06:55 am
بلاول ایک لات بوٹی مافیا کی کمر پر بھی رسید کر دیں

بلاول ایک لات بوٹی مافیا کی کمر پر بھی رسید کر دیں

06:55 am

لات مارنے اور دولتی جھاڑنے میں کیا فرق ہے؟ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بلاول زرداری کہتے ہیں کہ اٹھارویں ترمیم کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو وفاقی حکومت کو لات مار کر گرا دیں گے ‘ حکومت کو لات مار کر گرانے کے نیک کام
لات مارنے اور دولتی جھاڑنے میں کیا فرق ہے؟ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بلاول زرداری کہتے ہیں کہ اٹھارویں ترمیم کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو وفاقی حکومت کو لات مار کر گرا دیں گے ‘ حکومت کو لات مار کر گرانے کے نیک کام میں اتنی دیر کیوں؟ بلاول کی ’’لات‘‘ میں اگر دم ہے تو انہیں چاہیے کہ وہ فوراً یہ کام کر گزریں … اس لئے کہ اس آٹھ ماہ کی حکومت نے مہنگائی کے جن کو مسلط کرکے عوام کی چیخیں نکلوا دی ہیں‘ لیکن مجھے یقین ہے کہ بلاول کی نہ زبان میں تاثیر ہے اور نہ ہی لات میں دم ہے‘ محض گلے پھاڑ کر چیخنے سے نہ مہنگائی کم ہوسکتی ہے اور نہ ہی حکومت گرائی جاسکتی ہے۔
آپ حیران ہوں گے کہ آخر بلاول کی لات میں دم نہ ہونے کا مجھے کیسے یقین ہے؟ وہ ایسے کہ ان دنوں زرداری اور بلاول راج والے صوبہ سندھ میں امتحانات کا سیزن چل رہا ہے۔
میٹرک کے امتحانات شروع ہیں  اور انٹر کے امتحانات ہونے والے ہیں الیکٹرانک میڈیا ہو یا سوشل میڈیا ہر طرف دھوم مچی ہوئی ہے کہ بلاول کے صوبہ سندھ میں کراچی کے امتحانی سینٹرز سے لے کر لاڑکانہ کے امتحانی سینٹرز تک بوٹی مافیا کا راج قائم ہے‘ بوٹی مافیا کا یہ راج کوئی تازہ بات نہیں بلکہ تقریباً تین دہائیوں سے قائم ہے۔ کراچی‘ ٹھٹھہ‘ سجاول‘ حیدر آباد‘ بدین ‘ گولارچی ‘ کنڈیارو‘ نواب شاہ ‘ میرپور خاص‘ ماتلی‘ تلہار‘ ٹنڈو آدم‘ ٹنڈو باگو‘ محراب پور‘ رانی پور‘ خورشید شاہ کے شہر سکھر‘ جیکب آباد‘ ڈھیرکی‘ گھوٹکی‘ ’’بھٹوز‘‘ کے معروف زمانہ شہر لاڑکانہ سمیت پورا صوبہ سندھ جس تعلیمی بدحالی اور نقل مافیا کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا ہے … اس کا  حال باغ تو سارا جانے ہے‘ نجانے نقل مافیا کی30 سالوں سے جاری اس دہشت گردی سے ’’بلاول‘‘ کیوں انجان بنا بیٹھا ہے؟ بلاول وفاقی حکومت کو جتنی چاہے لاتیں ماریں … مگر ایک لات نقل مافیا کی کمر پر بھی رسید کر دیں کہ جس کی تعلیمی دہشت گردی نے سندھ کے لاکھوں بچوں کے تعلیمی مستقبل کو برباد کرکے رکھ دیا ہے‘ کراچی کے معروف ماہر تعلیم عمیر شاہد اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر نئی نسل کو بوٹی مافیا کے شکنجے سے بچانے کیلئے گزشتہ کئی سالوں سے SAY NO TO CHEATING  کے نام سے کمپیئن چلا رہے ہیں ‘ کئی ماہ قبل دورہ کراچی کے دوران میری جب ان سے ملاقات ہوئی تو میں  نے ان سے پوچھا کہ آپ کیSAY NO TO CHEATING  مہم کا کیا بنا؟سر عمیر شاہد کا کہنا تھا کہ ان کی اس مہم میں اب ان کے ساتھ دیگر کئی پرائیویٹ سکولز کے پرنسپلز‘ اساتذہ کرام اور تعلیمی ماہرین بھی شامل ہوگئے ہیں ‘ ہم صرف سوشل میڈیا پر ہی نہیں بلکہ عملی طور پر طلباء کے مختلف پروگراموں میں بھی نقل مافیا کے خلاف عوام اور بچوں میں شعور بیدار کرنے کی کوششیں کررہے ہیں لیکن میں ذاتی طور پر اس بات سے بھی واقف ہوں کہ نقل مافیا‘ بوٹی مافیا کہ جنہیں تعلیمی دہشت گرد لکھنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے … مہم چلانے کے جرم میں سر عمیر شاہد کو ہر قسم کی دھمکیوں کے ’’تمغوں‘‘ سے نوازنا شروع کر رکھا ہے‘ کوئی زرداری کے فرزند بلاول سے پوچھے کہ آپ سندھ باب الاسلام میں غیر مسلم نوجوانوں کو18سال کی عمر سے پہلے دائرہ اسلام میں داخل ہونے سے روکنے کا بل سندھ اسمبلی میں لاسکتے ہیں تو سندھ کے لاکھوں طلباء و طالبات کو بوٹی مافیا کی دہشت گردی سے کیوں نہیں بچاسکتے؟
 بلاول زرداری قوم کو بتائیں کہ بھٹو کے شہر لاڑکانہ میں نویں‘ دسویں کے امتحانی سنٹرز کو یرغمال بنانے والی نقل مافیا کا تعلق کس کالعدم تنظیم سے ہے؟ آخر صوبائی وزیر تعلیم سید سردار شاہ سمیت محکمہ سکول  ایجوکیشن کے افسران اور ثانوی تعلیمی بورڈز کی ویجیلنس ٹیمیں کراچی سمیت سندھ بھر میں نویں اور دسویں جماعت کے امتحانات کے دوران امتحانی مراکز میں موبائل فونز اور گائیڈز کے ذریعے نقل کے رجحان کو کنٹرول کرنے میں مکمل طور پر ناکام کیوں ثابت ہوئے ہیں؟
اور خبر تو یہ بھی ہے کہ سکھر بورڈ کے زیرانتظام نویں جماعت کا کیمسٹری کا پرچہ قبل از وقت ہی آئوٹ ہوگیا‘ صرف سکھر ہی نہیں پورے سندھ کے امتحانی مراکز کا یہی حال ہے۔یہ چند سال پہلے کی بات ہے کہ بدین میں قائم طالبات کے امتحانی مراکز کے باہر متعدد لڑکے مسلح گھومتے پائے گئے ‘ قدرت کا کرنا ایسا ہوا کہ اس خاکسار کا گزر ایسے ہی ایک امتحانی مرکز کے قریب سے ہوا ‘ دوستوں نے متوجہ کیا تو مجھ سے رہا نہ گیا‘ میں گاڑی سے اترا اور  پینٹ شرٹ میں ملبوس سوکھے ‘ سڑے نوجوان کے قریب جاکر نرم انداز میں اس سے پوچھا کہ بھائی ادھر کیا کررہے ہو؟ اس نے چونک کر مشکوک نگاہوں سے مجھے دیکھا اور پھر دو قوم پیچھے ہٹ کر بگڑے ہوئے لہجے میںبولا کہ تم اپنی راہ لو! تم کون ہوتے ہو مجھ سے پوچھنے والے؟ اس کی بدتمیری پر مجھے بھی غصہ آگیا‘ وہ ڈرنے کی بجائے مزید شیر ہوکر بولاکہ میں امتحانی مرکز میں بیٹھی لڑکیوں کو پیپر حل کروانے کے لئے کھڑا ہوں… تم سے جو ہوتا ہے وہ کرلو؟ ہم نے دیکھا کہ  ادھر ‘ ادھر کھڑے ہوئے متعدد نوجوان اس کی حمایت میں کھڑے ہوگئے‘ اچانک سکول کے گیٹ پر تعینات سپاہی آگے بڑھے اور ہمیں دور ہٹاتے ہوئے کہا کہ سائیں! نفل کے ذریعے پرچہ حل کروانا سندھ کے طلباء کا حق ہے‘ آپ کیوں خواہ مخواہ مغز خراب کرتے ہو؟آکسفورڈ کے اعلیٰ تعلیم یافتہ بلاول ‘ تو بھٹو ہے‘ وہ بھٹو ہے‘ سب بھٹو ہیں‘ ہم بھٹو ہیں ان نعروں کو چھوڑ کر سندھ کے لاکھوں طلباء و طالبات کے مستقبل کو تباہ کرنے والی بوٹی مافیا  کمے خلاف عملی قدم اٹھائیں تو ممکن ہے کہ مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کی روح بھی خوش اور مطمئن ہو جائے؟  صوبہ سندھ میں تعلیم کی حالت زار پہلے ہی دگرگوں ہے لیکن اس پر مستزاد یہ کہ ہر سال سہ ماہی امتحان ہوں‘ ششماہی ہوں یا سالانہ امتحان‘ نقل مافیا اور بوٹی مافیا کے غنڈوں نے ان ’’امتحانات‘‘ کی روح تک کو مٹا ڈالاہے۔

 

تازہ ترین خبریں