08:35 am
 ہندوستان کے بارہ کروڑ ووٹرز کا ’’قتل عام‘‘ ؟

 ہندوستان کے بارہ کروڑ ووٹرز کا ’’قتل عام‘‘ ؟

08:35 am

اب جبکہ ہندوستان کے عام انتخابات میں گنے چنے دن رہ گئے ہیں۔ یہ انکشاف ہوا ہے کہ رائے دہندوں کی فہرستوں سے بارہ کروڑ ووٹروںکے نام غائب ہو گئے ہیں۔ ان میں تین کروڑ مسلمان ووٹر ہیں اور چار کروڑ دلت ووٹر ہیں۔ بلا شبہ اتنی بڑی تعداد میں رائے دہندوں کی فہرستوں سے ووٹروں کے نام ایک منظم سازش کے تحت غائب ہوئے ہیں جسے قتل عام قرار دیا جارہا ہے‘ کیونکہ رائے دہندوں کو ان کے حق رائے دہی سے محروم کرنا دراصل ان کی جمہور ی زندگی سے محروم کرنا ہے جوکہ ایک قتل سے کم نہیں ہے۔ 
 
غائب شدہ ووٹروںبارے مہم چلانے والوں کا کہنا ہے کہ رائے دھندوں کی سرکاری فہرستوں سے یہ پتہ چلا کہ گیارہ فی صد گھرانے صرف ایک ووٹر والے ہیں ۔ ان اعدادو شمار کا جب مردم شماری کے اعدادو شمار سے موازنہ کیا گیا تو پتہ چلا کہ مردم شماری میں واحد ووٹر والے گھرانوں کی تعداد صرف ساڑھے چار فی صد ہے ۔ اعدادوشمار کے اس تضاد کے بعد مہم نے جب واحد ووٹرووں والے گھرانوں کی جانچ پڑتال کی تو ان کی تعداد اٹھارہ فی صد نکلی جو حیرت انگیز ہے ۔ مہم کے  سافٹ ویئر ماہر خالد سیف اللہ کا کہنا ہے کہ مہم نے جب  پارلیمنٹ کے ایوان زیریں لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کے ایک سو سے زیادہ حلقوں کا جائزہ لیا تو انکشاف ہوا کہ تین کروڑ مسلمانوں اور چار کروڑ دلتوں کے نام رائے دہندوں کی فہرستوں سے غائب ہیں اور وہ اگلے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم ہو جائیں گے۔ ان میں وہ ووٹر بھی شامل ہیں جنہوں نے 2014ء کے عام انتخابات میں ووٹ ڈالے تھے لیکن نئی فہرستوں میں ان کے نام غائب ہیں۔ 
1980ء  سے لے کر 2014ء کے درمیان ، ہندوستان کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں لوک سبھا میں مسلمانوں کی نمائندگی  حیرت انگیز طور پر نصف رہ گئی ہے جبکہ اس دوران مسلم آبادی گیارہ فی صدی سے بڑھ کر چودہ فی صدی تک پہنچ  گئی ۔لوک سبھا میں مسلم اراکین کی تعداد  نو سے صرف تین رہ گئی۔یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ مسلم آبادی میں اضافہ کے باوجود پارلیمنٹ میں اس کی نمائندگی اتنی کم ہوگئی۔ اس بارے میں دوش تمام سیاسی جماعتوں کو جاتا ہے ۔ کانگریس نے اس الزام سے بچنے کے لئے جو بھارتیا جنتا پارٹی ہمیشہ اس پر لگاتی ہے کہ وہ مسلمانوں کی حامی  جماعت ہے ، بہت کم مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیئے ہیں۔ 2009 ء میں بھارتیا جنتا پارٹی نے لوک سبھا کے انتخابات  میں 1428میدواروں میں صرف سات امیدوار کھڑے کئے تھے جن میں سے کوئی بھی کامیاب نہیں ہوا۔ 
اتر پردیش میں جہاں مسلمانوں کی بڑی تعداد آباد ہے۔ 2014ء کے عام انتخابات میں اترپردیش سے لوک سبھا میں 80  اراکین میں صرف ایک مسلمان منتخب ہوا تھا۔ یہ سخت اچھنبے کی بات تھی اور اس سے زیادہ  حیرت کی بات یہ کہ گزشتہ پانچ برس کے دوران کسی نے اتر پردیش سے مسلمانوں کی نمائندگی یوںمٹ جانے کے اسباب پر غور نہیں کیا ، نہ مسلم رہنمائوں نے اور نہ ملک کے سنجیدہ عناصر نے بحث کی۔ نتیجہ یہ رہا کہ اتر پردیش اسمبلی کے2017 ء کے انتخابات میں مسلمانوں کی نمائندگی یکسر ختم ہوگئی اور مسلمانوں کی آوزاز اٹھانے والا کوئی نہ رہا۔ 
خود نریندر مودی کی ریاست گجرات میں جہاں مسلمانوں کی آبادی  ساڑھے نو فی صد ہے۔پچھلے چالیس سال سے کوئی مسلمان لوک سبھا کا رکن منتخب نہیں ہو سکا ہے۔ آخری بار گجرات سے دو مسلمان اراکین 1977 ء میںلوک سبھا کے لئے منتخب ہوئے تھے ایک احمد پٹیل تھے اور دوسرے احسان جعفری تھے جنہیں 2002 ء  کے گلبرگ گجرات میں خونریز مسلم کُش فسادات میں بہیمانہ طور پرقتل کر دیا گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے جب بلوائیوں نے ان کے گھر پر حملہ کیا تو انہوں نے گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کو مدد کے لئے ٹیلیفون کیا تھا لیکن مودی نے ٹیلیفون سننے سے انکار کر دیا۔ بلوائیوں نے احسان جعفری کو ان کی اہلیہ زکیہ جعفری اور ان سینکڑوں مسلمانوں کے سامنے جنہوں نے احسان جعفری کے مکان میں پناہ لی تھی ، قتل کر کے ان کی لاش کے ٹکرے ٹکرے کردیئے  اور نذر آتش کر دیا ۔ احسان جعفری کانگریس کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے ۔ احمد پٹیل بھی کانگریس کے امیدوار تھے۔ 
پاکستان کے خلاف نام نہاد سرجیکل اسٹرائیک ، پلواما کے خود کش حملہ اور پاکستان میں بالا کوٹ پر ہندوستان کے فضائی حملہ کے دعوے کے بعد خوف کی ایسی فضا پیدا ہوگئی کہ جو بھی مودی کی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھاتا ہے اسے پاکستان کا  ایجنٹ قرار دے کر اور ملک دشمنی کا الزام لگا کر اس کی آواز دبا دی جاتی ہے۔ دوسری جانب اس حکمت عملی کا مقصد ہندوئوں کو ڈرانا ہے کہ مسلمان ، ملک کو ٹکرے ٹکرے کرنے  والی قوم ہے جسے انتخابات میں شکست دینی لازمی ہے۔ آج ہندوستان میں ہندوتا کی جو زہریلی فضا ہے اس میں یہ توقع کرنا کہ مسلمان اگلے عام انتخابات میں پارلیمنٹ میںخاطر خواہ نمائندگی حاصل کر پائیں گے،شاخ زعفران گننے کے مترادف ہوگا، خاص طور پر جب کہ رائے دہندوں کی فہرست سے تین کروڑ  سے زیادہ مسلمانوں کے نام غائب کر دیئے گئے ہیں ۔