08:32 am
آدھا حل

آدھا حل

08:32 am

ملک کی اقتصادی صورتحال جس ابتری کا شکار ہے اس سے انکار ممکن نہیں ہے۔ اب معاملہ اس نہج تک کیسے پہنچ گیا ہے اس پر بحث کی جاسکتی ہے۔ اگر اس معاشی تباہی میں سابقہ حکومتوں کا ہاتھ ہے تو یہ بات بھی ہے کہ موجودہ حکومت بھی مشکلات کو حل کرنے میں بالکل ناکام رہی ہے بلکہ اکثر ماہرین تو یہ بھی کہتے ہیں کہ اس حکومت نے معاملات کو مزید بگاڑ دیا ہے۔ مجھ ناچیز کی رائے میں ہمیں اپنا وقت  ذمہ داران کو تلاش کرنے کی بجائے اس سوچ پر صرف کرنا چاہیے کہ اب ان معاملات کو بہتری کی طرف کیسے لے جایا جاسکتا ہے۔ الزام تراشی کی بجائے حل تلاش کرنے پر زور دینا چاہیے۔
 

مسائل کے حل تلاش کرنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ پہلے ان کی نوعیت کا تعین کیاجائے۔ یہ جو روپیہ کی قدر میں اس تیزی سے کمی آرہی ہے اس کی اصل وجہ ہمارا تجارتی خسارہ ہے۔ ہم ہر ماہ اپنی برآمدات سے ڈیڑھ دو ارب ڈالر زیادہ کی درآمدات کرتے ہیں۔ ہر سال ہمارا تجارتی خسارہ بیس ارب ڈالر کے قریب ہوتا ہے اس میں تقریباً دس ارب ڈالر کی کمی غیر ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات اور کچھ سرمایہ کاری کی وجہ سے آجاتی ہے مگر پھر بھی ہر سال ہمارے فارن ایکسچینج ذخائر تقریباً دس ارب ڈالر سے گھٹ جاتے ہیں اس کمی کی کو غیر ملکی قرضوں سے پورا کیا جاتا ہے۔ چنانچہ گزشتہ کئی سالوں سے غیر ملکی قرضوں میں تقریباً دس ارب ڈالر فی سال کے حساب سے اضافہ ہو رہا ہے۔ بظاہر تو اس مسئلے کا سادہ سا حل یہ ہے کہ برآمدات بڑھائی جائیں اور درآمدات کم کی جائیں مگر کاش بات اتنی ہی سادہ ہوتی۔
ہماری حکومت نے اس مسئلے کا حل یہ نکالا ہے کہ روپے کی قدر میں کمی کی جائے تاکہ ہماری درآمدات مہنگی ہو جائیں اور مقامی تاجران انہیں منگوانا بند کر دیں دوسری طرف یہ امید بھی کی جاتی ہے کہ روپے کی قدر میں کمی سے برآمدات کرنے والوں کی آمدنی بڑھ جائے گی۔ بظاہر پرکشش محسوس ہونے والے اس نسخے میں متعدد خامیاں ہیں۔ جس طرح پیراسیٹامول ہر درد میں کارگر نہیں ہوتی اسی طرح ڈی ویلیویشن ہر فارن ایکسچینج مسئلے کا صحیح یا مکمل حل نہیں ہے۔
جب سے موجودہ حکومت نے روپے کی قیمت میں کمی شروع کی ہے پاکستان کی ایکسپورٹس میں صرف ایک فیصد اضافہ ہوا ہے یعنی35 فیصد ڈی ویلیویشن کے نتیجے میں صرف ایک فیصد اپکسپورٹس بڑھیں۔ دوسری طرف ہماری امپورٹس میں بھی کوئی خاطر خواہ کمی نہیں آئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی تقریباً70 فیصد امپورٹس ’’ضروری اشیاء اور صنعتی خام مال‘‘ پر مبنی ہیں جن میںکمی تقریباً ناممکن ہے۔ باقی پچیس تیس فیصد امپورٹس تو یہ سامان تعیش پر مشتمل ہیں ان کے استعمال کرنے والے خوش حال لوگ ان کی زیادہ قیمت دے سکتے ہیں لہٰذا بحیثیت  مجموعی ڈی ویلیویشن سے ہمارے تجارتی خسارے میں کوئی قابل ذکر کمی نہیں آسکتی۔
اب ذرا یہ دیکھیں کہ ڈی ویلیویشن جیسی غیر موثر دوا کے سائیڈ افیٹکس کیا ہیں؟ ضروری خام مال کی قیمت میں اضافے سے ہر ضروری چیز کی قیمت میں بے تحاشا اضافہ۔ افراط زر میں اضافہ۔ غیر ملکی قرضوں کے حجم میں اضافہ۔ حکومت کے اخراجات میں اضافہ جسے وہ مقامی بینکوں سے روپے قرض لے کر پورا کر رہی ہے۔ اب اس کے نتیجے میں ایک طرف تو ملک میں شرح سود میں اضافہ ہو رہا ہے اور دوسری طرف مقامی صنعت کاروں اور تاجروں کو مل سکنے والے قرض میں تیزی سے کمی ہو رہی ہے۔ یہ بات کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے۔ سامنے کی بات ہے۔ اب حکومت کو کیوں نظر نہیں آرہی۔ میرے پاس اس کا جواب نہیں ہے۔
آپ گزشتہ حکومت پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ انہوں نے مصنوعی طور پر روپے کی قدر کو اوپر رکھا ہوا تھا۔ یہ د رست سہی مگر یہ بھی تو دیکھیں کہ اس مصنوعی حل نے کس طرح ملکی معیشت کے توازن کو بگڑنے نہیں دیا تھا۔ موجودہ حکومت کو بھی چاہیے کہ ایک دو ارب ڈالر خرچ کرکے پاکستانی روپے کی قدر میں استحکام پیدا کرے۔ جب یہ استحکام آجائے تو دور رس اقدامات اٹھائے جائیں۔ غیر ضروری امپورٹس کو کم کرنے کا صحیح طریقہ ڈی ویلیویشن نہیں امپورٹس ڈیوٹی میں اضافہ ہے۔ اب امپورٹرز لمبی لمبی رشوتیںلے کر حکومت کے پاس ضرور آئیں گے جس طرح کار اسمبلرز نے نان فائلرز کیلئے کار خریدنے کی اجازت بحال کروالی مگر میں امید کرتا ہوں کہ پی ٹی آئی کی حکومت ایسی تمام رشوتوں کو رد کر دے گی۔
ایکسپورٹس بڑھانے کیلئے برآمد کنندگان کو طویل عمری سہولیات دینی ہوں گی۔ ان کے لئے سستی بجلی‘ انکم ٹیکس کی چھوٹ اور د یگر آسانیاں مہیاکرنی ہوں گی۔ جب تک یہ اقدامات اثر دکھانا شروع نہیں کرتے ہمیں ڈی ویلیویشن کے خطرناک گڑھے میں نہیں گرنا چاہیے۔ ڈی ویلیویشن مکمل حل نہیں ہے صرف آدھا حل ہے جس سے اجتناب ضروری ہے۔

 

تازہ ترین خبریں