08:36 am
آرمی چیف اور علماء کے درمیان یادگار ‘تاریخ ساز ملاقات

آرمی چیف اور علماء کے درمیان یادگار ‘تاریخ ساز ملاقات

08:36 am

یکم اپریل پیر کی شام آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ‘ پانچوں وفاقوں کے اتحاد تنظیمات اور مختلف مکاتب فکر کے نمائندہ علماء کرام کے درمیان ہونے والی تفصیلی ملاقات کو وفاق المدارس کے ناظم اعلیٰ مولانا حنیف جالندھری نے اپنے کالم میں تو ’’یادگار اور تاریخ ساز ملاقات‘‘ قرار دیا ہے‘ اللہ کرے کہ یہ ملاقات اپنے اثرات کے حوالے سے بھی اب دینی مدارس اور مذہبی قوتوں کے لئے مفید ثابت ہو۔
 
نائن الیون کے ہلاکت آفرین واقعات سے پہلے لنڈے کے سیکولر اور لبرلز میں ’’ملا‘ ملٹری‘ الائنس‘‘ کا طعنہ بڑا مقبول تھا‘ مگر پھر رسوا کن ڈکٹیٹر کے تاریک دور میں باطل پرستوں نے ’’ملا‘ ملٹری‘‘ دوریاں پیدا کرنے کی بے پناہ کوششیں کیں‘ ملا‘ ملٹری الائنس کے طعنے دینے والے ان کوششوں میں پیش پیش رہنے کے ساتھ ساتھ بغلیں بھی بجایا کرتے تھے‘ نائن الیون کے بعد ملا ملٹری الائنس کی خود ساختہ اصطلاح تو دب گئی یا دبا دی گئی مگر پیر کے دن جی ایچ کیو میں ہونے والی ملا ‘ ملٹری ملاقات  میں اتفاق اس لحاظ سے مستحسن ہے کہ دونوں طرف کے اکابرین کے مل بیٹھنے سے ہی مسائل کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔
یار لوگوں کے خیال میں دینی مدارس کے   علماء سے ہونے والی ان ملاقاتوں کا مقصد مولانا فضل الرحمن کے اسلام آباد میں ہونے والے متوقع ملین مارچ کے غبارے سے ہوا نکالنا ہے‘ ’’یار‘‘ لوگ حق رکھتے ہیں کہ وہ اس طرح کے خیالات رکھیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ جی ایچ کیو میں ڈی جی  آئی ایس آئی‘ مختلف کور کمانڈرز کی موجودگی میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ  اور  علماء کرام کے بھاری بھر کم وفد کے درمیان  ہونے والی تقریباً چار گھنٹوں پر محیط ملاقات میں کئے جانے والے وعدے اگر عملی طور پر پورے ہونے شروع ہوگئے اور دینی مدارس کو درپیش مشکلات میں آسانیاں پیدا ہونا شروع ہوگئیں تو یہ اس قوم کے لئے بہت بڑی خوشخبری ہوگی‘ ہر چیز کو متعصبانہ سیاست کی آنکھ سے دیکھنا بھی ٹھیک نہیں ہے‘ ملاقات میں شریک ایک نامور شخصیت نے اس خاکسار کو بتایا کہ اس طویل ملاقات کے بعد علماء کرام کو اندازہ ہوا کہ ہمارے سپہ سالا کو صرف عسکریت پر ہی نہیں عبور نہیں بلکہ دینی حوالوں سے بھی ان کا مطالبہ بہت وسیع ہے‘ ان کاکہنا تھاکہ آرمی چیف  جنرل قمر جاوید باجوہ سیٹوں پر تشریف فرما کر ہر ایک عالم دین کے پاس خود چل کر پہنچے اور بڑے پرتپاک  انداز سے ان سے فرداً فرداً مصافحہ کیا‘ یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ جس وقت جنرل قمر جاوید باجوہ آرمی چیف کے عہدے پر متمکن  کیے گئے تو ایک حلقے کی طرف سے سوشل میڈیا پر ان کے عقیدے کے حوالے سے انتہائی نامناسب اور رکیک قسم کی مہم چلانے کی کوشش کی گئی تھی‘ جو انجانے میں اس ناپاک مہم کا حصہ بنے تھے‘ بعد میں انہوں نے تو اپنی اصلاح کرلی تھی مگر جنہوں نے جان بوجھ کر ایک ایجنڈے کے تحت ایسا کیا تھا کاش کہ انہیں اب ہی شرم آجائے اور وہ اپنی اس فاش غلطی کا اعتراف کرکے اعلانیہ معافی مانگ لیں۔
شریک ملاقات نامور شخصیت کے مطابق علماء کرام نے بھی آرمی چیف کے سامنے اپنا موقف بڑے مضبوط اور کھلے انداز میں پیش کیا  اور سپہ سالار اعلیٰ نے بھی دینی مدارس اور علماء کرام سے وابستہ توقعات کے حوالے سے دل کھول کر مدلل گفتگو کی۔سوشل میڈیا‘ انگلش میڈیا کے ذریعے اور ٹی وی ٹاک شوز میں بیٹھ کر دینی مدارس کو ’’بوجھ‘‘ قرار دینے والے نان سٹیٹ ایکٹرز کو خبر ہو کہ چیف آف آرمی سٹاف نہ صرف دینی مدارس کے مثبت کردار و  خدمات کے معترف ہیں بلکہ وہ مدارس کے نظام میں مزید بہتری کے خواہاں بھی ہیں‘ رہ گئی بات مدارس کے وجود کو ختم یا کمزور کرنے کی  تو آرمی چیف یا پاک فوج کے تصور میں بھی یہ بات موجود نہیں ہے۔
 مجھے بتانے والے نے بتایا کہ آرمی چیف نے یہ تاریخی جملہ بھی کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ دینی مدارس سے تعلیم حاصل کرنے والے آرمی چیف کے عہدے تک بھی پہنچیں۔دینی مدارس کے نظام اور نصاب کو تشدد‘ انتہا پسندی اور فرقہ وارانہ کشیدگی کا باعث بننے والے عوامل سے بھی پاک کرنا ہوگا‘ دینی مدارس کے مالیاتی سسٹم میں بھی بہتری کی گنجائش موجود ہے‘ یقینادینی مدارس کے قائدین نے بھی آرمی چیف کے سامنے اپنا موقف بیان کیا ہوگا لیکن آج کے کالم میں چند گزارشات یہ خاکسار اپنی طرف سے بھی پیش کرنا چاہتا ہے۔
یقینا ابھی تک آرمی چیف کا عہدہ کسی دینی مدرسے سے فارغ التحصیل کے حصے میں نہیں آیا‘ مگر ابھی گزشتہ مہینوں سپہ سالار اعلیٰ کے صاحبزادے کی شادی خانہ آبادی کے موقع پر صاحبزادے کا  نکاح  پڑھانے کا فریضہ ایک دینی مدرسے سے تعلیمی فراغت حاصل کرنے والے عالم دین  نے ہی انجام دیا تھا۔
صرف یہی نہیں بلکہ محاذ جنگ پر جانیں قربان کرنے والے ہوں یا دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے فوج کے بہادر سپاہی ان کے جنازے پڑھانے سے لے کر پاکستان میں فورسز یا عوام پر خودکش حملوں کے حرام ہونے کے فتوئوں تک ‘ علماء کرام اور د ینی مدارس آج بھی صف اول میں کھڑے ہیں۔
الیکشن میں ہونے والی دھاندلی کے حوالے سے مولانا فضل الرحمن کا سخت  موقف کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے‘ لیکن جب بھارت نے پاکستان پر حملہ آور ہونے کی ناکام کوشش کی تو اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے انتہائی سخت موقف رکھنے والے مولانا فضل الرحمن وہ واحد سیاسی لیڈر تھے کہ جنہوں نے ملک بھر میں ’’یوم یکجہتی پاک افواج‘‘ منانے کا اعلان کر دیا‘ جن کالعدم جہادی تنظیموں کے حوالے سے دہلی سے لے کر واشنگٹن تک شور ہے اور پاکستان میں موجود دہلی اور واشنگٹن کے راتب خور بھی دہلی کے عائد کردہ الزامات کو ہی ان کے خلاف آگے بڑھاتے  ہیں‘ ان جہادیوں نے اس مٹی سے وفا کا عہدہ نبھاتے ہوئے اپنے ہزاروں جگر گوشے قربان کر ڈالے‘ دہلی کے راتب خور ’’کالعدم‘‘ کہہ کر ان کی قربانیوں کو جتنا مرضی جھٹلائیں‘ لیکن وہ تاریخ کے ماتھے کا جھومر رہیں گے۔  (ان شاء اللہ)

 

تازہ ترین خبریں