09:13 am
وفاق المدارس کا شاندار تعلیمی ریکارڈ

وفاق المدارس کا شاندار تعلیمی ریکارڈ

09:13 am

وفاق المدارس سے ملحق مدارس کی تعداد میں جہاں ہر سال سینکڑوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے اُسی تناسب سے امتحان میں شریک ہونے والے طلبہ وطالبات کی تعداد میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ اس سال مختلف درجات کے امتحان میں
(گزشتہ سے پیوستہ)
وفاق المدارس سے ملحق مدارس کی تعداد میں جہاں ہر سال سینکڑوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے اُسی تناسب سے امتحان میں شریک ہونے والے طلبہ وطالبات کی تعداد میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ اس سال مختلف درجات کے امتحان میں گزشتہ سال نسبت مجموعی طور پر انیس ہزار سات سو بانوے (19792) طلبہ وطالبات کا اضافہ ہوا ہے۔
وفاق المدارس نے اپنے ادارتی سفر کے ارتقاء سے لیکر رواں برس تک روزانہ کی بنیاد پر ترقی کی منازل طے کیں۔ ترقی کا یہ سفر وقت کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے تعلیمی وانتظامی امور سمیت کئی انفرادی خصوصیات کا حامل وفاق المدارس کا بہترین شفاف امتحانی نظام بھی ہے۔
وفاق المدارس کا امتحانی نظم 11 رکنی فعال امتحانی کمیٹی دیکھتی ہے، اس کمیٹی سربراہی صدر وفاق اور نگرانی ناظم اعلیٰ وفاق کرتے ہیں۔ جبکہ ملک بھر کے تقریبا سو (100) مسئولین امتحانی کمیٹی کی جانب سے طے شدہ امور پہ عملدرآمد کے ساتھ مکمل مانیٹرنگ (نگرانی) کا فریضہ ادا کرتے ہیں۔ بنیادی طورپر سالانہ امتحان کے۔ نگران عملہ کی تقرری، امتحانی مراکز میں پرچوں کی ترسیل سمیت کئی  اہم امور میں مسئولین مرکزی دفتر اور اراکین امتحانی کمیٹی باہمی طور پہ مربوط ومنسلک ہوتے ہیں۔
وفاق المدارس کے سالانہ امتحان درجہ تحفیظ اور درجات کتب کے دو الگ الگ مراحل میں ہوتے ہیں، دونوں مراحل کی تاریخ و ترتیب، انتظام و انصرام تقریباً چھ ماہ قبل گیارہ رکنی امتحانی کمیٹی کی جانب سے طے شدہ امور کی روشنی انجام دیئے جاتے ہیں۔ روایتی طورپر پہلے مرحلہ کا امتحان درجات کتب سے دس دن قبل شروع ہوجاتے ہیں، اس مرحلہ کی مکمل نگرانی باصلاحیت مسئولین معین وقت میں انجام دینے کے پابند ہوتے ہیں۔ وفاق المدارس کا دائرہ ملک کے کونے کونے تک وسیع ہے، دوردراز اور دشوار گزار علاقوں تک میں موجود ایک ادارہ بلکہ ایک طالبعلم بھی ہو تو بھی ادارہ وفاق المدارس کی جانب سے تمام ضروری سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔
دوسرا امتحانی مرحلہ درجات کتب کا ہوتا ہے جس کیلئے وفاق کے ضابطہ کے مطابق طلبہ و طالبات کیلئے الگ الگ امتحانی مراکز قائم کیے  جاتے ہیں۔ ہر سنیٹر میں پچیس (25) شریک طلبہ و طالبات کیلئے ایک نگران کو منتخب کیا جاتا ہے اور  ہر مرکز میں نگران عملہ کے ساتھ نگران اعلیٰ کو مقرر کیا جاتا ہے۔ نگران اعلیٰ جو وفاق کے نظام امتحان کیلئے سالوں کا تجربہ سمیت کئی صلاحیتوں کے حامل ہوتے ہیں۔ امتحانی نگران عملہ کی تقرری کا مکمل ریکارڈ مرکزی دفتر اور مسئولین کے پاس ہوتا ہے۔ امتحانی مراکز کی انفرادی و اجتماعی نظم سمیت کئی امور کی یومیہ رپورٹ دوران امتحان مرتب ہوتی ہے۔ تمام مراکز امتحان میں مرکزی و صوبائی اور مسئولین معائنہ کر کے جانچ پڑتال بھی کرتے ہیں۔ ان کی رپورٹ بھی الگ مرتب ہوتی ہیں۔ ملک بھر کے امتحانی مراکز کی تمام رپورٹوں کا امتحانی کمیٹی مکمل جائزہ لیتی ہے جو بعد میں مرکزی دفتر کے ریکارڈ کا مستقل حصہ بھی بنتا ہے۔
دوران امتحان جوابی کاپیوں کی بروقت مرکزی دفتر میں ترسیل، مارکنگ سمیت کئی مراحل منظوم و مربوط انداز میں طے ہوکر 20سے 25 ایام میں مکمل نتیجہ جاری کیا جاتا ہے۔ یہ تمام انتظامی وادارتی مراحل کی شفافیت الحمدللہ اعلیٰ درجہ کا امتیازی وصف ہے۔  
اس سال ملک بھر کے ہزاروں مدارس کے دو لاکھ چھیانوے ہزار پانچ سو چودہ (296514) طلبہ و طالبات کیلئے دوہزار سات (2007) امتحانی مراکز قائم کئے گئے ہیں۔ شرکائے امتحان کی مجموعی تعداد میں پندرہ ہزار آٹھ سو چھتیس (15836)  کا جہاں اضافہ ہوا ہے وہیں ایک سو ننانوے (199) امتحانی مراکز کا بھی بڑا اضافہ ہوا ہے۔ اسی تناسب سے اس سال نگران عملہ کی مجموعی تعداد تیرہ ہزار نو سو آٹھ (13908) ہے۔ گزشتہ سال کی نسبت اس میں چھ سو ستاون (657) کا اضافہ ہوا ہے۔




 

تازہ ترین خبریں