06:57 am
ملزموں، مجرموں، چوروں، اُچکّوں کا قلبِ حزیں

ملزموں، مجرموں، چوروں، اُچکّوں کا قلبِ حزیں

06:57 am

قلم تو تھام لیا ہے مگر لکھوں کیسے؟ سچ لکھنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ سچ لکھنا آگ کا دریا پار کرنے کے برابر ہے۔ سچ لکھنا تیشے سے سر پیٹنے کا متقاضی ہے۔ سچ کی سولی چڑھنا میرے بس کی بات نہیں۔ میں اپنی کم مائیگی
قلم تو تھام لیا ہے مگر لکھوں کیسے؟ سچ لکھنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ سچ لکھنا آگ کا دریا پار کرنے کے برابر ہے۔ سچ لکھنا تیشے سے سر پیٹنے کا متقاضی ہے۔ سچ کی سولی چڑھنا میرے بس کی بات نہیں۔ میں اپنی کم مائیگی، اپنی بزدلی  اور اپنی ناتوانی کا اعتراف کرتا ہوں۔ میرے پاس قلم تو ہے مگر قرطاس ابیض میرا گریبان پکڑے ہوئے ہے۔ میں کاغذ کا سینہ سیاہ تو کر سکتا ہوں اِسے روشنائی دینے سے قاصر ہوں۔ کیوں کہ سچ لکھنا، قابلِ تعزیر جُرم ہے۔ جن معاشروں میں سچ لکھنا جرم قرار دے دیا جائے وہاں گزارش ہی کی جا سکتی ہے سچ نہیں لکھا جا سکتا۔ لہٰذا قبل اِس کے کہ میں اپنی گزارش سپرد قلم کر وں میں مناسب سمجھتا ہوں کہ میں پاکستان کی سرزمین پر بدعنوانوں کے خلاف برسرپیکار ادارے قومی احتساب بیورو کے بارے میں اپنے قارئین کو کچھ ابتدائی معلومات فراہم کروں۔ یہ بیسیویں صدی کا آخری برس تھا جب اِس ادارے کا قیام معرض وجود میں آیا، اِسے اُردو زبان میں قومی احتساب بیورو کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے مگر اِس کا نام نیب کے نام سے زبانِ زدِ عام ہے جو کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ کبھی کبھی میڈیا اِس کی خوبیوں کے قصیدے پڑھتا دِکھائی دیتا ہے تو کبھی کبھی کچھ سرگوشیاں اِس کے خلاف بھی سُنی جاتی ہیں۔ یہ سرگوشیاں اُن لبوں سے ادا ہوتی ہیں جو لب بہ لب کرپشن اور مالی بدعنوانیوں سے تبسم آویز مسکراہٹوں کا تبادلہ کرتے کرتے اچانک نوحے پڑھتے دِکھائی دیتے ہیں۔قومی احتساب بیورو المعروف  نیب کا قیام قومی احتساب آرڈی نینس کے تحت 16 نومبر1999ء کو عمل میں لایا گیا، قومی احتساب بیورو کا ہیڈکوارٹر اسلام آباد میں ہے جب کہ کراچی ، لاہور ، ملتان ، راولپنڈی ، سکھر، پشاور اور کوئٹہ میں اس کے علاقائی دفاتر ہیں ۔ قومی احتساب بیورو کا دائرہ کار پورے ملک ،فاٹا اور گلگت بلتستان تک ہے۔ قومی احتساب بیورو کے قیام کا مقصد ملک سے بدعنوانی اور کرپشن کا خاتمہ اور گڈ گورننس کے فروغ میں مدد فراہم کرنا ہے۔ قومی احتساب بیورو نے اپنے قیام سے لے کر اب تک اپنے منشور اور مقاصد کو ایک قومی فریضہ کے طور پر اولین ترجیح سمجھتے ہوئے کسی دبائو اور پریشرکے بغیر میرٹ، شفافیت اور غیرجانبداری کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ادا کیا ہے۔
قومی احتساب بیورو کو اپنے پہلے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل سید محمد امجد سے لے کر موجودہ چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کی قیادت میں بدعنوانی اور کرپشن سے متعلق اب تک لاکھوں درخواستیں موصول ہوئیں جن پر قانون کے مطابق کارروائی کی گئی۔
بدعنوان عناصر سے قومی احتساب بیورو نے اپنے قیام سے لے کر اب تک چارسو ارب روپے وصول کرکے قومی خزانے میں جمع کروائے جو کہ ایک ریکارڈ کامیابی ہے۔قومی احتساب بیورونے قومی انٹی کرپشن سٹریٹجی کے حوالے سے ایک مربوط حکمت عملی ترتیب دی ہے جس کے مطابق عوام کو کرپشن ، رشوت ستانی اور بدعنوانی کے ملکی ترقی اور معیشت پر اثرات سے متعلق آگاہی کے  علاوہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ساتھ ایم او یوز سائن  کرکے یونیورسٹیوں اور کالجوںکے طلبا وطالبات کو کرپشن کے اثرات سے آگاہی فراہم کرنے کے علاوہ مختلف یونیورسٹیوں،کالجز اور  سکولوںمیںتقریباً4000کریکٹرزبلڈنگ سوسا ئٹیز    کا قیام بھی عمل میں لایا گیا  جس کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔قومی احتساب بیورونے نیب میں جہاں اور بہت ساری نمایاں اصلاحات کیں وہاں انھوں نے عصرِ حاضر کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے نیب کے پراسیکوشن ڈویژن میں نئے لا افسروں کی تعیناتی کے علاوہ آپریشن ڈویژن کو نئے انو یسٹی گیشن آفیسرز کی بھرتی سے متحرک ڈویژن بنا دیا۔ قومی احتساب بیورو نے اپنے افسران کی جدید خطوط پر استعداد کار کو بڑھانے کے لیے ٹریننگ پروگرامز بھی ترتیب دیے جہاں ان کو ملکی اور بین الاقوامی ماہرین کرپشن اور وائٹ کالر کرائم سے جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے تحقیقات کے بارے میںآگاہی فراہم کرتے ہیں۔قومی احتساب بیورو نے بدعنوانی اور رشوت ستانی کے خاتمہ کے لیے بھی ایک نئی حکمت عملی ترتیب دی ہے جس میں سائل کی درخواست سے لے کر ریفرنس دائر ہونے تک کے مراحل کو سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز ایس او پی کے تحت ایک مربوط نظام تشکیل دیا ہے جس کی بنیاد پر افسران شکایات کی جانچ پڑتال، انکوائریاں اور تحقیقات کرتے ہیں ۔نیب نے اپنے آپریشنل ، پرونشن، انفورسمنٹ ، پراسیکیوشن ڈویژنز کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے علاوہ ایک فرانزک لیب بھی بنائی ہے جس کے ذریعے تحقیقات جدید خطوط پر جلد از جلد مکمل کرنے اور بدعنوان افراد کے خلاف کارروائی میں مدد ملتی ہے۔ قومی احتساب بیورو نے اپنے قیام سے لے کر اب تک کے سفر میں جو نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں وہ نیب افسران کی انتھک محنت اور ٹیم ورک کا نتیجہ ہیں۔
قومی احتساب بیورو نے اب تک حکومت اور اپوزیشن کی تفریق کیے بغیر میرٹ، ایمانداری اور کسی پریشر کو خاطر میں لائے بغیر کرپٹ عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی ہے وہ نہ کسی کے ساتھ نرمی برتتے ہیںاور نہ ہی کسی کے ساتھ زیادتی پر یقین رکھتے ہیں۔ قومی احتساب بیورو ایک قابل اعتماد قومی ادارے کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ پلڈاٹ اور ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل جیسے آزادانہ اداروں کی رپورٹس قومی احتساب بیورو کے کرپشن اور بدعنوانی کے خاتمہ کے کام کو مزید تقویت فراہم کرتی ہیں ۔
اِس تفصیلی تعارف کے بعد میں یہ گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ قومی احتساب بیورو کے جتنے بھی ملزم ہیں وہ عارضہ قلب میں مبتلا دِکھائی دیتے ہیں۔ اُس میں ارباب اختیار بھی ہیں اور حزب اختلاف کے لوگ بھی شامل ہیں۔ جس کسی پر جب بھی قومی احتساب بیورو ہاتھ ڈالتا ہے تو اُسے فوری طور پر عارضۂ قلب لاحق ہو جاتا ہے۔ میاں نوازشریف نے باقاعدہ طور پر اِس ادارے کا باقاعدہ ملزم قرار پانے سے قبل اپنا بائی پاس آپریشن کروا لیا تھا۔ مگر وزیرخزانہ اسحاق ڈار پر جیسے ہی نیب نے ہاتھ ڈالا تو وہ فوراً عارضہ قلب میں مبتلا ہو کر بیرون ملک سدھار گئے۔ جلد ہی کچھ اور بڑے نام بھی عارضہ قلب میں مبتلا ہونے والے ہیں۔ نیب کے ملزموں کی کثیر تعداد دِل کی مریض بن جاتی ہے۔ چنانچہ اِس امر کو پیش  نظر رکھتے ہوئے میں قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جناب جسٹس (ر) جاوید اقبال سے یہ گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ وہ اپنے بیماروں کے لئے ایک عدد کارڈیا لوجی ہسپتال بھی تعمیر کروا لیں کیوں کہ جیسے ہی وہ کسی بڑے ملزم پر ہاتھ ڈالتے ہیں تو ملزم کا ہاتھ اپنے دِل پر چلا جاتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے نیب نے ملزموں پر ہاتھ نہیں ڈالا بلکہ اُس کے دِل پر ہاتھ ڈال دیا ہے۔ یہ بات درست بھی ہو سکتی ہے۔ کیوں کہ دولت سے دِلی محبت کے تقاضے یہی ہیں کہ جب کسی کی دولت پر ہاتھ ڈالا جائے تو اُس کے دِل کی دھڑکنوں کا بے ترتیب ہو جانا لازمی امر قرارپاتا ہے۔ چنانچہ یہ لوگ دردِ دِل کے علاج کے لئے بیرون ممالک کا رُخ اختیار کرتے ہیں اور اپنے دِل کے علاج کا بہانہ بنا کر نیب سے ریلیف حاصل کرنا چاہتے ہیں تو کیوں نہ ایسے مریضوں کو امراضِ قلب کی سہولیات نیب خود ہی فراہم کر دے تا کہ ایسے مریضوں کا یہ بہانہ ختم ہو جائے اور اُن کو اپنے جعلی میڈیکل سرٹیفکیٹس بنوانے کی بھی تگ و دو نہ کرنی پڑے۔




 

تازہ ترین خبریں