی سرمایہ کار آنے اور سرمایہ کاری کرنے میں تذبذب کا شکار ہیں۔ ان کی نظریں حکمرانوں کی جانب سے اہل سیاست و تجارت پر بدعنوانی، بے ایمانی، کرپشن سے متعلق بیان پر لگی ہوئی ہیں۔ وہ سمجھ سکتے ہیں کہ جس ملک کے سربراہ ہی خود اپنے سرمایہ کاروں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں وہاں بیرونی سرمایہ کار کو کیسے اور کیونکر تحفظ میسر آسکتا ہے۔ ایسے ماحول میں جب کہ ہر طرف ہاہا کار مچی ہو، خطرہ کیسے لے سکتا ہے۔ سرمایہ کار بیرونی ہو یا داخلی وہ سب سے پہلے اپنے سرمائے کا اور اپنی حیثیت کا تحفظ چاہتا ہے۔ بے یقینی اور تذبذب کی کیفیت میں کوئی کھلاڑی میدان میں اترنے کو تیار نہیں ہوتا۔
وزیر خزانہ اسد عمر کے حالیہ ایک بیان نے معاشی حلقوں میں ہیجان پیدا کردیا ہے۔ ان کے بقول آئی ایم ایف کے پاس نہ گئے تو ملک دیوالیہ ہوجائے گا۔  وزیر خزانہ نے کہا کہ ادائیگیوں کے توازن کے لیے ہمارے دو طریقہ کار ہیں۔ ایک دیوالیہ ہونے کا اور دوسرا آئی ایم ایف کی شرائط منظور کرنے کا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جب سے تحریک انصاف حکومت میں آئی ہے اربوں ڈالر دوست ممالک سے حاصل کرچکی ہے اور مسلسل لے رہی ہے۔ اس کے باوجود ملک کے دیوالیہ ہونے کی خبر سنائی دے رہی ہے۔ ایسا تو اس سے قبل کبھی نہ سننے میں آیا نہ ہی دیکھنے میں آیا۔ تمام تر چور بد عنوان کرپٹ بے ایمان حکمرانوں نے نہ تو اس قدر قرضوں میں اضافہ کیا اور نہ ہی عوام کو مہنگائی کی چکی میں پسنے کو ڈالا۔ کل تک یہی حکمران جب اقتدار کے منتظر تھے کہتے نہیں تھکتے تھے کہ ہم آتے ہی سب درست کردیں گے، ایمنسٹی اسکیم پر ہرطرح سے انگلیاں اٹھائی گئیں لیکن آج وہی ایمنسٹی اسکیم دوبارہ منظر عام پر لائی جا رہی ہے۔ مسلم لیگ نون کی ترجمان کا کہنا ہے کہ جب تحریک انصاف کو حکومت سونپی گئی تھی اس وقت جی ڈی پی 5.8 فی صد تھا، اب جی ڈی پی کو ان حکمرانوں نے ساڑھے تین فی صد پر پہنچا دیا ہے۔
حکمرانوں نے مہنگائی گزشتہ آٹھ ماہ میں9.4 فی صد پر پہنچا دی ہے۔ مہنگائی نے عوام کو کچل کر رکھ دیا ہے۔ بجلی میں25 فی صد اور گیس میں141 فی صد اضافہ کردیا گیا۔ پیٹرول کی قیمت میں بار بار اضافہ کیا جارہا ہے۔ یوٹیلٹی اسٹورز پر دالوں اور چاول کی قیمت میں 10 روپے سے لے کر 50 روپے تک کا اضافہ کردیا گیا ہے۔ دیگر ضروریات زندگی کی قیمتوں میں بھی اضافہ در اضافہ ہو رہا ہے۔ مہنگائی کا طوفان رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ رمضان مبارک سر پر آیا کھڑا ہے۔ تاجروں نے ابھی سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے۔ گھی دس روپے، کھجوریں اور پھل مہنگے کردیے ہیں۔ ایسے ہی گھی 160 روپے کلو، چینی60 روپے کلو، چاول160 روپے سے بڑھا کر200 روپے کلو، صابن55 روپے اور ساٹھ روپے فی ٹکیہ کردی گئی ہے۔ کیچپ 200 روپے، آٹے کا تھیلا 810روپے کا ہوگیا ہے۔ ایسے ہی سبزی ترکاریوں کا حال ہے۔ دوسری طرف امریکن ڈالر اونچی سے اونچی اڑان بھر رہا ہے۔ سونے کی 73ہزار روپے فی تولہ پہنچ گئی ہے۔ ہر لمحہ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام کو پیس کر رکھ دیا ہے۔ الیکشن سے پہلے کیے گئے تمام وعدے ہوا ہوگئے۔ حکمرانوں کو اب پتہ چل رہا ہے کہ کے بیسی کے ساٹھ ہوتے ہیں پہلے تو عوام کو ہزار قسم کے وعدے دعوئوں سے ورغلاتے رہے اب جب اونٹ پہاڑ کے نیچے آیا ہے تو معلوم ہوا کہ پہاڑ کتنا بلند ہے۔ پہلے تو اونٹ خود کو ہی سب سے بلند سمجھتا رہا تھا۔ اب جب کہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوکر سامنے آرہا ہے تو حکمرانوں کے چودہ طبق روشن ہو رہے ہیں۔
ایشیائی ترقیاتی بنک بھی وطن عزیز کی معاشی صورت حال پر پریشانی کا شکار ہے۔ اس کے مطابق پاکستان کی معاشی ترقی پہلے سے کم ہوکر 3.9 فی صدر رہ جائے گی، جس سے مہنگائی مزید بڑھے گی۔ عوام حیران و پریشان ہیں، قوم سوچ رہی ہے کہ آسمان سے گرکرکہیں کھجور میں تونہیں اٹک گئے ہیں۔



 

تازہ ترین خبریں